قصہ ایک نادانی کا
اگرچہ لوگوں کے بے حد اصرار پر ہم نے نادانی سے راہبری کی طرف دوبارہ رجوع کرلیا تھا لیکن کیا کرتے کہ اس نام کا اثر کچھ تو آنا ہی تھا۔ نادانیاں سرزد ہونی ہی تھیں۔ اب اسی طرح، دیکھیے تین دن پہلے کی یادگار نادانی جو کہ طویل عرصہ تک ہمیں اپنی یاد دلائے گی۔
ابو کے ساتھ صبح موٹر بائیک پر دفتر آتا ہوں۔ بدھ کا دن تھا۔ معمول کے مطابق سفر کررہے تھے۔ راستے میں ابو کو کسی صاحب سے تھوڑی دیر کے لیے ملنا تھا۔ لہذا ابو موٹرسائیکل سے اتر کر ان صاحب سے ملنے چلے گئے اور میں ان کا انتظار کرنے لگا۔ گاڑی کے اگنیشن پر نظر پڑی تو دیکھا کہ چابی لگی ہوئی تھی۔ خیال آیا کہ کیوں نہ موٹر سائیکل چلانے کا تجربہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ ہمیں زندگی میں کبھی سائیکل تک چلانی نصیب نہیں ہوئی، موٹر سائیکل کیا خاک چلاتے؟ بہرحال! تھوڑی بہت شد بد تھی۔ گو کہ ہمیں موٹر سائیکل چلانے کا کوئی شوق نہیں لیکن حیرت انگیز امر یہ کہ گذشتہ طویل عرصہ سے ہمیں اکثر خواب آتا ہے کہ ہم موٹر سائیکل چلارہے ہیں، کسی ماہر کی طرح۔ یہ خواب دیکھ دیکھ کر ہم تنگ آگئے اور مجبور ہوکر یہ سوچنے لگے کہ کہیں خواب میں ہمیں تربیت تو نہیں دی جارہی۔
لوٹتے ہیں اس دن کے واقعہ کی طرف۔ ابو کسی صاحب سے ملنے گئے تھے۔ ہم نے چابی گھمائی، کک ماری۔ بائیک اسٹارٹ۔ واہ! کمال ہوا۔ گاڑی پہلے گئیر میں ڈالی اور ایکسلیٹر ذرا سا گھمایا تو گاڑی نے جھٹکا کھایا، آگے سے اچھلی اور بند۔ ہائیں ں ں ں۔۔۔! یہ کیا ہوا؟ دوبارہ بائیک اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی تو اسٹارٹ ہوکر نہ دے۔ غصہ چڑھا۔ چابی گھماکر بند کی اور پھر کھولی تو ہماری نظر گئیر انڈیکیٹر پر پڑھی جس کے مطابق ہماری گاڑی پہلے گئیر میں تھی۔ اپنی حماقت پر ہنسی آئی۔ کلچ دبائے بنا گئیر بدل ڈالا تھا، نتیجہ یہی تو نکلنا تھا۔ خیر! پھر سے گاڑی نیوٹرل گیئر میں کی۔ پھر کک مارکر اسٹارٹ کی اور یاد سے کلچ دباکر گئیر بدلا، اب کی بار گاڑی ذرا رفتار سے آگے کو بڑھی لیکن پھر بند۔۔۔ اب کیا مسئلہ ہوا؟ کچھ سمجھ نہ آیا۔ ہم نے تیسری کوشش ضروری سمجھی۔ لیگ بریک کا تو خیال ہی نہ تھا، سوچا ہینڈ بریک کو دھیان میں رکھیں، کہیں گاڑی زیادہ رفتار نہ پکڑ لے (حالآنکہ ہینڈ بریک کافی خطرناک ہوتی ہے مگر ہم نادان جو ٹھہرے)۔ گاڑی اسٹارٹ کی، پہلے گئیر میں ڈالی، تھوڑی اسپیڈ دی تو چلی، ہینڈ بریک سے رفتار کم کی اور پھر گاڑی بند ہوگئی۔
