میری سوچ اور ہم خیال

93 views September 28, 2007 | راہبر
No Gravatar

اگرچہ میری عمر صرف 20 سال ہی ہے لیکن میں نے اپنے بچپن سے زندگی کا سامنا کچھ اس طرح کیا ہے کہ لوگوں نے ہمیشہ مجھے اپنی عمر سے زائد سمجھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے صورت و جسم بھی ایسا دیا کہ اپنی عمر سے بڑا ہی لگتا ہوں۔ سات، آٹھ سال کا تھا تو میرے ساتھ کے طالبعلم مجھے 12 سال سے کم کا ماننے سے انکار کرتے تھے، اب 20 سال کا ہوں تو دیکھنے والے میری عمر 22، 23 سال بتاتے ہیں۔۔۔ :sad:
کتب و اخبارات کے مسلسل مطالعہ نے میرے دماغ کی عمر بھی کچھ بڑھا دی۔ میں اپنے خیالات کا اظہار جب اپنے خاندان یا دوستوں میں کرتا ہوں تو مجھے کبھی دقیانوسی یا کبھی بے وقوف سمجھ کر زیادہ توجہ نہیں کرائی جاتی۔ خود میرا اپنا چھوٹا بھائی اکثر میرا مذاق اڑاتا ہے لیکن سوچوں پر کس کا پہرہ ہے؟ میں نے بہت کچھ سوچا ہے لیکن اکثر اپنے خیالات کا اظہار اس لیے نہیں کیا کہ کوئی ان کو سمجھنے والا نہیں ملا تھا۔
لیکن اب لگتا ہے کہ مجھے اپنی جیسی سوچ رکھنے والے مل گئے ہیں اگرچہ ان کے بیچ میری حیثیت کچھ خاص نہیں اور میں ان میں سب سے کم عمر ہوں لیکن پھر بھی۔۔۔ ہم مزاج یا ہم خیال لوگ مل جائیں تو بہت خوشی ہوتی ہے۔
تفصیل جاننا چاہیں تو اردو محفل پر جناب محسن حجازی صاحب کی جانب سے شروع کی جانے والی گفتگو بعنوان میری فکری تنہائی کا سدباب کیجیےملاحظہ کرلیں۔ نوازش :razz:

شہریوں کا مہذبانہ انداز

114 views September 23, 2007 | راہبر
No Gravatar

ماضی کے مصنفین کا لکھا ہوا پڑھیں تو اکثر ان کی تحاریر سے یہ اثر ملتا ہے کہ شہری زندگی بہت مہذب ہوتی ہے، دیہاتی لوگ وہاں جاکر کھو جاتے ہیں اور جب واپس دیہات لوٹتے ہیں تو ان کے مہذب طور طریقے دیکھ کر دیہات والے انہیں شہری بابو کہتے ہیں۔۔۔۔ اگر اس بات کا موجودہ صورتحال سے موازنہ کیا جائے تو جواب ماضی کے برعکس ہی ملے گا۔ پتا نہیں شہریوں کا وہ مہذبانہ انداز کیا ہوا؟

دو دلچسپ واقعات

104 views September 22, 2007 | راہبر
No Gravatar

آج کے لیے دو دلچسپ واقعات۔
پہلا واقعہ۔ پرسوں، بعد از افطار ابو بتانے لگے کہ وہ دکان میں بیٹھے کتابت کررہے تھے (واضح رہے کہ میرے ابو خطاط/ کاتب ہیں، یہی ان کا پیشہ ہے)۔ کتابت کرتے کرتے انہیں اونگھ آگئی۔ اتنے میں وہ شخص آیا جس کا کام ابو کررہے تھے۔ اسے اندازہ نہیں ہوا کہ ابو نیند میں ہیں، اس نے آکر زور سے کہا، السلام علیکم ورحمۃ اللہ
ابو نے نیند میں یہ آواز سنی تو انہیں ایسا گمان گزرا جیسے کہ مسجد میں باجماعت نماز کی حالت میں ہیں اور تشہد میں انہیں اونگھ آگئی ہے، اس لیے ابو نے فورا دائیں طرف منہ پھیرا۔۔۔۔۔۔۔ اور پڑھا، السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ :razz: اب جو آنکھیں کھول کر دیکھا تو پتا چلا کہ وہ تو دکان میں بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔
ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا تھا اس قصہ کو سن کر ہمارا! :mrgreen:

