کیا یہ سودا سستا ہے؟
میں آزاد شاعری زیادہ پسند نہیں کرتا۔ میرے اپنے مجموعے میں بھی بہت کم آزاد نظمیں ہیں۔ یہ نظم میں نے 17 اگست 2003ء کو جشنِ آزادئ پاکستان کے موقع پر لکھی تھی:
میں آزادی سے لے کر
آج تک کی گزری اس آدھی صدی پر
غور جب کرتا ہوں
یوں محسوس ہوتا ہے
کہ جیسے یہ کوئی سنسان رستہ ہے
جہاں ہر ایک منزل پر پہنچنا چاہتا ہے
اس پر طرہ یہ کہ
سارے ایک ہی منزل کے طالب ہیں
مگر سارے الگ ہیں
دوسروں سے دور ہیں
مجبور ہیں
ہاں یوں تو منزل ایک ہے سب کی
مگر سارے جدا ہیں
اس لیے رستہ بھٹک کر
اتنا چل کر بھی وہیں موجود ہیں اب
جس جگہ سے ہم چلے تھے کہ
وہی ویران راہیں ہیں
وہی سنسان رستہ ہے
ذرا سوچو تو
کیا یہ سودا سستا ہے؟
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