راہبری سے نادانی تک

1 views May 31, 2007 | راہبر
No Gravatar

آج میں اپنی حماقتوں میں سے ایک حماقت کا تذکرہ کرنے جارہا ہوں۔ میں نے فروری 2007ء سے باقاعدہ طور پر
اُردو محفل
کی شمولیت اختیار کی۔ (اب یہ نہ سمجھئے گا کہ اردو محفل میں شمولیت اختیار کرنا کوئی حماقت تھی۔ قصہ جاری ہے۔) ابتداء میں تو اپنے اصل نام سے موجود رہا، پھر انٹرنیٹ پر اپنی ہر شناخت کو راہبر کا نام دیدیا۔ (کبھی کبھی بے وقوفانہ خیال ایسے کام بھی کروادیتے ہیں)۔ اپنی شناخت کو “راہبر“ کا نام دینے کی کوئی خاص وجہ نہ تھی۔ بس صرف ایک خواہش کہ ہر جگہ میری ایک ہی شناخت ہو (ہزاروں خواہشیں ایسی کہ۔۔۔۔۔) مجھے امید تھی کہ مجھے ہر جگہ یہ شناخت میسر ہوگی کیونکہ لوگوں کی اکثریت ایسی شناخت رکھنے پر کم ہی توجہ دیتی ہے۔ (اب ہر کوئی میری طرح تو نہیں ہوسکتا نا۔۔۔۔۔!) بہر حال
جوں جوں وقت گزرا، مجھے احساس ہوا کہ “راہبر“ کی شناخت رکھ کر میں نے اپنے لئے نقصان کردیا ہے (اگرچہ اپنا نقصان کرنا میرے لئے کوئی نئی بات نہیں)۔ میں فطری طور پر بے حد حساس واقع ہوا ہوں۔ (لیکن خیر ایسا نہیں کہ آپ مجھ میں اور نفسیاتی مریضوں میں فرق بھی نہ کرسکیں)۔ مجھے بہت عجیب عجیب سے باتیں محسوس ہوتی ہیں۔۔۔سو، اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ اردو محفل پر بہت قابل اور فاضل لوگ موجود ہیں۔ مجھے اکثر ان کی راہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے لیکن جب ان قابل افراد نے مجھے “راہبر“ کے نام سے پکارنا شروع کیا تو مجھے بہت شرمندگی کا احساس ہوا۔ درحقیقت تو وہ لوگ میرے راہبر تھے۔۔۔
پتا نہیں، یہ احساس درست تھا یا (بیشتر مواقع کی طرح) بے وقوفی کا ثبوت لیکن میں زیادہ وقت تک اس احساس کے ساتھ نہیں چل سکا۔ پہلے تو میں نے یہ اعلان کیا کہ مجھے “راہبر“ کے نام سے پکارنے کے بجائے میرے اصل نام سے پکارا جائے۔ اس پر اکثریت نے میری خواہش کا احترام کیا۔۔۔ لیکن شاید کچھ تک میری یہ عرضی پہنچ نہ سکی۔ پھر یہ بھی تھا کہ میں کس کس کو بتاتا پھرتا۔۔۔؟ فہیم نے بھی مشورہ دیا کہ شناخت بدل لو۔۔۔ سو میں نے اپنی شناخت “راہبر“ سے بدل کر “نادان“ کرلی ہے یعنی راہبری کرتے کرتے نادانی پر اتر آیا ہوں۔۔۔۔۔۔
اب چاہے کوئی مجھے نادان پکارا کرے، مجھے اعتراض نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوچا تھا کہ جن لوگوں نے “راہبر“ کی شناخت تبدیل کرانے میں کردار ادا کیا، ان کا نام لکھوں گا لیکن پھر نجانے کیا سوچ کر یہ ارادہ ملتوی کردیا۔۔۔۔
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔۔۔۔۔۔
سو، ملئے اس نادان سے۔۔۔۔۔۔!

