تجرباتی آڈیو کلپ
1 views July 27, 2007 | راہبرتجرباتی طور پر شعیب منصور کی فلم “خدا کے لیے” کا ٹائیٹل گیت یہاں اپ۔لوڈ کررہا ہوں تاکہ باسم بھائی نے آڈیو اپ۔لوڈنگ کی جس ویب سائٹ کا بتایا ہے، اس کی کارکردگی کا اندازہ ہوسکے۔
تجرباتی طور پر شعیب منصور کی فلم “خدا کے لیے” کا ٹائیٹل گیت یہاں اپ۔لوڈ کررہا ہوں تاکہ باسم بھائی نے آڈیو اپ۔لوڈنگ کی جس ویب سائٹ کا بتایا ہے، اس کی کارکردگی کا اندازہ ہوسکے۔
جشن آزادی قریب آپہونچا ہے۔ اس حوالہ سے میں کچھ آڈیو کلپس اپ۔لوڈ کرنا چاہتا ہوں جنہیں بلاگ پر بھی پیش کیا جاسکے۔ وہ کلپس کیا ہیں؟ ایک سرپرائز۔۔۔ جو کہ جلد پیش ہوگا ان شاء اللہ۔ کیا کوئی دوست ایسی کسی ویب سائٹ جانتا ہے؟ جس طرح یوٹیوب پر ویڈیو شیئر کرکے، اسے بلاگ پر رکھا جاسکتا ہے، کیا اس طرح کوئی ایسی سائٹ بھی ہے جو آڈیو اپ۔لوڈ کرنے کی سہولت دیتی ہو اور اس کا ربط بلاگ پر یا ویب سائٹ پر رکھنے سے وہ آڈیو کلپ چل جاتی ہو۔۔۔ جلد از جلد راہنمائی فرمائیں!
( اس تحریر کے ابتدائی الفاظ حذف کررہا ہوں۔ معذرت)۔
ایک سال پہلے تک اہل تشیع سے مجھے کوئی بیر نہ تھا۔ میں بچپن سے اسلامی فرقوں کے اختلافات کے بارے میں پڑھ پڑھ کر اکتا چکا ہوں اور اتحاد بین المسلمین کے لیے کچھ کام کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن پچھلے سال جب اورکٹ ڈاٹ کام پر ایک کمیونٹی میں اہل تشیع حضرات کی جانب سے لائق صد احترام حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہم کے بارے میں بکواس دیکھی تو غصہ اور رنج سے میری عجیب حالت ہوگئی۔ اتنی غلیظ غلیظ باتیں، فحش لطائف و مذاق اور گھٹیا گفتگو کی گئی تھی کہ بیان کیے جانے سے قاصر۔ میں نے اس کمیونٹی کے کچھ فعال ارکان کو اس بارے میں چند گزارشات لکھ کر بھیجیں اور اپنی تحریر میں جابجا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا واسطہ دیا، حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ تعالی عنہم کا واسطہ دیا، اس پر کچھ لوگوں نے جواب ہی نہ دیا، کسی نے گالم گلوچ کی۔۔۔ شاید صرف ایک بندہ نے تھوڑی شرافت دیکھائی اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ دوسرے فرقے والے آکر اتنا کچھ لکھتے ہیں ہمارے خلاف تو ہمیں اپنے بچوں کو بچانے کے لیے ایسے کرنا پڑتا ہے۔
کتنی بھونڈی دلیل ہے نا۔۔۔ میں سوچتا تھا کہ اتحاد بین المسلمین کا اہم طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ اختلافات کو اہمیت نہ دی جائے اور جن نکات پر اتفاق ہے، ان کی بنیاد پر آگے بڑھا جائے لیکن یہ بغض و عداوت اور کینہ۔۔۔ یہ کہاں جائے گا؟
