راہبری سے نادانی تک
آج میں اپنی حماقتوں میں سے ایک حماقت کا تذکرہ کرنے جارہا ہوں۔ میں نے فروری 2007ء سے باقاعدہ طور پر
![]()
کی شمولیت اختیار کی۔ (اب یہ نہ سمجھئے گا کہ اردو محفل میں شمولیت اختیار کرنا کوئی حماقت تھی۔ قصہ جاری ہے۔) ابتداء میں تو اپنے اصل نام سے موجود رہا، پھر انٹرنیٹ پر اپنی ہر شناخت کو راہبر کا نام دیدیا۔ (کبھی کبھی بے وقوفانہ خیال ایسے کام بھی کروادیتے ہیں)۔ اپنی شناخت کو “راہبر“ کا نام دینے کی کوئی خاص وجہ نہ تھی۔ بس صرف ایک خواہش کہ ہر جگہ میری ایک ہی شناخت ہو (ہزاروں خواہشیں ایسی کہ۔۔۔۔۔) مجھے امید تھی کہ مجھے ہر جگہ یہ شناخت میسر ہوگی کیونکہ لوگوں کی اکثریت ایسی شناخت رکھنے پر کم ہی توجہ دیتی ہے۔ (اب ہر کوئی میری طرح تو نہیں ہوسکتا نا۔۔۔۔۔!) بہر حال
جوں جوں وقت گزرا، مجھے احساس ہوا کہ “راہبر“ کی شناخت رکھ کر میں نے اپنے لئے نقصان کردیا ہے (اگرچہ اپنا نقصان کرنا میرے لئے کوئی نئی بات نہیں)۔ میں فطری طور پر بے حد حساس واقع ہوا ہوں۔ (لیکن خیر ایسا نہیں کہ آپ مجھ میں اور نفسیاتی مریضوں میں فرق بھی نہ کرسکیں)۔ مجھے بہت عجیب عجیب سے باتیں محسوس ہوتی ہیں۔۔۔سو، اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ اردو محفل پر بہت قابل اور فاضل لوگ موجود ہیں۔ مجھے اکثر ان کی راہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے لیکن جب ان قابل افراد نے مجھے “راہبر“ کے نام سے پکارنا شروع کیا تو مجھے بہت شرمندگی کا احساس ہوا۔ درحقیقت تو وہ لوگ میرے راہبر تھے۔۔۔
پتا نہیں، یہ احساس درست تھا یا (بیشتر مواقع کی طرح) بے وقوفی کا ثبوت لیکن میں زیادہ وقت تک اس احساس کے ساتھ نہیں چل سکا۔ پہلے تو میں نے یہ اعلان کیا کہ مجھے “راہبر“ کے نام سے پکارنے کے بجائے میرے اصل نام سے پکارا جائے۔ اس پر اکثریت نے میری خواہش کا احترام کیا۔۔۔ لیکن شاید کچھ تک میری یہ عرضی پہنچ نہ سکی۔ پھر یہ بھی تھا کہ میں کس کس کو بتاتا پھرتا۔۔۔؟ فہیم نے بھی مشورہ دیا کہ شناخت بدل لو۔۔۔ سو میں نے اپنی شناخت “راہبر“ سے بدل کر “نادان“ کرلی ہے یعنی راہبری کرتے کرتے نادانی پر اتر آیا ہوں۔۔۔۔۔۔
اب چاہے کوئی مجھے نادان پکارا کرے، مجھے اعتراض نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوچا تھا کہ جن لوگوں نے “راہبر“ کی شناخت تبدیل کرانے میں کردار ادا کیا، ان کا نام لکھوں گا لیکن پھر نجانے کیا سوچ کر یہ ارادہ ملتوی کردیا۔۔۔۔
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔۔۔۔۔۔
سو، ملئے اس نادان سے۔۔۔۔۔۔!
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
May 31, 2007 بوقت 2:51 pm
ساری داستان پڑھنے کے بعد آخر میں پھر آپ نے نام چھپا لیےاس لیے تشنگی کا احساس رہا-
May 31, 2007 بوقت 5:16 pm
بقول غالب
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
May 31, 2007 بوقت 9:03 pm
راہبر یا نادان بھائی، اتنا بڑا مسئلہ بھی نہیں ہے۔ لگتا ہے محفل پر آپکو کسی نے راہبر کے نام کیوجہ سے تنگ کیاتھا۔
جویریہ: یہاں بھی غالب۔۔۔(:
June 1, 2007 بوقت 3:26 am
اچھا تو یہ تھی وجہ نادانی کی ۔ ہائے نادان یہ کیا نادانی کی تو نے
June 1, 2007 بوقت 12:39 pm
علمدار بھائی! کیا کریں؟ پردہ داری میں ہے بھلا ہے کچھ لوگوں کا۔۔۔ کسی کو شوقِ شہرت ہے، کسی کو خوفِ رسوائی۔۔۔۔
جویریہ بہن! آپ کو یہاں دیکھ کر اچھا لگا۔۔۔ (کیونکہ اس کی توقع نہیں تھی۔) (؛
ساجد بھائی! انہوں نے چچا غالب کی شاعری عام کرنے کا نیا نیا ٹھیکہ لیا ہے۔۔۔ ہم تو مرزا کی زبان میں صرف اسی قدر لکھ سکتے ہیں کہ
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟
اور محب بھائی! اب تو نادانیاں کرلیں۔۔۔۔۔ پہلے آپ نہیں ملے تھے نا، ورنہ یہ نادانی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؛-)
June 1, 2007 بوقت 2:21 pm
ساجد بھائ غالب نے ہر موقعے کے لیے شعر لکھا ہے۔ اب کیا کریں شعر لکھے بنا رہ ہی نہیں سکتی۔ بقول غالب
گرچہ ہو مشاہدہء حق کی گفتگو
بنتی نہیں بادہ و ساغر کہے بغیر
June 1, 2007 بوقت 10:27 pm
کاش کوئی ہمارا رہبر ہی رہتا۔
June 4, 2007 بوقت 6:46 pm
یار تمہارا سیدھا سیدھا ایک نام ہے عمار
اسی کو اپنی شناخت بناؤ
یہ کیا بچوں والی حرکتیں ہیں
کبھی راہبر کبھی نادان
June 5, 2007 بوقت 3:33 pm
فہیم جی! یہ بچوں والی نہیں، نادانوں والی حرکتیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