سیاہ ست چھوڑ دی میں نے

1 views May 29, 2007 | راہبر
No Gravatar

سیاست کو سیاہ ست کے روپ میں بہت عرصہ سے دیکھ رہا ہوں۔ اب تنگ آکر میں نے سوچا ہے کہ کم سے کم اپنے بلاگ پر سیاست کے حوالہ سے کچھ نہ لکھنے کی کوشش کروں گا۔ اس بے کار کی چخ چخ سے بہتر ہے کہ میں بلاگ کو اپنے اور اپنی زندگی کے حد تک محدود رکھوں۔
بس۔س۔س۔سسس! سو میرا اگلا بلاگ میرے حوالہ ہی سے ہوگا۔

جنسی معاملات پر گفتگو

1 views May 22, 2007 | راہبر
No Gravatar

پاکستان میں جنسی موضوعات پر گفتگو کو شجر ممنوعہ تصور کرلیا گیا ہے۔ لوگوں کا یہ رویہ نوجوان نسل کے لیے بے حد مسائل پیدا کرنے کا سبب ہے اور اس باعث نوجوان نسل کی اکثریت غلط راستہ پر گامزن ہے۔ اگر انہیں اپنے گھر والوں یا کسی بڑے کی طرف سے کوئی رہنمائی ملی ہوتی تو ہرگز ایسا نہ ہوتا۔
شاید کسی کو اخبارات میں کبھی کبھار ایسی خبریں بھی پڑھنے کو ملی ہوں کہ دینی مدارس میں بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ یہ ایک انتہائی حساس پہلو ہے۔ اس حوالہ سے میرے پاس لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن مجھے تھوڑی جھجھک ہے کہ اس موضوع پر حقائق سامنے لاؤں یا پس پردہ رہنے دوں؟ پتا نہیں میرے بلاگ کو پڑھنے والے کتنے لوگ ہیں، لیکن پھر بھی مجھے لوگوں کی آراء کا انتظار رہے گا۔ اگر آپ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس حوالہ سے انکشافات سامنے آنے چاہئیں یا پس پردہ رہنے چاہئیں تو اپنی رائے سے آگاہ کیجئے تاکہ پھر کوئی فیصلہ کیا جاسکے۔

