جنسی معاملات پر گفتگو
پاکستان میں جنسی موضوعات پر گفتگو کو شجر ممنوعہ تصور کرلیا گیا ہے۔ لوگوں کا یہ رویہ نوجوان نسل کے لیے بے حد مسائل پیدا کرنے کا سبب ہے اور اس باعث نوجوان نسل کی اکثریت غلط راستہ پر گامزن ہے۔ اگر انہیں اپنے گھر والوں یا کسی بڑے کی طرف سے کوئی رہنمائی ملی ہوتی تو ہرگز ایسا نہ ہوتا۔
شاید کسی کو اخبارات میں کبھی کبھار ایسی خبریں بھی پڑھنے کو ملی ہوں کہ دینی مدارس میں بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ یہ ایک انتہائی حساس پہلو ہے۔ اس حوالہ سے میرے پاس لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن مجھے تھوڑی جھجھک ہے کہ اس موضوع پر حقائق سامنے لاؤں یا پس پردہ رہنے دوں؟ پتا نہیں میرے بلاگ کو پڑھنے والے کتنے لوگ ہیں، لیکن پھر بھی مجھے لوگوں کی آراء کا انتظار رہے گا۔ اگر آپ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس حوالہ سے انکشافات سامنے آنے چاہئیں یا پس پردہ رہنے چاہئیں تو اپنی رائے سے آگاہ کیجئے تاکہ پھر کوئی فیصلہ کیا جاسکے۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
May 25, 2007 بوقت 4:00 pm
اس حوالے سے کچھ ایسی باتیں میرے علم میں آئیں جو بہت افسوس ناک ہیں- پنجاب میں ایک دینی ادارے کے قریب رہنے کا اتفاق ہوا تو جو حقائق سامنے آئے وہ بتانے کے بھی قابل نہیں ہیں-
آپ کو میرا تو یہی مشورہ ہے ایسے موضوعات کو نہ ہی چھیڑیں تو اچھا ہے-
May 31, 2007 بوقت 9:06 pm
ہم میں سے ہر ایک کے اردگرد ایسے کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔ سکول سے لیکر مدرسہ اور آفس سے لیکر گلی محلے تک۔ ان کا چرچا نہ ہی کیا جائے تو اچھا ہے۔ کسی کا پردہ پوشی کرکے شاید ہمارا اپنا ہی بھلا ہو۔ عام جنسی مسائل پر لکھنے میں میرے خیال میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن مصالحہ لگانا صرف غرض نہ ہو۔