مولوی؟

297 views August 31, 2007 | راہبر
No Gravatar

وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے رجحانات بدلتے ہیں۔ آج کل ہمارے ہاں رجحان ہے، دین میں نئی نئی اختراعات پیدا کرنے کا اور مولوی کو بدنام کرنے کا۔ ہر ایک بہتی گنگا میں اپنا ہاتھ دھو رہا ہے۔ ایسے میں، اگرچہ کافی دنوں سے میرے ذہن میں کچھ نکات تھے جو کہ مولوی حضرات پر مناسب اعتراضات کی صورت تھے لیکن بہرحال میں اس گفتگو کو اس لیے مؤخر کررہا ہوں کہ مجھے دوسروں کے ساتھ گنگا میں نہانے کا کوئی شوق نہیں۔ ;)
کئی بلاگرز اسی مسئلہ میں الجھے ہیں، محفل پر دیکھتا ہوں تو وہاں بھی یہی بحث نظر آتی ہے۔ کیا ہے یہ سب؟ ہم قرآن کو خود سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور اگر کوئی دوسرا شخص قرآن سمجھ کر ہمیں سمجھاتا ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ اس کی کیوں سنیں؟ ہم تو خود پڑھیں گے۔۔۔ خود سمجھیں گے۔۔۔!
اچھائی، برائی ہر جگہ ہوتی ہے۔۔۔ یہ قاعدہ تو شروع ہی سے رہا ہے۔ اب یہ کیسا انصاف ہے کہ چند نا اہل لوگوں کے سبب آپ تمام مولوی حضرات کو یک لخت جاہل، بے کار، گنوار، اور دیگر احمقانہ خطابات سے نواز دیں۔۔۔! اگر آپ کو کوئی اچھا مولوی نہیں ملا تو یہ آپ کی قسمت، لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ تمام اچھے مولوی حضرات ختم ہوچکے ہیں؟
اس طرح کی مسلسل تنقید سے کیا حاصل ہوگا؟ فرض کریں کہ سب مل کر ایک محاذ قائم کردیتے ہیں مولویت کے خلاف، صحیح؟ مولوی کو سب سے نچلا درجہ دیتے ہیں۔۔۔ اس کے بات سننا چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔ اس کو چھوت قرار دیتے ہیں۔۔۔ اس کے بعد؟؟؟ سب مسئلہ حل ہوجائے گا؟ ہاں آپ کو اس طرح مادر پدر آزادی مل جائے گی۔۔۔!
قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے کہ تم مسلمانوں میں ایک جماعت ہونی چاہئے جو نیکی کی طرف بلائے اور برائی سے دور کرے۔۔۔ آج کے دور میں مولوی حضرات کے علاوہ دوسری کون سی جماعت ہے ایسی جو خدا کا یہ حکم بجا لائے؟؟؟
اور سب باتیں چھوڑیں۔۔۔ گولی ماریں ہر بحث کو۔۔۔ بس اتنا عرض کریں کہ اگر تمام مولوی اتنے ہی بے کار ہیں، اتنے ہی جاہل، گنوار ہیں تو ازراہِ کرم آپ ہی اس شعبہ میں آجایئے۔۔۔ آپ کو اگر اس مولوی کی سمجھ نہیں آتی تو آپ پانچ وقت کی نماز پڑھانا شروع کردیں۔ آپ مدرسہ میں بچوں کو قرآن کی اور اسلام کی تعلیم دینا شروع کردیں۔۔۔ اگر آپ یہ کام کرتے ہیں تو سبحان اللہ، بارک اللہ اور اگر نہیں کرتے تو چپ کرکے بیٹھئے اور جو لوگ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا نیک فریضہ انجام دے رہے ہیں، ان کو یہ کام کرنے دیجئے۔

عمار کو کیا سمجھا ہے؟

209 views August 31, 2007 | راہبر
No Gravatar

ایک طویل عرصہ سے میری شاعرانہ صلاحیتیں نجانے کہاں کھوگئی ہیں؟ جب سے غمِ روزگار نے جکڑا ہے، بہت کچھ چھوٹ گیا ہے۔ پرسوں رات جب سونے لیٹا تو شاعرانہ رنگ چھانے لگا۔۔۔ خیالات اگرچہ زیادہ مجتمع نہ کرسکا لیکن پھر بھی یہ غزل تخلیق پائی۔