گاڑی اگرچہ بار بار بند ہورہی تھی لیکن ہمارا حوصلہ اور جوش و ولولہ بڑھتا جارہا تھا۔ ہم نے ہر طرف ایک نظر ڈالی۔ سامنے ایک اور موٹرسائیکل کھڑی تھی۔ فٹ پاتھ اور اس موٹر سائیکل کے بیچ میں تھوڑا سا ہی فاصلہ تھی۔ دوسری طرف ہم نے دیکھا کہ ابو دروازے سے نکل رہے ہیں۔ سوچا کہ جلدی سے ایک اور کوشش کرلی جائے۔ گاڑی اسٹارٹ کی، اعصاب پر تناؤ کے سبب غیرمحسوس طریقہ سے ایکسلیٹر پر دباؤ تھوڑا بڑھ گیا، ادھر بوکھلاہٹ میں لیگ بریک تو کیا، ہینڈ بریک کا بھی دھیان نہ رہا۔ گاڑی جو جھٹکا کھاکر چلی تو پھر چلنے لگی۔ ہم نے روکنے کے لیے زمین پر کئی بار پاؤں مارا لیکن وائے ناکامی۔ سامنے موٹرسائیکل کھڑی تھی۔ ابو آواز لگاتے ہوئے تیز تیز چلتے چلے آرہے تھے۔ ہم گاڑی روکنے کی کوشش میں تھے لیکن کوششوں کے بعد ہماری موٹرسائیکل فٹ۔پاتھ اور دوسری موٹر سائیکل کے درمیانی فاصلہ میں گھس گئی۔ اس مختصر جگہ میں ہماری موٹرسائیکل تو جاکر رک گئی مگر ہمارے سیدھے پیر کو جگہ نہ ملی اور اسے بچانے کے لیے ہم نے اپنا پاؤں پیچھے کی سمت کیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارا سیدھا پاؤں جاکر گرم گرم سائلنسر پر لگا اور جل گیا۔ ابو دوڑتے ہوئے آئے۔ گاڑی سنبھالی۔ میں نے اترکر اپنا پاؤں دیکھا لیکن درد کا اظہار نہ کیا۔ دفتر کی سمت چل پڑے۔ تکلیف برداشت کیے بیٹھا رہا۔ دفتر جانے سے پہلے مجھے اپنے کالج سے امتحان کی معلومات لینی تھیں، ابو نے وہاں چھوڑا۔ معلومات لے کر قریب ہی ابو کی دکان ہے، وہاں چلا آیا۔ زخم کا بغور معائنہ ہوا۔ ابو نے فیصلہ صادر کیا کہ راستہ میں سے ہمدرد مرہم لے کر لگاؤ۔۔۔
بس۔۔۔ اس دن سے ہم اس زخم کو لیے بیٹھے ہیں۔ روزانہ پٹی بدل رہے ہیں، دھڑا دھڑ برنال لگارہے ہیں لیکن یہ زخم ہے کہ ٹھیک ہونے کو نہیں آرہا۔ زخم کی جگہ پر کافی کھال اکھڑ گئی ہے۔۔۔۔ اندر سے خون جھانک رہا ہے۔ باقی حصہ سیاہ پڑا ہے۔۔۔ چلنے پھرنے میں تکلیف ہے۔۔۔ سب کچھ ہے۔۔۔ مگر وہ جوش بھی اب تک باقی ہے اور اب ہم نے سوچ لیا ہے کہ اس ظالم موٹرسائیکل کو چلاکر ہی چھوڑیں گے۔
(گاڑی کے بار بار بند ہونے اور جھٹکا مارنے کی وجہ ابو نے یہ بتائی کہ پہلے گئیر میں ڈال کر کلچ فورا نہیں چھوڑتے بلکہ آہستہ آہستہ ڈھیلا کرتے ہیں۔)
اگلے تجربے کا یعنی ہماری اگلی نادانی کا انتظار کیجیے۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
