خاندان، دھوکہ اور الزام
کچھ دن سے عجیب حالت ہے۔ غم غم غم۔۔۔۔۔ اداسی اداسی اداسی۔۔۔ مشکلات اور پریشانیوں کا انبار لگا ہے۔ مجھے احساس ہورہا ہے کہ میں کسی کے لیے اچھا سوچ کر غلط کرتا ہوں۔ میں نے جن کے لیے اچھے جذبات دل میں رکھے، جن کے لیے دل میں احترام رکھا، جن کو میں نے ہر لحاظ سے پسند کیا، انہوں نے کیوں مجھے دھوکہ دیا؟ میں اپنی آستین کے سانپوں کو کیونکر پہچان نہیں سکا؟
جب سے میں، اپنے خول سے باہر نکلا ہوں، میں نے لوگوں سے تعلق بڑھایا ہے، لوگوں کے ساتھ ملنے کی کوشش کی ہے، تب سے اب تک میری زندگی میں دھوکہ بھرا ہے۔ دوستی نے دھوکہ دیا، چاہت نے دھوکہ دیا، محبت نے دھوکہ دیا، رشتوں نے دھوکہ دیا۔۔۔ کیوں؟ ایسا کیوں؟ میں نے جنہیں اپنا سمجھا، جنہیں اپنا جانا، جن پر یقین کیا، جنہیں اپنے سے الگ نہ سوچا، جنہیں اپنے راز، اپنی ہر خوشی میں شریک کیا، وہ سب ہی دھوکہ دے گئے۔۔۔!
مجھے لگتا ہے کہ ابتدائی دس گیارہ سال جو میں نے گھر میں بند رہ کر گزارے انہوں نے میری شخصیت کو بدل دیا۔ میں عام لوگوں سے الگ ہوگیا۔ میری سوچ، میری فطرت، میرا انداز عام لوگوں کے نزدیک کچھ دقیانوسی سا ہوگیا۔ اپنی عمر کے بارہ سال گھر میں بند گزارنے کے بعد جب میں نے باہر کی دنیا میں قدم رکھا تو جانا کہ باہر کا ماحول تو بالکل الگ ہے۔ مجھے اپنی زندگی کو متوازن رکھنے کی خاطر باہر کے ماحول کو اپنانا پڑا لیکن میرے نظریات، میری سوچ نہ بدل سکی۔۔۔
خیر، یہ باتیں تو ضمنی طور پر آگئیں۔ میری پریشانی کا اس سے بظاہر تو کوئی تعلق نہیں لگتا۔
میں نے اپنے رشتہ کے بھائیوں کے ساتھ کچھ سال سے ہی بے تکلفی اختیار کی ہے اور اپنے اعتماد اور ہمت کے سبب مجھے اپنے ددھیال میں سب لڑکوں کا سربراہ سمجھا جاتا ہے۔ میرا ایک پھپھوزاد بھائی شاید پچھلے دنوں کسی غلط کام میں پکڑا گیا اور پھر اس نے ہم سب کزنز پر بھی الزام لگادیا۔ “ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے” والی حرکت۔
میرے والدین نے مجھے گذشتہ دو تین سالوں سے بہت اعتماد دیا ہے۔ اگر اس الزام کو میں جھوٹا ثابت نہیں کرسکا تو میں نہ صرف اپنے گھر والوں کا بلکہ سارے خاندان کا اعتماد کھودوں گا۔ میں نے پرسوں اس پھپھوزاد بھائی سے فون پر بات کی تو آج تک جسے میں سمجھاتا آیا تھا، اب اس نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ معافی مانگ کر معاملہ ختم کردوں۔ مگر میں کیوں معافی مانگوں؟ دوسروں کے قصور کو، میں کیوں اپنے سر پر لوں؟
لوگ کتنے احسان فراموش ہوتے ہیں نا۔۔۔ یہی کزن جب پچھلے کئی مہینوں سے ایک لڑکی کے پیچھے پاگل تھا اور اپنا سب کچھ ضائع کررہا تھا، تب اس کو سدھارنے کی خاطر میں نے اس کزن کی امی سے بات کی اور ان کو اس لڑکی کے رشتہ پر راضی کرنے کی کوشش کی۔ بھلا کوئی سوچ سکتا ہے کہ کوئی کزن اس طرح دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرے گا۔۔۔؟ لیکن میں نے کیا۔۔۔ اس کی خوشی کی خاطر۔ اور پھر بدلہ؟؟؟ خاندان بھر میں بدنامی؟
میرا دماغ ماؤف ہے۔ سونے لیٹتا ہوں تو کئی کئی گھنٹے بے چینی سے کروٹ بدلتے ہوئے گزار دیتا ہوں۔ بس اب ایک دو دن بہت اہم ہیں۔ اس میں فیصلہ ہونا ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ مجھے قصوروار ثابت کرنے کے لیے کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں اور نہ ہی میرے پاس خود کو بےقصور ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت ہے۔ بس اتنا ہے کہ الزام لگانے والے دو کزنز ہیں اور جن پر الزام لگا ہے وہ چار۔ پریشانی کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی کسی کے سامنے بول سکتا ہے تو وہ صرف میں ہوں، باقی کوئی بات کو سنبھال نہیں سکتا۔ میں فی الحال سب کے ساتھ بیٹھ کر یہ مسئلہ حل کرنا نہیں چاہتا کیونکہ میں غصہ میں ہوں۔ اور یہ غصہ اگر اپنے عروج پر پہونچ گیا تو میں نے خاندان بھر کے وہ راز فاش کرنے ہیں کہ خاندان والے ایک دوسرے سے منہ چھپاتے پھریں گے۔ میں چپ رہنا چاہتا ہوں۔ دعا کریں کہ سب ٹھیک ہوجائے۔۔۔ اور میں چپ رہوں۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
June 17, 2007 بوقت 10:44 am
محترم ۔ معافی مانگ کر انسان ہارتا نہیں بلکہ جیت جاتا ہے ۔ صرف اچھے عمل کی معافی نہیں مانگنا چاہیئے اور اچھا عمل صرف اللہ کی خوشنودی کیلئے ہوتا ہے ۔