No Gravatar

ہر آنے والا دن اپنے ساتھ عجب ہولناکیاں اور وحشت لے کر آرہا ہے۔ گذشتہ اتوار ایک خبر نظر سے گذری تو دل بے چین ہوگیا۔ اگلے ہی دن، انٹرنیٹ کو کھنگالا تو مزید کچھ افسوسناک حقائق سامنے آئے۔ سچ پوچھیں تو اس خبر کی تفصیل نے مجھے بہت اداس کیا۔۔۔ میں اپنی حالت بیان نہیں کرسکتا۔
بہرحال! میں آپ کو بھی اس خبر سے آگاہ کررہا ہوں۔ گذشتہ ماہ (اپریل کی غالبا 7 تاریخ کو) یہ اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ “یزیدی فرقہ” عراق میں ایک اقلیتی فرقہ ہے (میں نے اس فرقہ کا پہلی بار پڑھا، کچھ لوگوں نے لکھا ہے کہ یہ غیرمسلم ہیں)۔ اس فرقہ سے تعلق رکھنے والی ایک سترہ (17) سالہ لڑکی دعا خلیل اسود اپنے فرقہ کو چھوڑ کر مسلمان ہوگئی اور کہا جارہا ہے کہ اس نے ایک مسلم لڑکے سے شادی کرنے کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ گئی۔ گھر والوں نے اسے یقین دلایا کہ وہ گھر لوٹ آئے تو اسے کچھ نہیں کہا جائے گا لیکن جب وہ گھر واپس لوٹی تو اسے قتل کردیا گیا۔ کہانی صرف اتنی سی ہی نہیں۔۔۔ قتل کرنے کا طریقہ نہ تو گولی مارنے والا تھا نہ پھانسی دینے والا۔۔۔ بلکہ اسے پتھر مار مار کر موت کے منہ میں دھکیلا گیا یعنی سنگسار کیا گیا۔ لڑکی کے جسم پر سرخ جیکٹ اور سیاہ انڈر وئیر بچی تھی۔ کچھ لوگوں نے موبائل فون سے اس کی ویڈیو بھی بنائی جو اس وقت انٹرنیٹ پر مختلف جگہ پھیل چکی ہے۔
مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ عراقی پولیس اہلکار وہیں قریب ہی کھڑے تھے لیکن انہوں نے لوگوں کو اس بھیانک کام سے روکنے کی ذرا بھی کوشش نہیں کی۔ لوگوں کا ایک ہجوم ہے جو وہاں کھڑا شور کررہا ہے۔ ایک نہیں، کئی لوگ ہیں جو اس واقعہ کی ویڈیو بنارہے تھے مگر کوئی ایک بھی روکنے والا نہ تھا۔ لڑکی نے نہ تو مزاحمت کی کوشش کی اور نہ ہی چینخ پکار کی، ہاں البتہ ایک بار اس نے اپنے آپ کو ڈھانپنے کے لیے اٹھنے کی کوشش کی لیکن ایک کمینہ شخص نے اس کے منہ پر لات مار کر دوبارہ گرادیا۔ اس لڑکی کا منہ خون آلود ہے۔۔۔ میں جب جب یہ منظر تصور کرتا ہوں، میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔۔۔ عجیب حالت ہوجاتی ہے۔۔۔ انسان اتنا گرا ہوا ہے؟
(مزید تفصیلات کے لیے گوگل سرچ انجن پر صرف اتنا لکھ دیں: yazidi girl dua killed)
وضاحت: اوپر بیان کیے گئے واقعات میں تھوڑا بہت فرق ہوسکتا ہے کیونکہ میں نے یہ واقعات مختلف اخبارات اور ویب سائٹس سے اکھٹے کیے ہیں۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