ہمارے دین تو کافروں سے بھی ایسا سلوک کرنے کی تلقین نہیں کرتا۔ پھر وہ صحابہ کرام علیہم الرضوان، انبیاء کے بعد سب سے عظیم ترین ہستیاں، ان کے بارے میں اس قدر بکواس۔ یہ کیوں؟ ایسی بکواس کا صرف دینی یا قانونی نہیں، اخلاقی جواز بھی نہیں ہے۔
لیجئے۔ کافی عرصہ پہلے کیا جانے والا وعدہ آج نبھانے لگا ہوں۔ اردو محفل پر ایک بار “”ونڈوز کرسٹل ایکس۔پی”" کا ذکر ہوا تھا تو ایک دو صاحبان نے خواہش ظاہر کی تھی کہ اس حوالہ سے معلومات فراہم کی جائیں۔ اب جاکر یہ وعدہ ایفا ہونے کو ہے۔
“”ونڈوز کرسٹل ایکس۔پی”" دراصل ملک مصر کے کسی باشندے کا کارنامہ ہے جس نے ونڈوز ایکس۔پی ہی میں کچھ مفید اور ضروری اضافے کرکے ونڈوز ایکس۔پی کو چار چاند لگادیے ہیں۔
آغاز کرتے ہیں بنیاد سے۔ کراچی میں کمپیوٹر سی۔ڈیز والوں کے پاس آرام سے مل جاتی ہے۔ “”ونڈوز کرسٹل ایکس۔پی”" کے نام سے۔ میں تو بیس روپے کی لیتا ہوں۔ اب جب وہ سی۔ڈی کمپیوٹر میں لگاکر بوٹ کریں گے اور ونڈوز ایکس۔پی کی تنصیب شروع کریں گے تو ایک اہم بات سامنے آئے گی۔ وہ یہ کہ ونڈوز کی تنصیب کے مکمل عمل میں آپ سے کچھ بھی پوچھا نہیں جائے گا۔ نہ سیریل نمبر، نہ کمپیوٹر کا نام، نہ زبان، نہ نیٹ ورک کے بارے میں اور نہ ہی کچھ اور۔ بس جب ونڈوز کی تنصیب شروع ہوگئی تو پھر مکمل ہوکر ہی ری۔اسٹارٹ ہوگا۔ پھر جب ونڈوز پر کمپیوٹر جائے گا تو ونڈوز کی سی۔ڈی اپنے سی۔ڈی روم میں لگی رہنے دیں۔ ونڈوز مکمل کھلنے سے پہلے آپ کے سامنے ایک اسکرین آئے گی جس میں مختلف سوفٹ وئیرز کے نام لکھے ہوں گے۔
اوپن آفس، فوکس پی۔ڈی۔ایف ریڈر، ایم۔ایس جاوا، عرفان ویو، ون۔ایمپ، موزیلا فائر فوکس، انٹرنیٹ ڈاؤن لوڈ منیجر، یو ٹورنٹ، ریپ گیٹ، ونڈوز لائیو مسینجر، ون۔رار، سیون زپ، وغیرہ وغیرہ۔۔۔
اس میں سے آپ جو سوفٹ وئیرز انسٹال کرنا چاہیں ان پر کلک کردیں اور بائیں طرف انسٹال کے بٹن پر کلک کردیں۔ ان سوفٹ ویئرز کے رجسٹرڈ ورژن آپ کے کمپیوٹر پر نصب ہوجائیں گے۔ ان کے علاوہ انٹرنیٹ ایکسپلورر کا ورژن سات، ونڈوز میڈیا پلیئر ورژن گیارہ اور دیگر مفید سوفٹ ویئرز بھی آپ کے سسٹم پر موجود ہوں گے۔
اب کچھ اسکرین شاٹس ملاحظہ ہوں۔ میرا ڈیسک ٹاپ دیکھیے۔ یہ میری پسندیدہ تھیم ہے کچھ تبدیلیوں کے ساتھ۔

اب یہ نہ سمجھیے گا کہ یہ سارے سوفٹ وئیرز جو اسکرین پر نظر آرہے ہیں، وہ بھی ونڈوز کے ساتھ ہی انسٹال ہوجاتے ہیں۔ یہ میری اپنی کارگزاری ہے۔