دوسرا واقعہ۔ کل دورانِ نمازِ تراویح، چودہویں رکعت میں امام صاحب بھولے سے تشہد میں بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہوگئے۔۔۔ لوگوں کی اکثریت محسوس نہ کرسکی اور جنہیں تھوڑا اندازہ ہوا، انہوں نے بھی صرف کھنکھارنے پر اکتفا کیا۔ اب امام صاحب قیام کرکے کچھ نہ بولے تو میں سوچنے لگا کہ ان کو کیا ہوگیا ہے؟ سورہ فاتحہ تو پڑھیں، کس سوچ میں گم ہیں؟ اب اچانک انہوں نے اللہ اکبر کہا اور تشہد میں جا بیٹھے۔ میں سمجھا کہ شاید اس رکعت میں غلطی سے کچھ پڑھ نہیں پائے اور رکوع میں گئے ہیں سو میں رکوع میں چلا گیا۔ :wink: امام صاحب کے پیچھے چوتھی، پانچویں صف ہی میں تھا میں۔ اب میری نظر اٹھی تو دیکھتا ہوں کہ امام صاحب تشہد میں بیٹھے ہیں، لہذا میں بھی رکوع سے تشہد میں جا بیٹھا لیکن لوگوں کی اکثریت یہ سمجھی کہ شاید سجدہ کا مقام آیا تھا یا کوئی اور وجہ، لہذا دوسری تیسری صف کے تقریبا سبھی نمازی سجدہ میں چلے گئے۔ اب جنہوں نے دورانِ قیام یا سجدہ میں جانے سے پہلے امام صاحب کو تشہد میں دیکھ لیا تھا، وہ تو حالتِ تشہد میں چلے گئے لیکن اب جو سجدہ میں گئے، انہیں کون بتاتا کہ سجدہ سے اٹھیں۔۔۔ :smile: اس لیے جب تک امام صاحب نے سجدہ سہو کے لیے سلام نہ پھیرا، تب تک لوگ حالتِ سجدہ میں رہے۔ اب جو امام صاحب نے سلام پھیرا تو سجدہ میں گرے لوگ جلدی سے اٹھے، تشہد میں بیٹھے اور ایک سلام پھیر کر امام صاحب کے ساتھ سجدہ سہو کیا۔
میں اس واقعہ کو جب بھی ذہن میں لاتا ہوں، ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔ :wink:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے موضوع نکلا ہے تو ایک بات مزید لکھ دوں کہ میں نے سنا اور پڑھا ہے کہ نمازیوں کی حالت وضو و طہارت کا اثر امام پر پڑتا ہے۔ اگر کچھ نمازی باوضو یا طہارت سے نہ ہوں تو امام سے اکثر اس طرح کے سہو ہوجاتے ہیں۔ (اس بات کا مستند حوالہ کوئی صاحب فراہم کرسکیں تو نوازش ہوگی)۔

