No Gravatar

یہ نظم میں نے 27 نومبر 2002ء کو انتہائی افسردہ حالت میں لکھی تھی :(

یہ باتیں مسکرا کر تم کیا کرتی نہیں مجھ سے
وفا کے عہد بھی ہرگز بھرا کرتی نہیں مجھ سے
جو ایسا تھا تو خود کو آشنا کرتی نہیں مجھ سے

یہ اب جانا کہ کچھ غلطی ہوئی شاید کہیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

میں یہ سمجھا کہ میرے واسطے ہے ہر ادا تیری
میں خاموشی سے سب سہتا رہا، جو تھی سزا تیری
خبر کیا تھی، نہیں میرے لیے کوئی وفا تیری

منایا میں نے ہر اِک بار جب بھی تم لڑیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

تاثر تھا تِرا کہ مجھ پہ تیری ہر عنایت ہے
نجانے کیا ہوا کہ اب تجھے مجھ سے شکایت ہے
مِری دیوانی چاہت کی تِرے لب پر حکایت ہے

کیا میں نے وہ سب کچھ، جو بھی تم کہتی رہیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

یہی چاہا ہے کہ ہو کچھ بھی مگر تم کو ہو آسانی
یہ سب کچھ جان کر بھی تم یونہی بنتی تھیں انجانی
ہوا ہے کیا تمہیں اب؟ کیوں ہوئی ہو مجھ سے بیگانی؟

وفائیں تم نے میری دھوکا دے کر مول لیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

کری جب بے وفائی، وہ بہت منحوس تھی ساعت
نہ یہ جانا کہ سچی ہے محبت، سچی ہے چاہت
نہ یہ کہ میں نے چاہی ہے ہمیشہ سے تِری راحت

نہ یہ سوچا کہ تیری مشکلیں کتنی ٹلیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

تمہارے سامنے کمتر بحر جانا، جبل جانا
تمہیں جانِ جسم مانا، تمہیں روحِ غزل جانا
تمہیں اپنی ابد مانا، تمہیں اپنی ازل جانا

نجانے راستہ پھر کیوں بدل کر تم چلیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

مِری سچی محبت جان کر بھی تم نے دل توڑا
نجانے کیا ہوا تم کو کہ تم نے مجھ سے منہ موڑا
یہ سب کرنے سے پہلے کاش سوچا ہوتا یہ تھوڑا

تمہاری زندگی میں کتنی کلیاں کھل اٹھیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

اگر مژدہ محبت کا سنا دیتیں تو کیا ہوتا؟
اگر کچھ خواب آنکھوں میں سجا دیتیں تو کیا ہوتا؟
اگر عمار کو اپنا بنا دیتیں تو کیا ہوتا؟

جواب آخر کوئی بنتا نہیں آ کر یہیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