June 16, 2007 بوقت 4:00 pm
اردو بلاگنگ کی دنیا میںخوش آمدید
زخم پر اینٹی بائیاٹک مرہم لگائیے ٹھیک ہوجائے گا
آپ کی نادانی سے ہمیںاپنی نادانی یاد آگئ جب اسی طرح ہم ایک دوست کے ویسپا پر ڈرئیونگ سیکھی تھی۔
June 17, 2007 بوقت 11:00 am
اللہ کا بار بار شکر ادا کیجئے کہ آپ کے موٹر سائیکل نے جست نہیں لگائی ورنہ نیچے گرنے سے زیادہ نقصان ہو جاتا ۔ آئندہ بغیر ترکیب استعمال پڑھے کوئی مشین نہ چلائے گا ۔
جلے ہوئے پر مرہم صرف اس وقت لگایا جاتا ہے جب جلد زیادہ جل جائے اور گرم مرطوب ہوا نہ ہو ۔ زخم پر خشک اینٹی بائیوٹک پاؤڈر لگائیے ۔
June 17, 2007 بوقت 7:27 pm
اردو سیارہ پر آپ کی پوسٹ نہ چھپتی تو ہم آپ سے ناواقف رہتے! کہ آپ بلاگر بھی بن چکے ہے! محفل میں تو آپ کو دیکھ چکے تھے!
اب 22 پوسٹ ہو چکی اور آپ کا علم ہوا!!! موٹر سائیکل کو شیطانی سواری کہتے ہے! کچھ تو شیطانی دیکھائی گی خواہ نادانی ہو ہا نہیں
June 18, 2007 بوقت 7:25 am
اردو بلاگنگ کی دنیا میں خوش آمدید !!!
میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ موٹر سائیکل چلانا سیکھنا ہو تو کوئی بھاری گاڑی استعمال کی جائے ۔ ہونڈا سی ڈی کو مبتدی چلانے کی کوشش کرے تو اس کا اگلا پہیہ ہوا میں اٹھتا ہے اور اکثر الٹ سکتا ہے ۔ اگر یاماہا یا ہونڈا 125 پر سیکھا جائے تو کافی بچت ہو سکتی ہے ۔
گاڑی بار بار اس لیے بند ہو رہی تھی کہ آپ جلدی سے کلچ چھوڑ دیتے تھے ۔ کلچ کو آرام آرام سے غیر محسوس طریقے سے چھوڑیے اور ساتھ ہی ساتھ آرام آرام سے ایکسیلیریٹر گھماتے جائیے ۔
زیادہ رفتار سے چلانے کی کوشش نہ کیجیے ۔ ایک مشاق ڈرائیور وہی ہوتا ہے جسے کم رفتار پر گاڑی چلانے کا تجربہ ہو ۔ میری مانیں تو جب تک آپ کم از کم ایک لاکھ کلومیٹر نہ چلا لیں ، موٹر سائیکل کی رفتار 50 سے زیادہ مت کریں ۔
June 18, 2007 بوقت 11:13 am
ماشاء اللہ۔ اتنے مایہ ناز اور معروف بلاگرز کی یہاں آمد نے ہمارے بلاگ کی رونق دوبالا کردی ہے۔
ہمارے زخم نے جو ہماری درگت بنائی ہے، وہ بھی خوب رہی ہے۔ سنیچر کو گھر والوں کے بے حد اصرار پر ہم ابو کے ساتھ ڈاکٹر کے ہاں جا پہنچے۔ وہاں ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ زخم کی صفائی ہونا لازمی ہے۔ ہم نے اس کو لاکھ سمجھایا کہ ابھی تکلیف سے ایسا برا حال ہے کہ تیز ہوا بھی چھوتی ہے تو تکلیف ہوتی ہے لیکن ڈاکٹر ٹھہرا ڈھیٹ۔ نسخہ میں صفائی کرنا لکھ ہی دیا۔ ڈاکٹر کے کمرے سے باہر نکلے تو تھوڑی دیر میں کمپاؤڈر آگیا جس نے زخم کی صفائی کرنی تھی۔ اس کو بھی میں نے سمجھایا کہ بھائی، تکلیف بہت ہے، ذرا ہلکا ہاتھ رکھنا لیکن ہائے ظالم! روئی پر دوائی لگائی اور بے رحمانہ طریقے سے زخم پر مل کر جلی ہوئی ساری کھال اکھیڑ دی۔ تکلیف سے میرا برا حال اور میرے چہرے پر تکلیف کے آثار دیکھ کر سامنے بیٹھے ابو مجھے میدانِ جہاد کی باتیں سناتے رہے کہ تصور کرو تم غازی ہو اور جہاد کررہے ہو، ایسی ہی تکلیف ہوتی ہے۔۔۔ بہرحال! جب اس نے میری کھال کھینچی اور پھر اس پر دوائی لگائی تو اس وقت تکلیف کی شدت سے میں بے ہوش ہوگیا۔
اب بے ہوش ہوا تو دائیں طرف لڑھکا، ادھر کرسی رکھی تھی، اس پر منہ دے مارا۔ ہونٹ پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔ جب میری آنکھ کھلی تو مجھے کھڑا کیا جارہا تھا اور ساری دنیا اوپر نیچے ہورہی تھی۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آتا تھا کہ یہ کیا ہوگیا۔ کوئی دوائی سونگھاکر مجھے ہوش میں لایا گیا۔ ابو بھاگے بھاگے گئے اور جوس لے کر آئے۔ تھوڑی دیر بعد حواس بحال ہوئے تو منہ ہاتھ دھوکر گھر کو لوٹا۔
ہائے ہماری نازک مزاجی!
June 18, 2007 بوقت 11:21 am
شعیب بھائی! پہلے تو ہم اسے نادانی کہتے رہے، لیکن اب جو کچھ ہمارے ساتھ حال ہوچکا، اس کی وجہ سے ہم واقعی آپ سے اتفاق کرتے ہوئے شیطانی ہی کہیں گے۔
اجمل صاحب! اصل میں گذشتہ کئی عرصہ سے ہمیں موٹر سائیکل چلانے کے خواب اس قدر تسلسل سے آئے تھے کہ ہم سمجھے شاید ہمیں خواب ہی میں تربیت دے دی گئی ہے۔ یہ یاد نہ رہا کہ ہمارا خواب ہمیشہ یہاں سے شروع ہوتا تھا کہ ہم موٹر سائیکل رفتار سے بھگارہے ہوتے تھے، کبھی اسٹارٹ کرتے ہوئے تو دیکھا ہی نہیں۔ یہیں آکر ہم مات کھاگئے۔ اور ہمیں موٹرسائیکل چلانے کا کوئی خاص شوق بھی نہیں تھا اس لیے کبھی سیکھنے کی کوشش بھی نہ کی تھی۔
قدیر احمد صاحب! آپ کے مشورے واقعی بہت اچھے ہیں۔ ہمارا پاؤں ٹھیک ہونے دیں، پھر آپ کے مشوروں کو مدنظر رکھتے ہوئے تجربات کریں گے۔
June 20, 2007 بوقت 3:58 am
واہ راہبر واہ
جب نادان راہبر کو سب ہی نے اتنے قیمتی مشوروں (بلکہ تجربوں ) سے نوازا ہے تو ہم کیوں پیچھے رہیں۔ جناب ہمارا انمول مشورہ ہے کہ جب تک آپ موٹر سائیکل چلانی نہیں سیکھ لیتے اسوقت تک موٹر سائیکل پر بیٹھنے سے اجتناب برتیں۔