12 مئی 2007ء
انسان کی ایک فطرت ہے۔ اگر آپ مکمل یقین دلانے میں کامیاب ہوجائیں کہ دنیا اس کے ساتھ ظلم کررہی ہے اور آپ اس کے ہمدرد ہیں تو وہ آپ کے پیچھے دوڑے گا۔ آپ اگر سحر بیاں ہیں تو وہ آپ کی باتوں میں مدہوش ہوجائے گا۔ آپ کو اپنا مصلح سمجھے گا۔
متحدہ قومی مومنٹ (سابقہ مہاجر قومی مومنٹ) نے کراچی کی مہاجروں کے ساتھ یہی کیا۔ ان کو احساس دلایا کہ تمہارے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے۔۔۔ تم پر ظلم ہوتا ہے۔۔۔ اٹھو، ہمارے ساتھ آؤ۔۔۔ اور مہاجر اٹھ کھڑے ہوئے۔ لسانی فسادات بھڑکے اور کراچی جلنے لگا۔۔۔ میرا پیارا شہر کراچی۔۔۔۔۔ میرے ملک کا معاشی مرکز تباہ ہوگیا۔ متحدہ قومی مومنٹ کے ساتھ نا انصافی کا الزام لگانے والے بتائیں۔۔۔ ہاں بتائیں کہ کیا انہوں نے عوامی سطح پر ایم۔کیو۔ایم کا کردار غیرجانبداری سے ملاحظہ کیا ہے؟ کیا انہیں پتا ہے کہ بھتہ خوری اس جماعت کا شیوہ ہے۔۔۔ اس جماعت کی پہچان ہے۔ کیا انہیں پتا ہے کہ اس دہشت گرد جماعت کے غنڈے چندہ کے نام پر بھتہ مانگتے تھے؟ اور نہ دینے والوں کے ساتھ وہ سلوک ہوتا تھا کہ توبہ توبہ۔۔۔ جایئے۔۔۔۔ لالو کھیت کے رہنے والوں سے جاکر پوچھئے کہ ان پر کیا بیتا کرتی تھی۔۔۔
جس کو اس جماعت کے منافق ہونے میں شک ہے وہ اس جماعت کی تاریخ ملاحظہ کرے۔۔۔ پہلے سندھیوں کی مخالفت اور اب شاہ عبد اللطیف بھٹائی کا مالا جپنا۔۔۔ پہلے پتوں پر الطاف حسین کی تصویر اور اب لبرل ازم کے دعویدار۔۔۔ اور ملاحظہ کیجئے۔۔۔ 12 مئی کے حوالہ سے جو بینرز لگے، ان میں ایک بینر پر لکھا تھا کہ: “قائد تحریک، رہبر ملت و شریعت“۔۔۔ یہ لبرل ازم کا حامی، یہ لسانی وارداتیں کرانے والا، یہ پاکستانی عوام کو آپس میں لڑوادینے والا، مولویوں اور علمائے دین کو برا بھلا کہنے والا، رہبر شریعت قرار پایا۔۔۔۔۔ سر دھنیئے۔۔۔!
اب 12 مئی کے واقعہ کی طرف آیئے۔۔۔ چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار محمد چوہدری صاحب کے کراچی دورہ کا شیڈول 5مئی کو مشتہر ہوچکا تھا لیکن 12 مئی کے واقعہ کے بعد ایم۔کیو۔ایم سے تعلق رکھنے والے، سندھ کے مشیر داخلہ جناب وسیم اختر صاحب کی معصومیت تو دیکھئے، فرماتے ہیں کہ ہمیں چیف جسٹس صاحب نے اپنا شیڈول ہی نہیں بتایا تھا کہ ہم اس لحاظ سے حفاظتی اقدامات کرتے۔۔۔۔۔ میں صدقے! میں قربان! بہت خوب! کراچی کی تمام عوام جانے ہے پر یہ ایک مشیر داخلہ ہے جس کو خبر نہیں۔۔۔
چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ سیاسی جماعتیں چل رہی ہیں۔۔۔ لیکن چیف جسٹس آف پاکستان، سیاسی جماعتوں کے ساتھ نہیں چل رہے۔ وہ سیاسی جماعتوں کے قائدین کے حوالہ سے کچھ نہیں کہتے۔ وہ ان کو روکتے نہیں تو ساتھ آنے کا کہتے بھی نہیں۔۔۔ وہ سیاسی منظرنامہ پر بیان بازی نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں تو صرف اتنا کہ عدلیہ کی آزادی چاہیئے۔۔۔ وہ صرف اتنا کہتے ہیں کہ میں بے گناہ ہوں، انصاف کی امید ہے۔۔۔
اور ہاں، چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ سیاسی جماعتوں کی موجودگی پر اعتراض کرنے والو۔۔۔ پلٹو۔۔۔ ایک نظر دوسری طرف دیکھو۔۔۔ صدر پاکستان بھی ہیں۔۔۔ افواج پاکستان کے سربراہ ہیں۔۔۔ سرکاری ملازم ہیں اور حاکم بنے بیٹھے ہیں۔۔۔ ان کے ساتھ بھی لوٹوں کی ایک بڑی جماعت ہے۔۔۔ ان پر کیا کہوگے؟؟؟
سچ کہا تھا، ایک سیاستدان نے گذشتہ دنوں کہ ہمارے ہاں قائدین کی قلت پڑگئی ہے۔ حکومتی جماعت کو دیکھئے تو وہ بھی حاضر سروس ملازم کے پیچھے ہے۔۔۔ اپوزیشن جماعتوں کو دیکھئے تو وہ بھی ایک غیرسیاسی بندے کے پیچھے ہیں۔۔۔
سچ ہے! قصور چیف جسٹس کا تھا۔۔۔ کیونکہ انہوں نے نظریہ ضرورت کی دھجیاں بکھیر دیں۔ قصور ان کا تھا کیونکہ انہوں نے از خود کاروائی کرتے ہوئے ہزاروں کیس نمٹائے۔ سینکڑوں بے قصور خاندانوں کے سکون کا سبب بنے۔۔۔ قصور ان کا تھا کہ انہوں نے نجکاری کے خلاف فیصلے دیئے۔ قصور ان کا تھا کہ انہوں نے لاپتہ افراد کے معاملے پر کوئی لگی لپٹی رکھے بنا حکومت کی لگام کھینچ لی تھی۔۔۔۔
ہاں سچ ہے۔۔۔ قصور ان کا تھا کیونکہ انہوں نے آمر وقت کو “انکار“ کیا تھا۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