گو ان کو مِرے پیار سے انکار نہیں ہے
لیکن مجھے لگتا ہے، انہیں پیار نہیں ہے

باتوں پہ نہ جا، دوغلے انسان ہیں یاں پر
دعوے تو ہزاروں ہیں، پہ کردار نہیں ہے

اس شہرِ خموشاں میں بھی انسان ہیں بستے
بس فرق یہ ہے، یاں کوئی خونخوار نہیں ہے

ہر ایک نہ چاہے گا تمہیں میری طرح سے
ہر شخص تو اب صورتِ عمار نہیں ہے

مصروف ہو گر تُم، تو مجھے بھی ہیں بہت کام
عمار کو کیا سمجھا ہے؟ بے کار نہیں ہے!

تحفظِ حقوقِ مرداں

297 views August 30, 2007 | راہبر
No Gravatar

عنوان سے اگر آپ کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر جائے تو کوئی بات نہیں۔ آپ جی بھر کر ہنس سکتے ہیں، ویسے میں کچھ عرصہ سے واقعی حقوقِ مرداں کے لیے سوچ رہا ہوں اور تحفظِ حقوقِ نسواں بِل کے بعد تو یہ موضوع مزید اہم ہوگیا ہے۔ کیا خیال ہے مرد صاحبان کا؟ مجھے لگتا ہے کہ خواتین کے حقوق کے لیے اتنی آواز اٹھائی گئی ہے اور اتنا شور شرابا کیا گیا ہے کہ اب مردوں کے حقوق دب گئے ہیں۔ ہنگامہ اٹھتا ہے کہ مرد ظالم ہیں اور عورتوں پر بے حد ظلم کرتے ہیں۔ اس پروپیگنڈہ میں تھوڑی بہت حقیقت ضرور ہے لیکن اس سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ عورتیں ہی عورت پر ظلم کرتی ہیں۔۔۔ کیا کوئی عورت/ خاتون/ لڑکی میری اس بات کی گواہی دینے کو تیار ہے؟؟؟ جس طرح مرد حضرات بڑے جوش و خروش سے عورتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں، تو بدلہ میں ہم مرد حضرات بھی عورتوں سے توقع کرسکتے ہیں کہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہمارے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں۔۔۔!
ہمارے معاشرے میں بکھری چھوٹی چھوٹی مثالیں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ اس وقت تحفظِ حقوقِ مرداں کے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ عورت کا دشمن مرد نہیں، بلکہ عورت ہی ہے۔ ساس بہو کے جھگڑے قصہ کہانیوں تک محدود نہیں ہیں۔۔۔ دفتری معاملات میں بھی ایک خاتون، اپنی ہی ساتھی کی کاٹ کرتی نظر آتی ہے۔ دو ہمسائی مل بیٹھیں گی تو تیسری کی برائی کریں گی، اور پھر اس تیسری سے مل کر چوتھی کی برائی۔۔۔ (اس بات کا تھوڑا بہت اعتراف یہاں موجود ہے)

ماں شکایت کرتی ہے کہ بیٹا شادی کے بعد بدل گیا، الگ ہوگیا، رویہ صحیح نہیں رہا۔ وجہ؟ لڑکے کی بیوی اس کو مجبور کرتی ہے۔۔۔ اگر ایسا نہ ہو تو دوسرا رخ یہ ہوتا ہے کہ لڑکے کی بیوی شکایت کرتی ہے کہ لڑکا میرا حق ادا نہیں کرتا، ماں کی بات مانتا ہے، میرا خیال نہیں رکھتا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ خواتین کی آپس کی لڑائی اور الزام بیچارے مرد پر۔۔۔
اور ہاں! آج کل کی عورت کو تو مرد سے برابری کا دعویٰ ہے۔۔۔ پھر وہ صنفِ نازک کیوں کہلواتی ہے؟ شاید اپنی نازک آواز کی وجہ سے۔۔۔۔ اور مرد کو صنفِ کرخت کہنے کی وجہ شاید ان کی کرخت آواز ہے۔ ورنہ تو مرد بے حد رحم دل واقع ہوئے ہیں۔۔۔ سلطانہ ڈاکو اور پھولن دیوی جیسے کردار بھی خواتین ہی میں پائے جاتے ہیں۔۔۔
ابھی اتنے ہی پر اکتفا کررہا ہوں ورنہ لکھنے کو تو بہت کچھ سوچا تھا۔ “انتہا پسند” عناصر سے عرض ہے کہ “دل پر مت لے یار”

پیار کہانی (پہلی قسط)

227 views August 28, 2007 | راہبر
No Gravatar

صنفِ مخالف کی طرف کشش تو فطری بات ہے لیکن یاد نہیں کہ اسے پہلی بار کب اس بات کا احساس ہوا؟ بہر حال جو بھی تھا، بہت معمولی ہی سا تھا لیکن چھٹی جماعت میں آنے کے بعد جیسے اس کی زندگی بدلنے لگی۔ اسے لگا کہ وہ اب تک کی زندگی قید خانہ میں گزارتا رہا ہے۔ اس کی صلاحیتیں، اس کی خوبیاں، اس کی شیطانیاں، سب کچھ نکھرنے لگا۔۔۔ اظہار ہونے لگا۔ اپنی شخصیت کے کچھ ایسے گوشے بھی اس کے سامنے آنے لگے جس سے وہ خود بھی بے خبر رہا تھا۔ شاید تب ہی صنفِ مخالف کی طرف اس کا جھکاؤ غیر معمولی طور پر بڑھنے لگا۔ اس کے چہرے پر معصومیت کے آثار آہستہ آہستہ سوجھ بوجھ اور پر اعتمادی کے نشانات میں تبدیل ہونے لگے۔ مقامِ محبت بہت بلند ہے۔ اس منزل تک پہنچنا آسان نہیں۔ راہ میں ہزار مواقع سراب کی صورت آتے ہیں۔ اس کا سفر بھی اسی طرح طے ہوا۔ ہر پری صورت چہرہ دیکھ کر گمان ہوتا کہ شاید منزل یہی ہو لیکن منزل دور تھی۔ نویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے راہِ محبت میں ایک پڑاؤ آگیا۔ یہ کوئی معمولی راستہ نہ تھا۔ محبت کی راہ تھی۔ خوشگوار فضا، رنگین ماحول، مہکتی سانسیں، دھڑکتا دل۔ لیکن اس راہی کو ابھی یقین نہ تھا۔ یقین اس بات کا کہ وہ صحیح سمت میں سفر کررہا ہے یا نہیں؟ یقین اس بات کا کہ اس کے احساسات درست ہیں یا نہیں؟ ہزار سوالات۔۔۔ ان گنت خدشات۔۔۔ غور سے سنا تو اپنے اندر ہی، کسی گوشے سے یہ صدا آتی محسوس ہورہی تھی۔۔۔
آج کیوں دل یہ بے قرار ہوا
ایسا لگتا ہے مجھ کو پیار ہوا

کیوں ہے بے تابی؟ کیوں ہے بے چینی؟
دل کو اب کس کا انتظار ہوا

اور کیا کیا کہوں میں ظالم کو
میرا دل لے کے جو فرار ہوا

جس سفینے کا نام چاہت ہے
اس سفینے پہ میں سوار ہوا

تیری عادت بھی خوب ہے عمار
تیرا دشمن بھی تیرا یار ہوا

پیار کہانی جاری ہے۔۔۔۔۔!

ہے اتنی التجا تم سے کبھی ناراض مت ہونا

212 views August 25, 2007 | راہبر
No Gravatar

یہ نظم میں نے 13 جنوری 2003ء کو لکھی تھی:

مِری یادوں میں آنسو مت بہانا، وقت پر سونا
ہے اتنی التجا تم سے، کبھی ناراض مت ہونا

اگر میں دور جاؤں گا، تو واپس لوٹ آؤں گا
بھلا تم بِن بھی اپنا گھر، کہیں جاکر بساؤں گا؟
سنو! مصروف رہنا تم، کبھی یادوں میں مت کھونا

ہے اتنی التجا تم سے کبھی ناراض مت ہونا

تِری زلفیں، تِرا ہنسنا، بہت ہی یاد آئے گا
تِرا ہر ایک جملہ مجھ کو ہر لمحہ ستائے گا
ذرا پھر سے کہو، “کانٹا جسم سے دور کردو نا!”

ہے اتنی التجا تم سے کبھی ناراض مت ہونا

مِری دوری پہ آنسو، اے مِری جاں! مت بہادینا
ہے تم میں حوصلہ کتنا، یہ دنیا کو دکھا دینا
جب آجاؤں تو پھر بیشک گلے لگ کر بہت رونا

ہے اتنی التجا تم سے کبھی ناراض مت ہونا

مِری یادوں میں آنسو مت بہانا، وقت پر سونا
ہے اتنی التجا تم سے، کبھی ناراض مت ہونا

قصہ اخبار نکالنے کا

341 views August 25, 2007 | راہبر
No Gravatar

جب میں اسکول میں زیرِ تعلیم تھا، تب آٹھویں جماعت میں مجھے ایک اچھوتا کام سوجھا۔ وہ تھا اخبار نکالنے کا۔ غالبا 2001ء کی بات ہے۔ تھوڑی سوچ بچار کے بعد اس خیال کو حتمی شکل دیدی۔ اخبار کا نام منتخب ہوا “پھلجڑی”۔۔۔ پانچ روپے کی سفید شیٹ آیا کرتی تھی، اس کی ایک طرف لکھا کرتا اور اسکول کے نوٹس بورڈ پر چسپاں کردیتا۔ ہفتہ وار اخبار ہوتا تھا۔ مختلف کہانیاں، لطائف، وغیرہ شامل ہوتیں۔۔۔ کمپیوٹر کے ٹیچر سے بہت بے تکلفی تھی، وہ مجھے اندر کی خبریں لاکر دیا کرتے تھے۔ سنیچر اور اتوار کو اخبار بناتا اور سوموار کو نوٹس بورڈ پر۔ لیکن یہ سلسلہ زیادہ عرصہ نہیں چل سکا۔ آٹھویں کے بعد وہ اسکول میں نے چھوڑ دیا۔۔۔
اسکول تو چھوٹ گیا لیکن یہ سلسلہ چھوٹنے والا نہیں تھا۔ اگلے اسکول میں بھی کمپیوٹر کے ٹیچر (مبین صاحب) سے اس موضوع پر بات چل نکلی اور طے ہوا کہ یہاں بھی ایک اخبار شروع کیا جائے۔ اب کی بار اخبار کا نام مبین صاحب نے ہی تجویز کیا: “اچانک ٹائمز”۔ یہ بھی ہفتہ وار ہی تھا۔ خوشخط ہونے کی وجہ سے لکھنے کی ذمہ داری مجھے ہی نبھانی پڑتی۔ اخبار کا مدیر بھی میں ہی تھا۔ پہلا شمارہ تیار کیا اور ایک مناسب جگہ پر لگادیا۔۔۔ پھر کیا بتائیں۔۔۔ مقبولیت کے عالمی ریکارڈ قائم ہوگئے۔ ہاف ٹائم میں بچوں کا رش لگا ہوتا۔۔۔ چھوٹی کلاس کے بچوں سے لے کر بڑی کلاس کے بچوں تک، سب کے لیے وہ ایک اچھوتی اور دلچسپ چیز ثابت ہوئی۔ ہر آنے والا شمارہ پچھلے سے زیادہ مقبول ہوتا۔ لڑکیوں کی اکثریت مجھے بار بار آکر یہ یاد دہانی کرواتی کہ نیا شمارہ آنے پر جب گذشتہ شمارہ اترے گا تو ایک یا دو دن کے لیے ان کو گھر پر لے جانے دوں۔ ہم نے ٹیچرز کے انٹرویو کا سلسلہ شروع کیا۔ جس ٹیچر کا انٹرویو لینا ہوتا، پہلے ہر جماعت کے بچوں سے پوچھتے کہ کیا وہ اس ٹیچر سے کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں۔۔۔؟ ان کے سوالات بھی لکھ لیتے اور اپنی تیاری بھی رکھتے۔ کوئی ٹیپ ریکارڈ وغیرہ تو تھا ہی نہیں۔ مبین صاحب، میٹرک کلاس کی ایک طالبہ یا کوئی ٹیچر اور میں، کاغذ قلم لے کر بیٹھ جاتے۔ سوالات کے جوابات جلدی جلدی لکھتے جاتے۔ کیا ہی سنہرے دن تھے وہ۔۔۔!
پھر مجھے اخبار کو مزید مقبول کرنے کی ایک نئی ترکیب سوجھی۔۔۔ آخر کو اخبار کا مدیر تھا میں۔۔۔ میں نے ایک نیا سلسلہ شروع کیا۔ “یہ ہفتہ کیسا رہے گا”۔ لکھنا تو اپنے دماغ سے ہوتا تھا۔۔۔ میں وہ شخص جسے بارہ برجوں کے نام بھی مکمل یاد نہیں۔۔۔ وہ بارہ برجوں کے بارے میں پیش گوئی کیا کرتا تھا۔۔۔ : ) کیسے؟ یہ ایک راز تھا جسے میں نے کسی پر ظاہر نہیں کیا۔۔۔ ہوتا یہ تھا کہ میں ہر برج کے بارے میں ایسی عام معلومات لکھتا تھا جو کہ سچ ہوتی تھی لیکن لوگ اسے بہت بڑا کمال سمجھتے تھے۔۔۔ مثلا۔۔۔ سرخی لگائی: برجِ حمل۔ اب اس میں یہ لکھ دیا کہ صحت کا خیال رکھیں، ارد گرد لوگوں سے تعلقات میں احتیاط برتیں۔۔۔ یا پھر لکھا کہ آپ لوگوں سے تعلقات رکھتے ہوئے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرلیتے ہیں، یہ آپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اب غور سے دیکھیں تو یہ سب باتیں تو ہر کسی کے لیے ہی ہیں، ایک خاص برج والوں کے لیے نہیں۔۔۔ لیکن سب سمجھتے تھے کہ مجھے کوئی خاص علم آتا ہے۔۔۔
بس۔۔۔ یہ چکر چلتا رہا۔۔۔ وقت گزرتا رہا۔۔۔ اب صرف یادیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔ یادوں کے سہارے زندہ ہیں۔

دعائے شعبان

216 views August 24, 2007 | راہبر
No Gravatar

ماہِ شعبان المعظم میں پڑھی جانے والی ایک خاص دعا ہے جس کی کثرت کرنے کو کہا جاتا ہے۔ بہت مختصر دعا ہے، آپ اسے جلد ہی یاد کرسکتے ہیں۔ جب جب موقع ملے، اس کا ورد جاری رکھیے۔ اللہ تعالیٰ سے اجرِ عظیم کی امید ہے۔
لا الہ الا اللہ ولا نعبد الا ایاہ مخلصین لہ الدین ولو کرہ الکافرون

Image Hosted by ImageShack.us

آنسو

204 views August 24, 2007 | راہبر
No Gravatar

غموں کے پیچھے خوشیاں اور خوشیوں کے پیچھے غم۔۔۔۔ مسکراہٹوں کے پیچھے آنسو اور آنسوؤں کے پیچھے مسکراہٹ۔۔۔ یہ سلسلہ تو جاری رہتا ہے۔ کچھ دن سے میں کافی خوش تھا۔۔۔ تھکن کے باوجود مسرت کا احساس ہوتا تھا۔۔۔ ایک دو باتوں نے اگرچہ صدمہ دیا لیکن میں نے ان کی طرف سے توجہ ہٹائے رکھی۔۔۔ لیکن آج۔۔۔ آج بہت دن بعد میں رویا۔۔۔ میری آنکھوں سے اس قدر آنسو بہے کہ مجھے ان کو چھپانا مشکل ہوگیا۔۔۔
رشتے بھی کس قدر عجیب شے ہیں۔۔۔ کبھی خوشیاں تو کبھی غموں کے پہاڑ۔۔۔ اور کیا لکھوں؟؟؟ ذہن ماؤف ہے۔ کچھ سوچنے سمجھنے کا دل نہیں کررہا۔۔۔۔۔۔۔

خبر کیا تھی

202 views August 21, 2007 | راہبر
No Gravatar

یہ نظم میں نے 27 نومبر 2002ء کو انتہائی افسردہ حالت میں لکھی تھی :(

یہ باتیں مسکرا کر تم کیا کرتی نہیں مجھ سے
وفا کے عہد بھی ہرگز بھرا کرتی نہیں مجھ سے
جو ایسا تھا تو خود کو آشنا کرتی نہیں مجھ سے

یہ اب جانا کہ کچھ غلطی ہوئی شاید کہیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

میں یہ سمجھا کہ میرے واسطے ہے ہر ادا تیری
میں خاموشی سے سب سہتا رہا، جو تھی سزا تیری
خبر کیا تھی، نہیں میرے لیے کوئی وفا تیری

منایا میں نے ہر اِک بار جب بھی تم لڑیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

تاثر تھا تِرا کہ مجھ پہ تیری ہر عنایت ہے
نجانے کیا ہوا کہ اب تجھے مجھ سے شکایت ہے
مِری دیوانی چاہت کی تِرے لب پر حکایت ہے

کیا میں نے وہ سب کچھ، جو بھی تم کہتی رہیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

یہی چاہا ہے کہ ہو کچھ بھی مگر تم کو ہو آسانی
یہ سب کچھ جان کر بھی تم یونہی بنتی تھیں انجانی
ہوا ہے کیا تمہیں اب؟ کیوں ہوئی ہو مجھ سے بیگانی؟

وفائیں تم نے میری دھوکا دے کر مول لیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

کری جب بے وفائی، وہ بہت منحوس تھی ساعت
نہ یہ جانا کہ سچی ہے محبت، سچی ہے چاہت
نہ یہ کہ میں نے چاہی ہے ہمیشہ سے تِری راحت

نہ یہ سوچا کہ تیری مشکلیں کتنی ٹلیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

تمہارے سامنے کمتر بحر جانا، جبل جانا
تمہیں جانِ جسم مانا، تمہیں روحِ غزل جانا
تمہیں اپنی ابد مانا، تمہیں اپنی ازل جانا

نجانے راستہ پھر کیوں بدل کر تم چلیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

مِری سچی محبت جان کر بھی تم نے دل توڑا
نجانے کیا ہوا تم کو کہ تم نے مجھ سے منہ موڑا
یہ سب کرنے سے پہلے کاش سوچا ہوتا یہ تھوڑا

تمہاری زندگی میں کتنی کلیاں کھل اٹھیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

اگر مژدہ محبت کا سنا دیتیں تو کیا ہوتا؟
اگر کچھ خواب آنکھوں میں سجا دیتیں تو کیا ہوتا؟
اگر عمار کو اپنا بنا دیتیں تو کیا ہوتا؟

جواب آخر کوئی بنتا نہیں آ کر یہیں مجھ سے
خبر کیا تھی محبت تم کیا کرتی نہیں مجھ سے

قائد تجھے سلام

211 views August 20, 2007 | راہبر
No Gravatar

کچھ دن سے پاکستانی اخبارات میں ایک اشتہار بعنوان “قائد تجھے میرا سلام” شائع ہورہا ہے جو کہ پاکستانی حکومت کی طرف سے ہے۔ اشتہار میں لکھا ہے کہ تمام سچے پاکستانی اپنے قائد کے نام ایک خط تحریر کریں اور شکریہ ادا کریں ان تمام نعمتوں کا جو ہمیں آزادی کے ساتھ پاکستان سے ملیں۔۔۔ اور اس خط کو اشتہار میں درج پتہ پر بھیج دیں جہاں ادبی شخصیات کی کمیٹی سب سے اچھے خط کا انتخاب کرے گی۔ انعامات میں پہلا انعام Honda VTi کار، دوسرا انعام دو لاکھ روپے، تیسرا انعام ایک لاکھ روپے اور سینکڑوں قیمتی انعامات شامل ہیں۔ اِدھر گھر کے حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ ماں اور باقی بھائی، بہنیں مجھ سے اور ابو سے ضد کررہے ہیں کہ ہم دونوں ایک ایک خط لکھ کر پوسٹ کردیں، شاید اسی طرح کچھ مل جائے۔ :(
لکھنے کے معاملے میں ابو کی اور میری صلاحیتیں بلاشبہ اچھی ہیں لیکن ہم دونوں ہی اس سلسلے میں کچھ سست اور کاہل واقع ہوئے ہیں۔ پھر یہ کہ گذشتہ دنوں سے مصروفیات اس قدر ہیں کہ میں اب تک سوچ ہی نہیں سکا کہ خط لکھنے بیٹھوں تو کیا لکھوں؟ میں لکھنے کا کام ایسے نہیں کرتا کہ بس فوراً قلم لے کر بیٹھ جاؤں۔۔۔ میری عادت ہے کہ پہلے بہت سوچ بچار کرتا ہوں، ایک ایک جملہ کا انتخاب کرتا ہوں، اس کے بعد کچھ لکھتا ہوں۔
ویسے میں سوچتا ہوں کہ لکھوں تو کیا لکھوں اپنے پیارے قائد کو؟ بعد از سلام یہ لکھوں کہ قائد اعظم! میں آپ کے پاکستان کا شہری ہوں۔۔۔ لیکن یہ پاکستان اب آپ کا والا نہیں رہا۔۔۔ یہ پاکستان ہرگز ویسا نہیں ہے، جیسا آپ نے سوچا تھا۔۔۔ جیسا آپ نے بنانا چاہا تھا۔۔۔ اور یہ آپ کی پاکستانی قوم ہے نا۔۔۔ یہ اب تک اس بات پر بحث کرتی ہے کہ آپ نے پاکستان بنایا تو آخر کس مقصد کے لیے بنایا؟ آپ سیکولر پاکستان چاہتے تھے یا مذہبی؟ آپ کے پیشِ نظر مسلمانوں کی معاشی ترقی پیشِ نظر تھی یا مذہبی آزادی؟ میرے پیارے قائد! آپ کو پتا ہے، آپ کے دیس میں بسنے والے مسلمانوں میں سے بھی کچھ آپ کو کافر کہتے ہیں۔۔۔ ہماری قوم نے آپ کا مزار تو بنادیا لیکن اس کا تقدس اور احترام بھول گئی ہے۔۔۔ باغِ جناح میں تو لوگوں کا اژدھام ہوتا ہے۔۔۔ آپ تو روز ہی دیکھتے ہوں گے کہ آپ کی قوم کہاں پہنچ گئی ہے۔۔۔ اور ہاں! آپ اپنے مزار کے ارد گرد ہریالی اور اچھی سڑکیں دیکھ کر خوش نہ ہوں۔۔۔ آپ کا پورا شہر ہم نے ترقی کی خاطر کھود ڈالا ہے۔۔۔ جناح صاحب! کہاں کہاں کا حال بتاؤں آپ کو؟ دنیا والے ہمیں دہشت گرد سمجھتے ہیں۔۔۔ اور کشمیر کا معاملہ۔۔۔ وہ تو سمجھیں کہ بس ہم دشمن کو تحفتاً پیش کرچکے ہیں۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ ہماری قوم کی غلطی ہے۔۔۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں کی غلطی ہے۔۔۔ لیکن نہیں قائد! یہ آپ کی وجہ سے بھی ہے۔۔۔ کس قوم کے لیے بنایا تھا آپ نے پاکستان؟؟؟ کبھی سوچا تھا؟ مسلمانوں کے لیے؟؟ مگر یہاں تو کوئی مسلمان ہی نہیں۔۔۔ یہاں سندھی ہے، پنجابی ہے، پٹھان ہے، بلوچی ہے، مہاجر ہے، بہاری ہے۔۔۔ تو آپ نے ان میں سے کس کے لیے بنایا تھا یہ وطن؟؟؟ اور پھر کیوں چلے گئے اتنی جلدی اس دیس کو چھوڑ کر؟ کیوں نہیں رکھا تھا اپنی صحت کا خیال؟ اگر آپ نے اپنی صحت کا خیال رکھا ہوتا تو شاید آپ کچھ عرصہ اور جی لیتے۔۔۔ شاید آپ پاکستان کو مستحکم کرسکتے۔۔۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔ قائد! ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔۔۔ اب ہمیں آپ سے، آپ کے خیالات سے اور آپ کے دیس سے کچھ مطلب نہیں۔۔۔ ان سب کی کوئی پروا نہیں ہے۔۔۔ پلیززز آپ اگر پاکستان کو دیکھنے آتے ہوں تو اب آنا بند کردیں۔۔۔ کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ کچھ دن میں پاکستان کی صورتحال شاید ایسی ہوجائے گی کہ اسے دیکھ کر آپ ایک بار پھر مرجائیں گے۔۔۔ اور اگر آپ کے دل میں اس وطن کو ٹھیک کرنے کی خواہش ہو تو پلیززز اللہ تعالیٰ سے میری سفارش کیجئے گا کہ وہ مجھے آپ جیسی سیاسی بصیرت اور صلاحیت بخش دے۔ میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔۔۔ وعدہ! فقط۔۔۔ ایک پاکستانی۔۔۔

[اگر میں نے یہ خط لکھ کر بھیج دیا تو بے فائدہ ہی رہے گا۔۔۔ ادیبوں کی کمیٹی اس میں چھپے جذبات کے بجائے ادب تلاش کرے گی جو اسے نہیں ملے گا۔۔۔ اس صورت میں، مجھے ادباء کمیٹی کوئی انعام نہیں دے سکے گی۔۔۔ ہاں شاید میرے قائد اعظم میرے پاس آکر کوئی انعام دے جائیں۔۔۔]