No Gravatar

ایک طویل عرصہ سے میری شاعرانہ صلاحیتیں نجانے کہاں کھوگئی ہیں؟ جب سے غمِ روزگار نے جکڑا ہے، بہت کچھ چھوٹ گیا ہے۔ پرسوں رات جب سونے لیٹا تو شاعرانہ رنگ چھانے لگا۔۔۔ خیالات اگرچہ زیادہ مجتمع نہ کرسکا لیکن پھر بھی یہ غزل تخلیق پائی۔

گو ان کو مِرے پیار سے انکار نہیں ہے
لیکن مجھے لگتا ہے، انہیں پیار نہیں ہے

باتوں پہ نہ جا، دوغلے انسان ہیں یاں پر
دعوے تو ہزاروں ہیں، پہ کردار نہیں ہے

اس شہرِ خموشاں میں بھی انسان ہیں بستے
بس فرق یہ ہے، یاں کوئی خونخوار نہیں ہے

ہر ایک نہ چاہے گا تمہیں میری طرح سے
ہر شخص تو اب صورتِ عمار نہیں ہے

مصروف ہو گر تُم، تو مجھے بھی ہیں بہت کام
عمار کو کیا سمجھا ہے؟ بے کار نہیں ہے!

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