ہے اتنی التجا تم سے کبھی ناراض مت ہونا
یہ نظم میں نے 13 جنوری 2003ء کو لکھی تھی:
مِری یادوں میں آنسو مت بہانا، وقت پر سونا
ہے اتنی التجا تم سے، کبھی ناراض مت ہونا
اگر میں دور جاؤں گا، تو واپس لوٹ آؤں گا
بھلا تم بِن بھی اپنا گھر، کہیں جاکر بساؤں گا؟
سنو! مصروف رہنا تم، کبھی یادوں میں مت کھونا
ہے اتنی التجا تم سے کبھی ناراض مت ہونا
تِری زلفیں، تِرا ہنسنا، بہت ہی یاد آئے گا
تِرا ہر ایک جملہ مجھ کو ہر لمحہ ستائے گا
ذرا پھر سے کہو، “کانٹا جسم سے دور کردو نا!”
ہے اتنی التجا تم سے کبھی ناراض مت ہونا
مِری دوری پہ آنسو، اے مِری جاں! مت بہادینا
ہے تم میں حوصلہ کتنا، یہ دنیا کو دکھا دینا
جب آجاؤں تو پھر بیشک گلے لگ کر بہت رونا
ہے اتنی التجا تم سے کبھی ناراض مت ہونا
مِری یادوں میں آنسو مت بہانا، وقت پر سونا
ہے اتنی التجا تم سے، کبھی ناراض مت ہونا
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
August 25, 2007 بوقت 11:02 am
واہ
August 26, 2007 بوقت 12:30 am
بہت خوب
August 26, 2007 بوقت 10:08 pm
شکریہ.
September 3, 2007 بوقت 8:52 pm
کمال ہے جناب