خاندان، دھوکہ اور الزام

1 views May 22, 2007 | راہبر
No Gravatar

کچھ دن سے عجیب حالت ہے۔ غم غم غم۔۔۔۔۔ اداسی اداسی اداسی۔۔۔ مشکلات اور پریشانیوں کا انبار لگا ہے۔ مجھے احساس ہورہا ہے کہ میں کسی کے لیے اچھا سوچ کر غلط کرتا ہوں۔ میں نے جن کے لیے اچھے جذبات دل میں رکھے، جن کے لیے دل میں احترام رکھا، جن کو میں نے ہر لحاظ سے پسند کیا، انہوں نے کیوں مجھے دھوکہ دیا؟ میں اپنی آستین کے سانپوں کو کیونکر پہچان نہیں سکا؟
جب سے میں، اپنے خول سے باہر نکلا ہوں، میں نے لوگوں سے تعلق بڑھایا ہے، لوگوں کے ساتھ ملنے کی کوشش کی ہے، تب سے اب تک میری زندگی میں دھوکہ بھرا ہے۔ دوستی نے دھوکہ دیا، چاہت نے دھوکہ دیا، محبت نے دھوکہ دیا، رشتوں نے دھوکہ دیا۔۔۔ کیوں؟ ایسا کیوں؟ میں نے جنہیں اپنا سمجھا، جنہیں اپنا جانا، جن پر یقین کیا، جنہیں اپنے سے الگ نہ سوچا، جنہیں اپنے راز، اپنی ہر خوشی میں شریک کیا، وہ سب ہی دھوکہ دے گئے۔۔۔!
مجھے لگتا ہے کہ ابتدائی دس گیارہ سال جو میں نے گھر میں بند رہ کر گزارے انہوں نے میری شخصیت کو بدل دیا۔ میں عام لوگوں سے الگ ہوگیا۔ میری سوچ، میری فطرت، میرا انداز عام لوگوں کے نزدیک کچھ دقیانوسی سا ہوگیا۔ اپنی عمر کے بارہ سال گھر میں بند گزارنے کے بعد جب میں نے باہر کی دنیا میں قدم رکھا تو جانا کہ باہر کا ماحول تو بالکل الگ ہے۔ مجھے اپنی زندگی کو متوازن رکھنے کی خاطر باہر کے ماحول کو اپنانا پڑا لیکن میرے نظریات، میری سوچ نہ بدل سکی۔۔۔
خیر، یہ باتیں تو ضمنی طور پر آگئیں۔ میری پریشانی کا اس سے بظاہر تو کوئی تعلق نہیں لگتا۔
میں نے اپنے رشتہ کے بھائیوں کے ساتھ کچھ سال سے ہی بے تکلفی اختیار کی ہے اور اپنے اعتماد اور ہمت کے سبب مجھے اپنے ددھیال میں سب لڑکوں کا سربراہ سمجھا جاتا ہے۔ میرا ایک پھپھوزاد بھائی شاید پچھلے دنوں کسی غلط کام میں پکڑا گیا اور پھر اس نے ہم سب کزنز پر بھی الزام لگادیا۔ “ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے” والی حرکت۔
میرے والدین نے مجھے گذشتہ دو تین سالوں سے بہت اعتماد دیا ہے۔ اگر اس الزام کو میں جھوٹا ثابت نہیں کرسکا تو میں نہ صرف اپنے گھر والوں کا بلکہ سارے خاندان کا اعتماد کھودوں گا۔ میں نے پرسوں اس پھپھوزاد بھائی سے فون پر بات کی تو آج تک جسے میں سمجھاتا آیا تھا، اب اس نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ معافی مانگ کر معاملہ ختم کردوں۔ مگر میں کیوں معافی مانگوں؟ دوسروں کے قصور کو، میں کیوں اپنے سر پر لوں؟
لوگ کتنے احسان فراموش ہوتے ہیں نا۔۔۔ یہی کزن جب پچھلے کئی مہینوں سے ایک لڑکی کے پیچھے پاگل تھا اور اپنا سب کچھ ضائع کررہا تھا، تب اس کو سدھارنے کی خاطر میں نے اس کزن کی امی سے بات کی اور ان کو اس لڑکی کے رشتہ پر راضی کرنے کی کوشش کی۔ بھلا کوئی سوچ سکتا ہے کہ کوئی کزن اس طرح دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرے گا۔۔۔؟ لیکن میں نے کیا۔۔۔ اس کی خوشی کی خاطر۔ اور پھر بدلہ؟؟؟ خاندان بھر میں بدنامی؟
میرا دماغ ماؤف ہے۔ سونے لیٹتا ہوں تو کئی کئی گھنٹے بے چینی سے کروٹ بدلتے ہوئے گزار دیتا ہوں۔ بس اب ایک دو دن بہت اہم ہیں۔ اس میں فیصلہ ہونا ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ مجھے قصوروار ثابت کرنے کے لیے کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں اور نہ ہی میرے پاس خود کو بےقصور ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت ہے۔ بس اتنا ہے کہ الزام لگانے والے دو کزنز ہیں اور جن پر الزام لگا ہے وہ چار۔ پریشانی کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی کسی کے سامنے بول سکتا ہے تو وہ صرف میں ہوں، باقی کوئی بات کو سنبھال نہیں سکتا۔ میں فی الحال سب کے ساتھ بیٹھ کر یہ مسئلہ حل کرنا نہیں چاہتا کیونکہ میں غصہ میں ہوں۔ اور یہ غصہ اگر اپنے عروج پر پہونچ گیا تو میں نے خاندان بھر کے وہ راز فاش کرنے ہیں کہ خاندان والے ایک دوسرے سے منہ چھپاتے پھریں گے۔ میں چپ رہنا چاہتا ہوں۔ دعا کریں کہ سب ٹھیک ہوجائے۔۔۔ اور میں چپ رہوں۔

