No Gravatar

کئی دنوں کی منصوبہ بندی کے بعد طے ہوا کہ آج (2 مئی 2007ء) کو دفتر جاتے ہوئے لینکس پاکستان کے دفتر سے ہوتے چلیں۔ سبب یہ تھا کہ شاکر بھائی اور ماہنامہ “کمپیوٹنگ” نے “اوبنٹو” کا جو شاندار نقشہ کھینچا تھا اس کے بعد ہمارے لیے مزید صبر کرنا مشکل تھا۔ اگرچہ ہم “شپ اٹ” کی سہولت سے “اوبنٹو” کا نیا ورژن منگوا چکے ہیں لیکن خدا جانے کہ وہ کتنے عرصہ میں ملے۔
بہر حال! صبح والد صاحب کے ساتھ موٹر سائیکل پر نکلے اور “لینکس پاکستان” کے دفتر کی طرف چلے۔ اس کا دفتر مرکزی شاہراہ پر نہیں بلکہ ایک گلی میں جاکر ہے۔ گلی میں ہر طرف بنگلے ہیں۔۔۔ پوری گلی گھومنے کے باوجود کہیں پر “لینکس پاکستان” کا کوئی نشان نظر نہیں آیا۔ بنگلوں پر لگی ناموں کی تختیاں پڑھنے پر ایک بنگلہ ہمیں ایسا نظر آیا جس کے باہر وہی پتہ لکھا تھا جو کہ “لینکس پاکستان” کی ویب سائٹ پر دیا گیا ہے۔ ہم نے اتر کر دیکھا تو اس کے دروازے پر کسی “ایڈووکیٹ” صاحب کے نام کی تختی لگی تھی۔ تھوڑی دیر تک شش و پنج میں مبتلا رہنے کے بعد سوچا کہ اطلاعی گھنٹی دبادی جائے۔ اس خیال پر عمل کرنے سے پہلے ہی ہمیں دروازے پر ہاتھ سے لکھی ایک تحریر نظر آگئی کے یوٹیلٹی بلز وغیرہ برابر والے دروازے پر دے جائیں۔۔۔ یعنی کہ دروازہ نمبر اول پر۔۔۔ سو ہم نے بہتر سمجھا کہ ہم بھی اسی دروازے پر رابطہ کریں۔ وہاں دستک دی تو ایک باریش نوجوان نے دروازہ کھولا۔ ہمارا مدعا سننے کے بعد ہمیں اندر لے آیا۔ بنگلے کے اندر ایک بینر لگا تھا جس پر لکھا تھا: “لینکس پاکستان”۔ ہم نے دل ہی دل میں انتظامیہ کی عقل کو داد دی۔
تھوڑی دیر ہم تنہا دفتر میں بیٹھے رہے۔ پھر ایک ادھیڑ عمر صاحب آئے اور ہم سے دفتر آنے کا سبب دریافت کیا۔ ہم نے انہیں بتایا کہ “اوبنٹو” کا نیا ورژن درکار ہے جس پر انہوں نے انکار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ “اوبنٹو” نہیں رکھتے۔ وجہ یہ ہے کہ لوگ “شپ اٹ” کی سہولت سے منگوالیتے ہیں یا پھر ڈاؤن لوڈ کرلیتے ہیں۔ یہ سن کر ہمارا منہ لٹک گیا جس پر انہوں نے کہا کہ شاید علی رضوی نے ڈاؤن لوڈ کیا ہو، میں دیکھتا ہوں۔۔۔ یہ کہہ کر وہ چلے گئے۔۔۔ کافی دیر ہوگئی۔۔۔۔۔ ہمارے والد صاحب باہر دھوپ میں موٹر سائیکل پر ہمارا انتظار کررہے تھے۔۔۔ ہم نے بہتر سمجھا کہ انہیں بھی اندر ہی بلالیا جائے سو وہ بھی اندر آگئے۔۔۔ ہم “لینکس پاکستان” کے انتظام و انصرام پر گفتگو کررہے تھے کہ وہ صاحب آگئے۔ انہوں نے آکر ہمیں علی رضوی صاحب کا رابطہ نمبر فراہم کیا اور تجویز دی کہ ان سے رابطہ کریں۔۔۔ سو مایوس ہوکر ہم نکلنے کو تھے کہ باتوں میں “اوبنٹو” کے ساتھ “کبنٹو” کا تذکرہ چھڑ گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر “کبنٹو” چاہیے تو وہ مل جائے گا۔ ہم نے کہا، بسم اللہ! وہی سہی! سو وہ صاحب پھر ایک طویل عرصہ کے لیے غائب ہوگئے۔ اسی اثنا میں بجلی بھی چلی گئی۔ کافی دیر بعد وہ جناب، اپنے ہاتھ میں ایک سی۔ڈی لیے نمودار ہوئے۔ کہنے لگے، نجانے کیا مسئلہ ہے کہ کمپیوٹر یہ سی۔ڈی اٹھا ہی نہیں رہا حالآنکہ یہ کل ہی اسلام آباد سے آئی ہے۔۔۔ خیر! ان کی صفائیاں سن کر ہم دفتر سے نکلنے کو اٹھے تو ہمارے والد صاحب نے ان کی توجہ اس طرف دلائی کہ راستہ میں کہیں تو اس کی نشاندہی کریں ورنہ تو یہاں تک پہنچنا کافی مشکل ہے۔۔۔ جس پر وہ صاحب (انہوں نے آخر میں اپنا نام بتایا، طارق صاحب) کہنے لگے کہ یہ دفتر ہم نے ہر عام بندہ کے لیے نہیں رکھا بلکہ صرف ممبرز ہی آتے ہیں۔۔۔ خدا جانے، ممبرز سے ان کی کیا مراد تھی۔۔۔ بہرحال! انہوں نے ہمیں دروازے تک چھوڑا۔۔۔ اور اتنا وقت ضائع کرنے کے بعد ہم
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