پیار کہانی (پہلی قسط)
صنفِ مخالف کی طرف کشش تو فطری بات ہے لیکن یاد نہیں کہ اسے پہلی بار کب اس بات کا احساس ہوا؟ بہر حال جو بھی تھا، بہت معمولی ہی سا تھا لیکن چھٹی جماعت میں آنے کے بعد جیسے اس کی زندگی بدلنے لگی۔ اسے لگا کہ وہ اب تک کی زندگی قید خانہ میں گزارتا رہا ہے۔ اس کی صلاحیتیں، اس کی خوبیاں، اس کی شیطانیاں، سب کچھ نکھرنے لگا۔۔۔ اظہار ہونے لگا۔ اپنی شخصیت کے کچھ ایسے گوشے بھی اس کے سامنے آنے لگے جس سے وہ خود بھی بے خبر رہا تھا۔ شاید تب ہی صنفِ مخالف کی طرف اس کا جھکاؤ غیر معمولی طور پر بڑھنے لگا۔ اس کے چہرے پر معصومیت کے آثار آہستہ آہستہ سوجھ بوجھ اور پر اعتمادی کے نشانات میں تبدیل ہونے لگے۔ مقامِ محبت بہت بلند ہے۔ اس منزل تک پہنچنا آسان نہیں۔ راہ میں ہزار مواقع سراب کی صورت آتے ہیں۔ اس کا سفر بھی اسی طرح طے ہوا۔ ہر پری صورت چہرہ دیکھ کر گمان ہوتا کہ شاید منزل یہی ہو لیکن منزل دور تھی۔ نویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے راہِ محبت میں ایک پڑاؤ آگیا۔ یہ کوئی معمولی راستہ نہ تھا۔ محبت کی راہ تھی۔ خوشگوار فضا، رنگین ماحول، مہکتی سانسیں، دھڑکتا دل۔ لیکن اس راہی کو ابھی یقین نہ تھا۔ یقین اس بات کا کہ وہ صحیح سمت میں سفر کررہا ہے یا نہیں؟ یقین اس بات کا کہ اس کے احساسات درست ہیں یا نہیں؟ ہزار سوالات۔۔۔ ان گنت خدشات۔۔۔ غور سے سنا تو اپنے اندر ہی، کسی گوشے سے یہ صدا آتی محسوس ہورہی تھی۔۔۔
آج کیوں دل یہ بے قرار ہوا
ایسا لگتا ہے مجھ کو پیار ہوا
کیوں ہے بے تابی؟ کیوں ہے بے چینی؟
دل کو اب کس کا انتظار ہوا
اور کیا کیا کہوں میں ظالم کو
میرا دل لے کے جو فرار ہوا
جس سفینے کا نام چاہت ہے
اس سفینے پہ میں سوار ہوا
تیری عادت بھی خوب ہے عمار
تیرا دشمن بھی تیرا یار ہوا
پیار کہانی جاری ہے۔۔۔۔۔!
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
August 28, 2007 بوقت 6:14 am
عمار میاں، ہاتھ زرا ہولا ہی رکھنا. کہیں پردہ نشینوں کے نام نہ آ جائیں.
August 29, 2007 بوقت 5:16 am
یہ اندرونی پریشانیاں کچھ جلدی ہی شروع نہیں کرا دیں آپ نے ؟
August 29, 2007 بوقت 11:53 pm
ارے ساجد بھائی! یہ صرف افسانہ نگاری میں ہاتھ پیر مارنے کی کوشش کرہا ہوں… حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے اس قصہ کا جو پردہ نشینوں کے نام آنے کا خطرہ ہو…

اجمل صاحب! یہ اندرونی پریشانیاں کیا ہیں؟
شاید مجھے اس بات کی وضاحت پہلے کردینی چاہئے تھی کہ یہ افسانہ ٹائپ کی چیز ہے…….. جسے میں اپنی شاعری کی ملاوٹ کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کررہا ہوں……..
September 1, 2007 بوقت 5:25 am
میرا نام مت آیی-
September 5, 2007 بوقت 2:29 am
ماموں! آپ کا نام نہیں آئے گا… بے فکر رہیں! (ویسے کیا آپ پردہ نشین ہیں؟؟؟)