12 مئی 2007ء

1 views May 16, 2007 | راہبر
No Gravatar

انسان کی ایک فطرت ہے۔ اگر آپ ‌ مکمل یقین دلانے میں کامیاب ہوجائیں کہ دنیا اس کے ساتھ ظلم کررہی ہے اور آپ اس کے ہمدرد ہیں تو وہ آپ کے پیچھے دوڑے گا۔ آپ اگر سحر بیاں ہیں تو وہ آپ کی باتوں میں مدہوش ہوجائے گا۔ آپ کو اپنا مصلح سمجھے گا۔
متحدہ قومی مومنٹ (سابقہ مہاجر قومی مومنٹ) نے کراچی کی مہاجروں کے ساتھ یہی کیا۔ ان کو احساس دلایا کہ تمہارے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے۔۔۔ تم پر ظلم ہوتا ہے۔۔۔ اٹھو، ہمارے ساتھ آؤ۔۔۔ اور مہاجر اٹھ کھڑے ہوئے۔ لسانی فسادات بھڑکے اور کراچی جلنے لگا۔۔۔ میرا پیارا شہر کراچی۔۔۔۔۔ میرے ملک کا معاشی مرکز تباہ ہوگیا۔ متحدہ قومی مومنٹ کے ساتھ نا انصافی کا الزام لگانے والے بتائیں۔۔۔ ہاں بتائیں کہ کیا انہوں نے عوامی سطح پر ایم۔کیو۔ایم کا کردار غیرجانبداری سے ملاحظہ کیا ہے؟ کیا انہیں پتا ہے کہ بھتہ خوری اس جماعت کا شیوہ ہے۔۔۔ اس جماعت کی پہچان ہے۔ کیا انہیں پتا ہے کہ اس دہشت گرد جماعت کے غنڈے چندہ کے نام پر بھتہ مانگتے تھے؟ اور نہ دینے والوں کے ساتھ وہ سلوک ہوتا تھا کہ توبہ توبہ۔۔۔ جایئے۔۔۔۔ لالو کھیت کے رہنے والوں سے جاکر پوچھئے کہ ان پر کیا بیتا کرتی تھی۔۔۔
جس کو اس جماعت کے منافق ہونے میں شک ہے وہ اس جماعت کی تاریخ ملاحظہ کرے۔۔۔ پہلے سندھیوں کی مخالفت اور اب شاہ عبد اللطیف بھٹائی کا مالا جپنا۔۔۔ پہلے پتوں پر الطاف حسین کی تصویر اور اب لبرل ازم کے دعویدار۔۔۔ اور ملاحظہ کیجئے۔۔۔ 12 مئی کے حوالہ سے جو بینرز لگے، ان میں ایک بینر پر لکھا تھا کہ: “قائد تحریک، رہبر ملت و شریعت“۔۔۔ یہ لبرل ازم کا حامی، یہ لسانی وارداتیں کرانے والا، یہ پاکستانی عوام کو آپس میں لڑوادینے والا، مولویوں اور علمائے دین کو برا بھلا کہنے والا، رہبر شریعت قرار پایا۔۔۔۔۔ سر دھنیئے۔۔۔!