یہ ایک نظر مائی کمپیوٹر پر۔۔۔ یہ ونڈوز کرسٹل ایکس۔پی میں “”ہوم”" کے نام سے موجود ہوتا ہے:

اور یہ دیکھیے، کنٹرول پینل کو۔ اس میں کافی سارے نئے اور اچھوتے سوفٹ وئیرز ہیں۔ میں تو نالائق شخص، ان کو اب تک استعمال نہ کرسکا حالآنکہ یہ کافی مفید لگتے ہیں۔

یہ تھیم بھی اچھی لگی مجھے۔

یہ تھیم کافی گہرے رنگ کی ہے لیکن اچھی ہے۔

ایک اور تھیم۔

شاید بہت سے ساتھی یہ پڑھ کر “”ونڈوز کرسٹل ایکس۔پی”" کو استعمال کرنے کے لیے بے تاب ہوجائیں گے۔ ان کے لیے نیک تمنائیں۔
امیر علی کا یہ گیت “برسوں بعد” مجھے بے حد پسند آیا۔ اس کے بول بھی اچھے ہیں اور گایا بھی اچھا ہے۔ پی۔ٹی۔وی کے ایک ڈرامے “برسوں بعد” کا ٹائٹل سونگ ہے یہ۔
بہت سے کام اور وعدے ہیں جو پورا ہونے کے انتظار میں ہیں۔ ونڈوز کرسٹل ایکس۔پی کا مختصر سا تعارف لکھنے کا وعدہ کیا ہے، ورڈ پریس بلاگ میں بنیادی تبدیلیوں کے لیے کچھ باتیں لکھنے کا وعدہ کیا ہے، تحفظِ حقوقِ مرداں پر کچھ تحریریں لکھنے کا سوچا ہے۔۔۔ لیکن ہائے رے مصروفیات۔ دوسری طرف ابو شامل صاحب کا پرزور اصرار ہے کہ وکیپیڈیا پر لکھوں، اردو محفل پر محب بھائی جان کلاس لیتے ہیں کہ اردو۔انگریزی لغت کا کام کہاں تک پہنچا، ابو کہہ رہے ہیں کہ کوئی ہنر سیکھ لوں، موبائل فون یا کمپیوٹر کے حوالہ سے کوئی کورس کروں، میرا ارادہ ہے کہ پہلے انگلش لینگویج کا کورس کروں، کالج جاکر جغرافیہ کے پریکٹیکل کا بھی معلوم کرنا ہے، ایک ننھی سی جان اور اس پر یہ ہزار کام۔۔۔۔ توبہ ہے۔ ایک تو معمول سے پہلے عملی زندگی میں قدم رکھا ہے اور پھر عملی زندگی بھی اس قدر مصروف ہے کہ کیا بتاؤں؟ قرآن پاک بھی عرصہ سے باقاعدہ دہرا نہیں پایا۔ کل بیٹھا تھا تو چھبیسویں پارے سے شروع کیا۔
ابو سے کہہ کر کتاب ان کے خزانۂ کتب سے کتاب نکلوائی ہے، مسلم اسپین۔ سوچا ہے وکیپیڈیا کے لیے اس میں سے مواد اکٹھا کروں۔ ابھی یہ فیصلہ نہیں کرپایا کہ گھر پر انٹرنیٹ کنیکشن لگواؤں یا کیبل ٹی۔وی کا کنکشن۔۔۔ انٹرنیٹ سے کافی سارے کام وابستہ ہیں لیکن یہ تھوڑا مہنگا ہے۔ کیبل ٹی۔وی اس وقت بہت سی معلومات کا ذریعہ ہے۔ سرکاری ٹی۔وی دیکھ دیکھ کر تنگ آگیا ہوں۔۔۔ لیکن جب بھی میں انٹرنیٹ کنیکشن یا کیبل ٹی۔وی کی بات کرتا ہوں تو گھر والے کہتے ہیں کہ تم گھر میں کتنی دیر ہوتے ہو جو تمہیں ان چیزوں پر خرچہ کرنے کا خیال ہے۔۔۔۔۔۔۔ یہ فیصلہ بھی کرنا ہے۔۔۔
یارو! بتاؤ، کیا کیا کروں؟
قاضی القضاء (چیف جسٹس آف) پاکستان جناب افتخار محمد چوہدری صاحب بحال ہوگئے۔ فل کورٹ نے صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیدیا۔۔۔ یہ شکست ہے باطل کی۔۔۔ آمر کی۔۔۔ پرویز مشرف اور اس کے حواریوں کی۔۔۔ لوٹوں کو۔۔۔
12 مئی کو الطاف حسین نے بہت بکواس کی تھی اپنے ٹیلیفونک خطاب میں۔۔۔ اس وقت میرا دل کررہا ہے کہ الطاف حسین کو ٹھینگا دیکھاؤں۔۔۔! کہاں ہے تو اے الطاف؟؟؟
گذشتہ سوموار کو میرا انگریزی کا پرچہ تھا۔ اتوار کے دن صبح اٹھا۔۔۔ ناشتہ وغیرہ کیا۔ دوسرے کام نمٹائے۔ پھر دوپہر ہوگئی۔ کھانا کھایا، سوچا کہ پڑھنے بیٹھوں تو نیند آنے لگی۔ پھر سوگیا۔ عصر کے بعد اٹھا۔۔۔ عصر پڑھی، پھر شام کا ناشتہ۔۔۔ اس کے بعد مغرب ہوگئی۔ مغرب کے بعد باقاعدہ پڑھائی کرنا شروع کی۔ میری عادت ہے کہ ٹہل ٹہل کر یاد کرتا ہوں۔۔۔ اس طرح مجھ پر سستی طاری نہیں ہوتی۔ اب ٹہلتے ٹہلتے جو برآمدہ کی طرف نکلا تو دیکھتا ہوں کہ باہر سڑک پر شامیانہ وغیرہ لگاکر محفل نعت کا انتظام کیا جارہا ہے۔ رات عشاء کے بھی کافی بعد محفل نعت کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر اتنا زور پکڑا کہ میرے لیے پڑھائی کرنا محال ہوگیا۔ رات ڈھائی بجے تک میں اسی حالت میں پڑھائی کرتا رہا۔۔۔ انتہائی زور دار آواز میں اسپیکر سے نعتوں کا سلسلہ جاری تھا۔۔۔ میں، تین بجے لیٹا تو اس کے بھی کچھ دیر بعد محفل نعت اختتام پذیر ہوئی۔
میں نے اپنے ابو سے گفتگو کی کہ کیا یہ ٹھیک ہے؟ کیا اس طرح محفل نعت کا انعقاد کرنے سے لوگوں کو تکلیف نہیں ہوتی۔۔۔؟ حقوق العباد تلف نہیں ہوتے؟؟ آخر یہ کیا ضروری ہے کہ محفل نعت کا انعقاد اس طرح کیا جائے کہ لوگوں کو تکلیف ہو۔ سونے والے سو نہیں سکتے اور بیمار لوگوں کو خاموشی و سکون نہیں مل سکتا۔ ہمارے علماء کیوں ان مسائل پر بولنے کی ہمت نہیں کرتے۔۔۔؟ کیا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یہی کچھ سکھاتی ہے؟ ابو نے کہا کہ یہ غلط ہے۔۔۔ مگر ان کو کون سمجھائے؟
ایسا نہیں ہے کہ میں محفل نعت کا مخالف ہوں۔۔۔ میں ایک سچا اور صحیح العقیدہ مسلمان ہوں۔ محفل نعت میں شرکت کرنا اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا باعث فخر و ثواب سمجھتا ہوں لیکن میرا عشق۔۔۔ میری محبت۔۔۔ میرا رشتہ۔۔۔ نبی اکرم حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف نعت پڑھنے تک محدود نہیں۔۔۔
یہ بھی نہیں ہے کہ میں صرف محفل نعت کے اس طرح انعقاد پر اعتراض کرتا ہوں۔۔۔ گانے بجانے اور دوسرے لہو و لعب والے بھی جب زور و شور سے اپنی حرکتیں کرکے تنگ کرتے ہیں تو ان پر بھی ایسا ہی غصہ آتا ہے۔۔۔