جغرافیہ کا عملی امتحان اور اچھوتا تجربہ

159 views September 20, 2007 | راہبر
No Gravatar

گزری یکم ستمبر کو کالج میں میرا جغرافیہ کا عملی امتحان تھا۔ طلباء کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا تھا، ایک وہ جس کا امتحان صبح کی شفٹ میں ہونا تھا اور دوسرا وہ جس کا دوپہر کی شفٹ میں لیکن حیرت انگیز امر یہ تھا کہ دونوں شفٹ کے طلباء کو صبح ہی بلایا گیا تھا۔ شاید اس کا سبب کالج والوں اور عملی امتحان کے لیے آنے والے بیرونی ممتحن (ایکسٹرنل) کی کاہلی تھی کہ اگر دو شفٹ میں لیا جاتا تو ان کو زیادہ وقت دینا پڑتا۔
بہرحال! طے ہوا کہ ایک بڑی میز کے گرد صبح کی شفٹ والے بچے بیٹھ گئے اور دوسری میز کے گرد دوسری شفٹ والے بچے۔ پہلی شفٹ والوں کا پرچہ ایک تھا اور دوسری شفٹ والوں کا ایک۔ ہمارے کالج میں پورے سال جغرافیہ کا ایک بھی پریکٹیکل نہیں کروایا گیا تھا لہذا ہم میں سے کوئی بچہ جانتا ہی نہیں تھا کہ اس امتحان میں کرنا کیا ہوگا؟
بہرحال! بیرونی ممتحن دوسرے کمرے میں بیٹھا تھا۔ یہاں ہمارے کالج کے استاد آئے اور انہوں نے پہلے صبح کی شفٹ والے بچوں کو پرچہ کے ابتدائی کچھ سوال حل کرکے بتائے اور کہا کہ سب مل کر یہ لکھیں۔ پھر وہ ہماری شفٹ کی طرف آئے۔ مجھ سے اتنا انتظار نہیں ہورہا تھا کہ آدھا وقت وہ صبح کی شفٹ والوں کو دیں اور آدھ وقت ہمیں اور پھر اکثر وہ کمرہ سے باہر کسی کام کے لیے چلے جاتے تھے۔۔۔ کبھی بیرونی ممتحن انہیں بلالیتا تھا۔ سو، میں نے انگریزی پرچہ کے سوالات استاد صاحب سے اردو میں سمجھے اور پھر اپنا پریکٹیکل جرنل کھول کر اس میں سے ان کے مناسب جوابات تلاش کئے اور حل کرنے لگا۔۔۔ غصہ اس بات پر آیا کہ میری شفٹ میں باقی سارے مجھ سے بھی زیادہ نالائق تھے جنہیں لکھنا بھی ڈھنگ سے نہیں آتا تھا۔۔۔ میں ان کو اپنی کاپی دیکھاتا تو وہ میری طرح لکھ دیتے جو کہ مجھے کبھی گوارا نہیں۔۔۔ میں نقل تو کبھی کرا بھی دیتا ہوں لیکن بالکل ویسا نہیں لکھواتا جیسا میں نے لکھا ہوتا ہے۔۔۔ بہرحال! ہم نے اپنی امتحانی کاپی بھرنا شروع کی۔۔۔ ساتھ ساتھ سب کو املا کرواتا رہا۔۔۔ (اس طرح سب سے قابل طالبعلم تو میں ہی ٹھہرا نا۔۔۔)
اسی دوران باری باری بچوں کو وائیوا کے لیے بلایا جانے لگا۔۔۔ اب جو بچے وائیوا دے کر آئے، ان سے ایک اچھوتی، انوکھی، حیرت انگیز اور افسوس ناک بات سننے کو ملی۔ پتا یہ چلا کہ وہ بیرونی ممتحن صاحب ہمارے جغرافیہ کے نظری امتحان کی کاپیاں بورڈ سے نکلواکر اپنے ساتھ لائے ہوئے ہیں اور جو بچہ وائیوا کے لئے جاتا ہے، اس کو اس کی کاپی دیکھا کر پوچھتے ہیں کہ تم نے یہ امتحان میں کیا کیا ہے؟؟؟ (واضح رہے کہ جغرافیہ کا نظری امتحان اکثر طلباء کا بہت خراب ہوا تھا)۔ اب ان بیرونی ممتحن صاحب نے بہت اعلیٰ پائے کی بات ارشاد فرمائی ہر بچے سے کہ ہزار روپے دو، نظری امتحان میں پاس کروادوں گا۔۔۔ سر دھنیے آپ لوگ اسی بات پر!