اب 12 مئی کے واقعہ کی طرف آیئے۔۔۔ چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار محمد چوہدری صاحب کے کراچی دورہ کا شیڈول 5مئی کو مشتہر ہوچکا تھا لیکن 12 مئی کے واقعہ کے بعد ایم۔کیو۔ایم سے تعلق رکھنے والے، سندھ کے مشیر داخلہ جناب وسیم اختر صاحب کی معصومیت تو دیکھئے، فرماتے ہیں کہ ہمیں چیف جسٹس صاحب نے اپنا شیڈول ہی نہیں بتایا تھا کہ ہم اس لحاظ سے حفاظتی اقدامات کرتے۔۔۔۔۔ میں صدقے! میں قربان! بہت خوب! کراچی کی تمام عوام جانے ہے پر یہ ایک مشیر داخلہ ہے جس کو خبر نہیں۔۔۔
چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ سیاسی جماعتیں چل رہی ہیں۔۔۔ لیکن چیف جسٹس آف پاکستان، سیاسی جماعتوں کے ساتھ نہیں چل رہے۔ وہ سیاسی جماعتوں کے قائدین کے حوالہ سے کچھ نہیں کہتے۔ وہ ان کو روکتے نہیں تو ساتھ آنے کا کہتے بھی نہیں۔۔۔ وہ سیاسی منظرنامہ پر بیان بازی نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں تو صرف اتنا کہ عدلیہ کی آزادی چاہیئے۔۔۔ وہ صرف اتنا کہتے ہیں کہ میں بے گناہ ہوں، انصاف کی امید ہے۔۔۔
اور ہاں، چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ سیاسی جماعتوں کی موجودگی پر اعتراض کرنے والو۔۔۔ پلٹو۔۔۔ ایک نظر دوسری طرف دیکھو۔۔۔ صدر پاکستان بھی ہیں۔۔۔ افواج پاکستان کے سربراہ ہیں۔۔۔ سرکاری ملازم ہیں اور حاکم بنے بیٹھے ہیں۔۔۔ ان کے ساتھ بھی لوٹوں کی ایک بڑی جماعت ہے۔۔۔ ان پر کیا کہوگے؟؟؟
سچ کہا تھا، ایک سیاستدان نے گذشتہ دنوں کہ ہمارے ہاں قائدین کی قلت پڑگئی ہے۔ حکومتی جماعت کو دیکھئے تو وہ بھی حاضر سروس ملازم کے پیچھے ہے۔۔۔ اپوزیشن جماعتوں کو دیکھئے تو وہ بھی ایک غیرسیاسی بندے کے پیچھے ہیں۔۔۔
سچ ہے! قصور چیف جسٹس کا تھا۔۔۔ کیونکہ انہوں نے نظریہ ضرورت کی دھجیاں بکھیر دیں۔ قصور ان کا تھا کیونکہ انہوں نے از خود کاروائی کرتے ہوئے ہزاروں کیس نمٹائے۔ سینکڑوں بے قصور خاندانوں کے سکون کا سبب بنے۔۔۔ قصور ان کا تھا کہ انہوں نے نجکاری کے خلاف فیصلے دیئے۔ قصور ان کا تھا کہ انہوں نے لاپتہ افراد کے معاملے پر کوئی لگی لپٹی رکھے بنا حکومت کی لگام کھینچ لی تھی۔۔۔۔
ہاں سچ ہے۔۔۔ قصور ان کا تھا کیونکہ انہوں نے آمر وقت کو “انکار“ کیا تھا۔