لوگوں کو یوں تکلیف دینا غلط ہے۔۔۔ چاہے اسلامی لبادہ اوڑھ کر کی جائے یا شیطانی لبادہ۔۔۔
لیکن ان کو کون سمجھائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں جس شخص پر سب سے زیادہ بھروسہ ہوتا ہے، وہی دھوکہ دے جاتا ہے۔ کچھ لوگوں سے آپ توقع کرسکتے ہیں یا ان کے بارے میں آپ سوچ سکتے ہیں کہ ان کی طرف سے دھوکہ بھی ہوسکتا ہے لیکن جس کے ساتھ آپ کا کافی وقت گزرے اور وہ آپ کا اعتماد حاصل کرلے، پھر دھوکہ دے جائے تو خود کو سنبھالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
مجھ پر یہ حالت ایک بار نہیں گزری۔۔۔ اتنی بار گزری ہے کہ اب تو سچے دل سے کسی پر بھروسہ کرنے کا جی ہی نہیں کرتا۔ حالانکہ میں، لوگوں سے اپنے تعلقات میں نفسیاتی پہلو پر بہت غور کرتا ہوں۔ فرصت کے اوقات میں سوچتا ہوں کہ کون کیسا ہے؟ اس سے کس حد تک تعلقات استوار کرنے ہیں؟ کتنی حد تک بے تکلفی رکھنی ہے؟ کیا کیا توقع کیا جاسکتا ہے؟ اور بہت کچھ۔۔۔ اتنا کچھ سوچتا ہوں۔۔۔ تب جاکر بات آگے بڑھاتا ہوں۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔
کیا بتاؤں۔۔۔! کس پر کیا تھا بھروسہ۔۔۔ اتنا بھروسہ کہ اس کے علاوہ مجھے کوئی نظر ہی نہ آتا تھا۔۔۔ صرف وہ۔۔۔ ہر پل، ہر لمحہ۔۔۔ اور اس کی باتیں بھی ایسی تھیں۔۔۔ کبھی جدا نہ ہونے کے وعدے۔۔۔ ہر مشکل سہنے کا عزم۔۔۔ لیکن۔۔۔ وہ جھوٹ تھا۔ ایسا جھوٹ جس پر مجھے اب بھی سچ کا شائبہ ہوتا ہے۔۔۔ میں نے اس پر یقین کیا۔۔۔ اس کو مجھ سے کوئی فائدہ نہ تھا۔۔۔ میں اسے کچھ دے نہ سکتا تھا۔۔۔ پھر بھی اس نے میری قربت اختیار کی۔۔۔ تو میں کیوں نہ کرتا اس پر بھروسہ۔۔۔؟؟؟ آنکھ بند کرکے اعتماد کیا۔۔۔ لیکن کیا ہوا آخر؟ دھوکہ۔۔۔ صرف دھوکہ!
میں وہ باتیں، وہ یادیں۔۔۔ سب بھلانا چاہتا ہوں۔۔۔ پَر ایسا نہیں ہوتا۔۔۔ ہم نے ہر وقت جس کے لیے سپنے سجائے ہوں، اسے اتنی جلدی کیسے بھلایا جاسکتا ہے؟ اور پھر جب میں اسے بھلانے کے قریب پہنچتا ہوں تو کہیں نہ کہیں اس سے میرا ٹکراؤ ہوجاتا ہے۔۔۔ اور میں دوبارہ اس کی یادوں میں جکڑ جاتا ہوں۔۔۔ کیوں ہوتا ہے دھوکہ؟؟؟ لوگ کیوں دیتے ہیں دھوکہ؟ کیوں کھیلتے ہیں دوسروں کے جذبات سے۔۔۔؟
اور پھر دوسرا دھوکہ۔۔۔ پچھلے دنوں۔۔۔ ہمیشہ کی طرح میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔۔۔ میرے (سابقہ) پھپھوزاد بھائی سفیان نے دھوکہ دیا۔۔۔ غداری۔۔۔ الزامات کی بوچھاڑ۔۔۔ افسوس۔۔۔۔۔ صد افسوس!