بھئی! بیرونی ممتحن کا کام ہے عملی امتحان لینا، بچوں نے نظری امتحان میں جو کچھ بھی کیا ہو، اسے کیا غرض ہے؟ رشوت اور کرپشن کی جڑیں تو دیکھیں کہ کہاں تک پہنچی ہوئی ہیں۔ اب جو بچے وائیوا دے کر آرہے تھے، بہت پریشان تھے۔۔۔ کچھ بچے متذبذب تھے کہ ہزار روپے دیں یا نہ دیں؟ ایک دو طلباء تو تیار بھی ہوگئے تھے یہ رقم دینے کو۔ کچھ استاد صاحب سے پوچھ رہے تھے کہ کیا وہ بھروسہ کرسکتے ہیں؟ اور ہمارے کالج کے استاد صاحب تو بالکل حامی تھے ان کی اس حرکت کے۔ مجھے بہت غصہ آیا۔۔۔! میں نے کھلے عام کہا کہ اگر وہ مجھ سے پچاس، سو روپے بھی مانگیں گے تو میں ان کے منہ پر انکار کردوں گا۔
ہاں! کچھ لڑکے ایسے بھی تھے جن سے ممتحن نے رقم کی بات نہیں کی یا کسی کو اس کی کاپی نہیں دیکھائی لیکن ایسے لڑکوں کی تعداد بہت کم تھی۔ جب تک صبح والی شفٹ کے لڑکے وائیوا دے کر فارغ ہوئے، ایک بج گیا۔ ممتحن صاحب جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ میرے کالج کے استاد مجھ سے کافی متاثر ہوئے تھے (شاید میرا کام دیکھ کر)۔ وہ پہلے کافی دیر تک مجھ سے میرے بارے میں اور میری ملازمت کے بارے میں پوچھتے رہے تھے، کافی ساری باتیں کی ان سے۔۔۔ میں نے ان سے کہا کہ کم سے کم میرا وائیوا تو آج دلوادیں، کیونکہ مجھے دفتر سے یہاں آنا پڑتا ہے اور روز روز کی چھٹی مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فکر نہ کرو۔ وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر ممتحن کے پاس پہنچے اور میری بہت تعریفیں کیں کہ یہ بہت اچھے شاگرد ہیں ہمارے، انہوں نے اپنی کاپی میں جو کچھ لکھا ہے وہ خود سے لکھا ہے اور ایک دو مزید تعریفیں۔۔۔ (یقین رکھیں میں نے اپنے استاد کو ایک پائی بھی نہیں دی تھی، ان کی یہ تعریف میرے کام سے متاثر ہونے کے سبب تھی شاید)۔ بہرحال! ممتحن نے مجھے اپنے پاس بٹھایا اور ایک دو آسان سوال پوچھے اور فارغ۔
میں دفتر لوٹ آیا۔۔۔ اس تحریر کا مقصد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی کیا صورتحال ہے؟ کچھ لڑکے اس بات پر پریشان تھے کہ یہ رقم بہت زیادہ ہے۔۔۔ لیکن ہمارے استاد صاحب کا کہنا تھا کہ یہ رقم صرف اسی ممتحن کی جیب میں نہیں جائے گی۔ یہ رقم اس کو بھی جائے گی جس نے یہ کاپیاں نکال کر دی ہیں، یہ رقم اس کے پاس بھی جائے گی جو یہ کاپیاں چیک کرے گا۔۔۔ اور پھر ممتحن بھی اپنا حصہ رکھے گا۔۔۔
افسوس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟

میری افطاری

138 views September 17, 2007 | راہبر
No Gravatar

رمضان المبارک کا الگ لطف ہے۔ حالآنکہ اب وہ پہلی جیسی روایات اور جوش و خروش باقی نہیں رہا لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ ہے ضرور۔۔۔! سحر و افطار کے مزے، قرآن پاک کی باقاعدگی سے تلاوت، تراویح کا اہتمام۔۔۔ اور بہت سے نیک کام!
کل میں نے اس رمضان کا پہلا افطار بنایا۔ اگرچہ افطاری کی تیاری ہر سال اپنے گھر میں، میں ہی کرتا ہوں۔ پکوڑے وغیرہ بنانے کا کام کئی سال سے میں رضاکارانہ طور پر انجام دے رہا ہوں (اگرچہ ہونے کو بہنیں بھی ہیں گھر میں۔۔۔۔) اس بار میں نے گھر والوں کو روزانہ افطاری کا اہتمام کرنے سے روک دیا ہے کیونکہ افطاری میں زیادہ تر تیل والی چیزیں ہوتی ہیں جن کی زیادتی نقصان کا سبب بنتی ہے۔۔۔ اور میری تو آج کل ویسے ہی توند نکلتی جارہی ہے۔ :smile: اوپر سے خرچہ بھی اتنا ہوجاتا ہے۔۔۔ سو، میں نے کہا کہ اب کی بار پکوڑے اور دوسرے لوازمات صرف اتوار کے دن تیار ہوں گے کہ وہ چھٹی کا دن ہوتا ہے، آج کل عام دنوں افطار کے وقت ہمارے ہاں کھانا لگ جاتا ہے۔۔۔! (لیکن پھر جب تراویح پڑھ کر آتا ہوں تو دوبارہ بھوک لگنے لگتی ہے :razz: ۔)

رمضان مبارک

114 views September 13, 2007 | راہبر
No Gravatar

میری بیاض کے تمام محترم و معزز قارئین کو رمضان المبارک کی آمد مبارک ہو۔
خدا کا لاکھ شکر کہ اس نے ہمیں ایک بار پھر یہ مبارک ماہ عطا کرکے زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے کا ایک سنہری موقع فراہم کیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں برائیوں سے بچنے کی ہمت عطا فرمائے۔ آمین

ہمارے ہاں رمضان میں لوگ بڑے بدمزاج ہوجاتے ہیں۔ آپ دوپہر کے وقت یہاں کسی بس میں سوار ہوجائیں، لوگوں کا اکھڑ پن اور بد دماغی آپ کے روزے کو جِلا بخشے گی۔ ویسے آپ لوگوں کو زیادہ فکر کی ضرورت نہیں، میرے مزاج پر یہ بد مزاجی اثر انداز نہیں ہوتی اس لیے ان شاء اللہ میری بیاض پر آکر آپ کو تکلیف نہیں ہوگی۔
خوش رہئے۔

انڈہ

170 views September 13, 2007 | راہبر
No Gravatar

دو ساتھی بلاگرز کی طرف سے آج کل اپنے بلاگ کو زبیدہ طارق یا ڈالڈا کے دسترخوان کے مقابلہ پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے :smile: (جس کا ثبوت نہاری ، خشک خوبانی کی چٹنی ، گول گپے وغیرہ وغیرہ ہیں)۔ ان کے اس گرانقدر کارنامے کو دیکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ میں اس میدان میں کیونکر پیچھے رہوں؟ ساتھی بلاگرز نے تو صرف مختلف کھانوں کی تراکیب پیش کرنے پر اکتفا کیا ہے تاہم میں اس سے بھی زیادہ تفصیل فراہم کرکے اپنے نمبر بڑھانے کی کوشش کروں گا۔۔۔ :wink:
انڈہ!
بہت مشہور اور عام۔۔۔ کسی تعارف کا محتاج تو نہیں لیکن ہم اسے ضرور محتاج کردیں گے۔ انڈہ ایک ایسی چیز ہے جو کہ پارٹی بدلتا رہتا ہے۔۔۔ یعنی کہ اس کے ساتھ لگنے والے افعال اس کے معنی ہی بدل ڈالتے ہیں۔۔۔ عام طور سے انڈہ کھایا جاتا ہے لیکن انڈے مارنا یا انڈے پڑنا بھی بہت مشہور بات ہے جو کہ عموماً مقررین یا سیاسی راہنماؤں کے لیے کہی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک انڈہ وہ بھی ہوتا ہے جو کہ امتحانی کاپیوں پر ملتا ہے۔ کچھ لوگوں کو انڈے کھانے کا اس قدر شوق ہوتا ہے کہ وہ اپنی امتحانی کاپی میں کم سے کم لکھتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کاپی کا زیادہ تر حصہ خالی رکھیں تاکہ زیادہ سے زیادہ انڈے حاصل کرسکیں۔ تاہم انڈے پانے کے اس طریقے پر عمل کرنے کی جرات کم ہی لوگوں میں ہوتی ہے۔
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، انڈے اور ٹماٹر پڑنا بھی بہت دلچسپ محاورہ ہے لیکن خدا جانے یہ کتنی صدیوں پہلے کی بات ہے۔ آج کل تو انڈے، ٹماٹر کے نرخ اس قدر بلند ہوگئے ہیں کہ لوگ کھانے کے لیے بڑی مشکل سے حاصل کرپاتے ہیں، بھلا ماریں گے کیسے؟ ممکن ہے کہ انڈے مہنگے کرنے میں بھی سیاستدانوں ہی کا ہاتھ ہو تاکہ انڈے پڑنے سے بچے رہیں۔
اب کچھ مختصر ذکر انڈہ کی خصوصیات کا۔
یہ بہت عجیب و غریب شے ہے۔ ہاتھ سے گر جائے تو ٹوٹ جاتا ہے۔ :razz: فریج میں رکھ دیں تو ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور توے پر ڈال دیں تو گرم۔ کچھ لوگ اسے کھاتے ہیں اور کچھ اسے پیتے ہیں۔۔۔ جبکہ کچھ لوگ صرف اسے حسرت بھری نگاہ سے دیکھ کر گزارا کرتے ہیں۔ اس کے چھلکے اتحاد و اتفاق کا درس دیتے ہیں۔ آپ چھلکا توڑیں تو وہ ٹوٹ کر بھی جڑا رہتا ہے۔ کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دنیا گول نہیں، بلکہ انڈہ کی صورت ہے۔۔۔ اگر آپ ان سائنسدانوں کا حوالہ مانگیں جو یہ بات کہتے ہیں تو میں آپ کو پچاس سے زیادہ نام فراہم کرسکتا ہوں ہاں البتہ ان سائنسدانوں کی فہرست میں شروع سے لے کر آخر تک صرف میرا ہی نام لکھا ہوگا۔
چھلکا توڑیں تو اندر سے مائع (liquid) ہوتا ہے، اسے چولہے پر رکھ دیں تو تپ کر ٹھوس (solid) بن جاتا ہے اور پھر اسے تناول فرمالیں تو سمجھیں کہ آپ ایک نئے ذائقہ سے آگہی حاصل کرنے جارہے ہیں۔ (فرائی انڈہ سے منہ سوکھ جاتا ہے، اگر آپ خود کو تیس مار خان سمجھتے ہیں تو ماہِ رمضان میں سحری میں فرائی انڈہ کھاکر دیکھئے، روزہ کے اعلیٰ مدارج تک پہنچ جائیں گے ان شاء اللہ)۔ :smile:
کچھ لوگ انڈے کے ڈانڈے ڈنڈے سے ملاتے ہیں لیکن انڈے اور ڈنڈے میں مشابہت صرف اتنی ہی ہے کہ دونوں ہم قوافی ہیں ورنہ ان کا اختلاف تو بے حد وسیع ہے۔ ڈنڈا کا صرف ایک استعمال ہے، اور وہ ہے ڈنڈا پڑنا۔۔۔ اس کے مقابلہ میں انڈہ کے استعمال کا دائرہ کار بہت بڑا ہے۔
انڈہ تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔۔۔ چھلکا، سفیدی اور زردی۔ تینوں چیزوں کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں۔ چھلکا اتار کر اگر صرف مائع کو دیکھیں تو سفیدی اور زردی ساتھ نظر آتی ہے لیکن اگر انڈہ بوائل کرلیں تو حیرت انگیز طور پر زردی صرف مرکز تک محدود ہوجاتی ہے اور اس کو سفیدی گھیر لیتی ہے۔
آخر میں کچھ باتیں انڈہ استعمال کرنے طریقوں پر:
پہلے تو آپ یہ فیصلہ کرلیں کہ آپ نے انڈہ کھانا ہے یا پینا ہے؟ کھانا ہے تو ایک آسان سا طریقہ ہے کہ گرم توے پر مناسب مقدار میں گھی ڈالیں یا یوں کہہ لیں کہ توے پر گھی ڈال کر گرم کرلیں (چولہے کی مدد سے) اور پھر چھلکا توڑ کر اس کا مائع مواد اس گھی میں انڈیل دیں۔۔۔ آپ کی آنکھوں کے سامنے وہ مائع چند لمحوں ہی میں ٹھوس بن جائے گا اور آپ دیکھتے رہ جائیں گے۔ آنکھیں کھلی رکھیں اور اسے پہلے کہ انڈہ براؤن ہونا شروع ہو، سمجھ لیں کہ تیار ہوچکا ہے۔ تھوڑا سا نمک اور پسی ہوئی کالی مرچ ڈال کر کھائیں، مزے اڑائیں (توے پر سے اتارنا مت بھول جایئے گا۔۔۔) یہ فرائی انڈہ کہلاتا ہے۔
انڈہ کھانے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کسی دیگچی میں پانی گرم کریں اور اس میں انڈہ چھلکے سمیت ڈال دیں۔۔۔ دس، پندرہ منٹ اسے اچھی طرح تپانے کے بعد اب احتیاط سے اسے گرم پانی سے نجات دیں، ٹھنڈے پانی میں ڈال کر اس کے چھلکے اتار لیں۔۔۔ (ٹھنڈا پانی میسر نہ ہو تو انڈے کے ٹھنڈے ہونے کا انتظار کریں)۔ اب اندر سے جو صورت برآمد ہوگی وہ بلاشبہ کافی ٹھوس ہوگی۔۔۔ اسے ہمارے ہاں بوائل انڈہ کہتے ہیں، آپ کوئی دوسرا نام بھی دے سکتے ہیں، آزادی ہے۔۔۔
کھانے کا تیسرا طریقہ بھی ہے جو کہ بڑا ظالمانہ ہے۔ وہ یہ کہ چھلکا اتار کر انڈہ کی زردی اور سفیدی ایک چھوٹے کٹورے میں ڈال کر چمچ یا چھری سے اچھی طرح پھینٹئے۔ پھینٹتے ہوئے حسبِ ذائقہ نمک کے ساتھ ساتھ لال مرچ یا ہری مرچ یا پیاز یا یہ تینوں چیزیں بھی ملائی جاسکتی ہیں۔ اچھی طرح پھینٹ کر توے پر ڈال دیں۔۔۔ اور ہلکا براؤن ہونے پر اتار لیں۔۔۔ اسے آملیٹ کہتے ہیں۔۔۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ دو حروف کا مجموعہ ہے “آم” اور “لیٹ” یعنی آم کو لیٹنے کا حکم یا پھر جیسے دشمن کو صدا لگاتے ہیں کہ آ! تجھے ملیا میٹ کردوں گا۔۔۔ لیکن ان معنوں کا حقیقت سے کوئی واسطہ دور دور تک نظر نہیں آتا۔
اب آخری بات خصوصی طور پر “نام نہاد” صنفِ مخالف کے لیے :wink:
دنیا انڈہ کی صرف دو چیزیں استعمال کرتی ہے، سفیدی اور زردی۔ میں ایک اچھوتی، انوکھی اور انقلابی چیز بتانے لگا ہوں جو کہ انڈہ کی تیسرے حصہ کے بارے میں ہے۔ آخر اس بیچارے چھلکے نے کیا جرم کیا ہے جو ہر کوئی اسے استعمال کئے بغیر پھینک دیتا ہے۔ اب چھلکے کا استعمال بھی کریں اور وہ اس طرح کہ سفیدی اور زردی نکالتے وقت چھلکے کو بالکل صاف نہ کریں اور پھر اس چھلکے کو کھول کر اپنے چہرے پر لگائیں۔۔۔ خوبصورتی میں اضافہ کے لیے۔۔۔ جہاں ہزار بے کار ترکیبیں استعمال ہوتی ہیں، دہی، بالائی، کھیرا، دھنیا، پودینہ، ہری مرچ اور پتا نہیں کیا کیا چہرے پر ملاجاتا ہے تو اگر اس بے چارے چھلکے کو بھی چہرے پر مل لیں تو کیا جائے گا؟ نتیجہ سے آگاہ کرنا مت بھولئے گا۔
چلیں۔۔۔ آج کا دسترخوان کچھ زیادہ ہی طویل ہوگیا ہے۔۔۔ میں نے آپ کا مزید وقت لیا تو آپ لوگ “ساس بھی کبھی بہو تھی” یا “کہانی گھر گھر کی” اور دوسرے اعلیٰ قسم کے ڈراموں سے کب لطف اندوز ہوں گے؟ اس لیے میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔۔۔ چینل نہ بدلئے گا۔۔۔ آپ کا پسندیدہ ڈرامہ آنے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ (روزہ میں ڈرامہ دیکھنا چھوڑ دیں خدا کے لیے!) :cool:

سیاسی کردار کی ضرورت

113 views September 11, 2007 | راہبر
No Gravatar

ملک میں جس قدر تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور معاشرہ بگاڑ کی طرف بڑھ رہا ہے، میں سنجیدگی سے دو باتیں سوچنے لگا ہوں۔۔۔ ایک انقلاب اور دوسرا ہمارا کردار۔ انقلاب سے زیادہ اہم ہمارا کردار ہے کیونکہ یہ کردار ہی انقلاب لانے کا سبب بنے گا۔
نواز شریف کو پرویزی حکومت نے واپس بھیج دیا انتہائی ڈھٹائی ہٹ دھرمی اور دل میں چھپے بے پناہ خوف کے ساتھ۔۔۔ لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ اس وقت جبکہ ہر سیاسی جماعت کسی نہ کسی سطح پر انتہائی کرپشن اور مختلف جرائم میں ملوث رہی ہے، کیا اس وقت ایک نئی، صاف ستھری سیاسی جماعت قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا اس وقت، نوجوانوں کو سیاسی طور پر اپنی ذمہ داری ادا کرنی نہیں چاہئے؟ کیا ہمیں صرف ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تبصرے کرنے چاہئیں۔۔۔؟
یہ میرا آپ سے سوال ہے۔۔۔
کیونکہ میں یہ سوال اپنے آپ سے پوچھ چکا ہوں اور اس کا جواب بظاہر کافی بے وقوفانہ سا ہے لیکن ہے یہی کہ اپنا سیاسی کردار کسی نہ کسی طرح ضرور ادا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ!

یہ موت کی آہٹ ہے کہ دل میرے کی دھڑکن؟

106 views September 10, 2007 | راہبر
No Gravatar

گذشتہ دنوں محفل پر وارث بھائی سے بات چیت کے دوران میں نے ان سے عرض کیا کہ اپنا کوئی تازہ کلام ارشاد کیجئے۔۔۔ تو کہنے لگے کہ آمد بالکل بند ہے۔۔ یہی حال یہاں میرا بھی ہے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ ایک مصرع ان کے ذہن میں کئی دنوں سے گردش کررہا تھا لیکن آگے کچھ لکھ نہ سکے تو منحوس سمجھ کر چھوڑ دیا۔ مصرع تھا کہ:
یہ موت کی آہٹ ہے کہ دل میرے کی دھڑکن
مصرع تو لاجواب تھا۔۔۔ آخر وارث بھائی کہنہ مشق شاعر جو ٹھہرے۔۔۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس مصرع پر زور آزمائی کی جائے۔۔۔۔۔۔ نتیجہ کچھ یوں بر آمد ہوا۔۔۔!
غزل

ہر لمحہ نیا مسئلہ، ہر پل نئی الجھن (مَسُ۔ ءَ۔ لَہُ)
کیا خوب ہے واللہ مِرا آپ سے بندھن

کس منہ سے گلہ کیجئے سرکار خزاں سے؟
اجڑے ہیں بہاروں ہی سے یہ باغ، یہ گلشن

آواز سی سنتا ہوں، ہر اِک سانس کے ہمراہ
یہ موت کی آہٹ ہے کہ دل میرے کی دھڑکن؟

اک چاند سے چہرے سے محبت کا نتیجہ
ڈوبا ہے اندھیرے میں یہ عمار کا آنگن

82 views September 10, 2007 | راہبر
No Gravatar

آج تو میں نے بہت کچھ لکھنے کا سوچا تھا لیکن کبھی کبھی کچھ لوگ یا کچھ باتیں موڈ اچانک تبدیل کردیتی ہیں۔۔۔ اس لیے سارے خیالات بکھر گئے۔۔۔۔ پھر کبھی سہی!