17 سالہ لڑکی سنگسار

1 views May 8, 2007 | راہبر
No Gravatar

ہر آنے والا دن اپنے ساتھ عجب ہولناکیاں اور وحشت لے کر آرہا ہے۔ گذشتہ اتوار ایک خبر نظر سے گذری تو دل بے چین ہوگیا۔ اگلے ہی دن، انٹرنیٹ کو کھنگالا تو مزید کچھ افسوسناک حقائق سامنے آئے۔ سچ پوچھیں تو اس خبر کی تفصیل نے مجھے بہت اداس کیا۔۔۔ میں اپنی حالت بیان نہیں کرسکتا۔
بہرحال! میں آپ کو بھی اس خبر سے آگاہ کررہا ہوں۔ گذشتہ ماہ (اپریل کی غالبا 7 تاریخ کو) یہ اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ “یزیدی فرقہ” عراق میں ایک اقلیتی فرقہ ہے (میں نے اس فرقہ کا پہلی بار پڑھا، کچھ لوگوں نے لکھا ہے کہ یہ غیرمسلم ہیں)۔ اس فرقہ سے تعلق رکھنے والی ایک سترہ (17) سالہ لڑکی دعا خلیل اسود اپنے فرقہ کو چھوڑ کر مسلمان ہوگئی اور کہا جارہا ہے کہ اس نے ایک مسلم لڑکے سے شادی کرنے کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ گئی۔ گھر والوں نے اسے یقین دلایا کہ وہ گھر لوٹ آئے تو اسے کچھ نہیں کہا جائے گا لیکن جب وہ گھر واپس لوٹی تو اسے قتل کردیا گیا۔ کہانی صرف اتنی سی ہی نہیں۔۔۔ قتل کرنے کا طریقہ نہ تو گولی مارنے والا تھا نہ پھانسی دینے والا۔۔۔ بلکہ اسے پتھر مار مار کر موت کے منہ میں دھکیلا گیا یعنی سنگسار کیا گیا۔ لڑکی کے جسم پر سرخ جیکٹ اور سیاہ انڈر وئیر بچی تھی۔ کچھ لوگوں نے موبائل فون سے اس کی ویڈیو بھی بنائی جو اس وقت انٹرنیٹ پر مختلف جگہ پھیل چکی ہے۔
مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ عراقی پولیس اہلکار وہیں قریب ہی کھڑے تھے لیکن انہوں نے لوگوں کو اس بھیانک کام سے روکنے کی ذرا بھی کوشش نہیں کی۔ لوگوں کا ایک ہجوم ہے جو وہاں کھڑا شور کررہا ہے۔ ایک نہیں، کئی لوگ ہیں جو اس واقعہ کی ویڈیو بنارہے تھے مگر کوئی ایک بھی روکنے والا نہ تھا۔ لڑکی نے نہ تو مزاحمت کی کوشش کی اور نہ ہی چینخ پکار کی، ہاں البتہ ایک بار اس نے اپنے آپ کو ڈھانپنے کے لیے اٹھنے کی کوشش کی لیکن ایک کمینہ شخص نے اس کے منہ پر لات مار کر دوبارہ گرادیا۔ اس لڑکی کا منہ خون آلود ہے۔۔۔ میں جب جب یہ منظر تصور کرتا ہوں، میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔۔۔ عجیب حالت ہوجاتی ہے۔۔۔ انسان اتنا گرا ہوا ہے؟
(مزید تفصیلات کے لیے گوگل سرچ انجن پر صرف اتنا لکھ دیں: yazidi girl dua killed)
وضاحت: اوپر بیان کیے گئے واقعات میں تھوڑا بہت فرق ہوسکتا ہے کیونکہ میں نے یہ واقعات مختلف اخبارات اور ویب سائٹس سے اکھٹے کیے ہیں۔