ہم نے جن کو کوئی خاص اہمیت نہ دی ہو، اگر ان کی طرف سے کچھ ایسا ہو تو پھر بھی گزارا ہوجاتا ہے لیکن ہم نے جنہیں بہت اہمیت دی ہو۔۔۔ جن کا بھلا چاہا ہو۔۔۔ اور جنہوں نے ہمیں مجبور کیا ہو کہ ہم ان سے اچھی توقعات رکھیں۔۔۔ ان کی طرف سے دھوکہ۔۔۔۔ افسوس۔۔۔!
اے اللہ مجھے اچھے لوگوں کا ساتھ عطا فرما اور مجھے بھی اچھا بنا۔ آمین
عرصہ ہوا کہ میں اپنے بلاگ سے غائب ہوں۔ اگرچہ میں کوئی ایسی اہم شخصیت نہیں جس کی غیر حاضری پر لوگ تشویش کریں یا اس حوالہ سے کچھ سوچیں لیکن پھر بھی دو ایک ساتھیوں نے دریافت کیا کہ بلاگ سے غیر حاضری کی کیا وجہ ہے؟
ایسا ہرگز نہیں ہے کہ میرے پاس لکھنے کو کچھ نہیں بچا۔ خاص طور پر گذشتہ کچھ دنوں سے تو کافی باتیں ایسی ہیں جو میں یہاں لکھنے کا سوچے بیٹھا ہوں لیکن ہائے رے فرصت۔۔۔! کہاں گئی تُو؟
میرے امتحانات بھی چل رہے ہیں۔ (فرسٹ ائیر آرٹس کا طالبعلم ہوں)۔ پھر ملازمت کی مصروفیات۔۔۔ کچھ وقت نہیں مل پاتا۔ تھوڑے بہت فرصت کے اوقات جو ملتے ہیں، وہ اردو محفل پر گزار کر خود کو تازہ دم کرلیتا ہوں۔
ابھی میرے دو پرچے ہوئے ہیں۔ پہلا اسلامک اسٹڈیز کا جو تین جولائی کو ہوا اور پھر اردو کا جو پانچ جولائی کو تھا۔۔۔ ادھر میری تیاری کا عالم دیکھیے۔۔۔ اسلامک اسٹڈیز کا پرچہ منگل کو تھا۔۔۔ اور میں نے اتوار سے پڑھنا شروع کیا۔۔۔ باقاعدہ تیاری سوموار اور منگل کی درمیانی شب کی۔۔۔ ڈرتا تھا کہ خدا جانے کیسا ہوگا پرچہ لیکن 80 فیصد بہتر ہوا۔ شکر الحمد اللہ۔
اردو کا پرچہ جمعرات کو تھا۔ یعنی کہ میرے پاس تیاری کرنے کے لیے صرف بدھ کا دن تھا۔۔۔ سال بھر کچھ پڑھا نہ تھا۔۔۔ اس ایک دن لگ کر تیاری کی۔۔۔ اردو کا پرچہ 100فیصد کیا۔۔۔ امید ہے کہ 85 سے 90 فیصد نمبر تو ضرور مل جائیں گے۔۔۔ ان شاء اللہ۔
اب جمعرات کو یعنی کل مدنیت کا پرچہ ہے۔ اتوار سے پڑھنے کی کوشش کررہا ہوں لیکن ذہن میرا ساتھ نہیں دے رہا۔۔۔ بوجھل بوجھل سی حالت ہے۔۔۔ دن بھر دفتر میں مصروف رہنے کے بعد گھر لوٹتا ہوں تو میرے پاس صرف چار گھنٹے ہوتے ہیں جس میں مجھے خود کو تھوڑا تازہ دم بھی کرنا ہوتا ہے، پڑھائی بھی کرنی ہوتی ہے، کھانا، پینا بھی ہوتا ہے۔۔۔
یہ صورتحال ہے۔ تاہم، امید ہے کہ آج گھر جاکر اچھی طرح تیاری کروں گا۔۔۔ آپ سب کی دعاؤں کی بھی ضرورت ہے۔۔۔