قصہ “لینکس پاکستان“ کے دورے کا

1 views May 2, 2007 | راہبر
No Gravatar

کئی دنوں کی منصوبہ بندی کے بعد طے ہوا کہ آج (2 مئی 2007ء) کو دفتر جاتے ہوئے لینکس پاکستان کے دفتر سے ہوتے چلیں۔ سبب یہ تھا کہ شاکر بھائی اور ماہنامہ “کمپیوٹنگ” نے “اوبنٹو” کا جو شاندار نقشہ کھینچا تھا اس کے بعد ہمارے لیے مزید صبر کرنا مشکل تھا۔ اگرچہ ہم “شپ اٹ” کی سہولت سے “اوبنٹو” کا نیا ورژن منگوا چکے ہیں لیکن خدا جانے کہ وہ کتنے عرصہ میں ملے۔
بہر حال! صبح والد صاحب کے ساتھ موٹر سائیکل پر نکلے اور “لینکس پاکستان” کے دفتر کی طرف چلے۔ اس کا دفتر مرکزی شاہراہ پر نہیں بلکہ ایک گلی میں جاکر ہے۔ گلی میں ہر طرف بنگلے ہیں۔۔۔ پوری گلی گھومنے کے باوجود کہیں پر “لینکس پاکستان” کا کوئی نشان نظر نہیں آیا۔ بنگلوں پر لگی ناموں کی تختیاں پڑھنے پر ایک بنگلہ ہمیں ایسا نظر آیا جس کے باہر وہی پتہ لکھا تھا جو کہ “لینکس پاکستان” کی ویب سائٹ پر دیا گیا ہے۔ ہم نے اتر کر دیکھا تو اس کے دروازے پر کسی “ایڈووکیٹ” صاحب کے نام کی تختی لگی تھی۔ تھوڑی دیر تک شش و پنج میں مبتلا رہنے کے بعد سوچا کہ اطلاعی گھنٹی دبادی جائے۔ اس خیال پر عمل کرنے سے پہلے ہی ہمیں دروازے پر ہاتھ سے لکھی ایک تحریر نظر آگئی کے یوٹیلٹی بلز وغیرہ برابر والے دروازے پر دے جائیں۔۔۔ یعنی کہ دروازہ نمبر اول پر۔۔۔ سو ہم نے بہتر سمجھا کہ ہم بھی اسی دروازے پر رابطہ کریں۔ وہاں دستک دی تو ایک باریش نوجوان نے دروازہ کھولا۔ ہمارا مدعا سننے کے بعد ہمیں اندر لے آیا۔ بنگلے کے اندر ایک بینر لگا تھا جس پر لکھا تھا: “لینکس پاکستان”۔ ہم نے دل ہی دل میں انتظامیہ کی عقل کو داد دی۔
تھوڑی دیر ہم تنہا دفتر میں بیٹھے رہے۔ پھر ایک ادھیڑ عمر صاحب آئے اور ہم سے دفتر آنے کا سبب دریافت کیا۔ ہم نے انہیں بتایا کہ “اوبنٹو” کا نیا ورژن درکار ہے جس پر انہوں نے انکار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ “اوبنٹو” نہیں رکھتے۔ وجہ یہ ہے کہ لوگ “شپ اٹ” کی سہولت سے منگوالیتے ہیں یا پھر ڈاؤن لوڈ کرلیتے ہیں۔ یہ سن کر ہمارا منہ لٹک گیا جس پر انہوں نے کہا کہ شاید علی رضوی نے ڈاؤن لوڈ کیا ہو، میں دیکھتا ہوں۔۔۔ یہ کہہ کر وہ چلے گئے۔۔۔ کافی دیر ہوگئی۔۔۔۔۔ ہمارے والد صاحب باہر دھوپ میں موٹر سائیکل پر ہمارا انتظار کررہے تھے۔۔۔ ہم نے بہتر سمجھا کہ انہیں بھی اندر ہی بلالیا جائے سو وہ بھی اندر آگئے۔۔۔ ہم “لینکس پاکستان” کے انتظام و انصرام پر گفتگو کررہے تھے کہ وہ صاحب آگئے۔ انہوں نے آکر ہمیں علی رضوی صاحب کا رابطہ نمبر فراہم کیا اور تجویز دی کہ ان سے رابطہ کریں۔۔۔ سو مایوس ہوکر ہم نکلنے کو تھے کہ باتوں میں “اوبنٹو” کے ساتھ “کبنٹو” کا تذکرہ چھڑ گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر “کبنٹو” چاہیے تو وہ مل جائے گا۔ ہم نے کہا، بسم اللہ! وہی سہی! سو وہ صاحب پھر ایک طویل عرصہ کے لیے غائب ہوگئے۔ اسی اثنا میں بجلی بھی چلی گئی۔ کافی دیر بعد وہ جناب، اپنے ہاتھ میں ایک سی۔ڈی لیے نمودار ہوئے۔ کہنے لگے، نجانے کیا مسئلہ ہے کہ کمپیوٹر یہ سی۔ڈی اٹھا ہی نہیں رہا حالآنکہ یہ کل ہی اسلام آباد سے آئی ہے۔۔۔ خیر! ان کی صفائیاں سن کر ہم دفتر سے نکلنے کو اٹھے تو ہمارے والد صاحب نے ان کی توجہ اس طرف دلائی کہ راستہ میں کہیں تو اس کی نشاندہی کریں ورنہ تو یہاں تک پہنچنا کافی مشکل ہے۔۔۔ جس پر وہ صاحب (انہوں نے آخر میں اپنا نام بتایا، طارق صاحب) کہنے لگے کہ یہ دفتر ہم نے ہر عام بندہ کے لیے نہیں رکھا بلکہ صرف ممبرز ہی آتے ہیں۔۔۔ خدا جانے، ممبرز سے ان کی کیا مراد تھی۔۔۔ بہرحال! انہوں نے ہمیں دروازے تک چھوڑا۔۔۔ اور اتنا وقت ضائع کرنے کے بعد ہم
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے