کسی دن
اور آخرکار، طویل انتظار ختم ہوا۔ میرے پسندیدہ ترین گلوکار عدنان سمیع خاں کا نیا البم آگیا۔ البم کا نام “کسی دن” رکھا گیا ہے۔ ہمیشہ کی طرح ایک بہترین تخلیقات کا مجموعہ ہے۔ عدنان سمیع کی آواز اور موسیقی، دونوں میں جادو ہے۔ وہ ایشیا کے بہترین موسیقاروں میں سے ایک ہیں جنہیں موسیقی کے کئی آلآت بجانے پر عبور حاصل ہے۔ اگر آپ عدنان سمیع کے آغاز سے اب تک کے گیت سنیں تو آپ محسوس کرسکیں گے کہ ہر آنے والے البم میں پہلے سے زیادہ نکھار آتا ہے۔ میں جب اس کے گیت سنتا ہوں تو بس جی کرتا ہے کہ سنتا ہی چلا جاؤں۔
تازہ ترین البم “کسی دن” میں 13 گیت شامل ہیں جن میں سے شاید تین یا چار گیت وہ ہیں جو عدنان سمیع نے اس وقت گائے تھے جب وہ پاکستان میں رہائش پذیر تھے۔ اس زمانے میں ان کی پڑھی ہوئی ایک حمد “اے خدا اے خدا جس نے کی جستجو، مل گیا اس کو تو” جسے مشہور نعت گو شاعر، مظفر وارثی نے لکھا ہے، بہت مقبولیت حاصل کی۔ یہ حمد بھی اس نئے البم میں شامل ہے۔ “کسی دن” بنیادی طور پر ایک غزل ہے جو عدنان سمیع نے مدھم موسیقی پر گائی ہے اور اس غزل کو گانے کا حق صحیح منعوں میں ادا کردیا ہے۔
چہرے پہ میرے زلف کو لہراؤ کسی دن
سر رکھ کے میرے سینے پہ سوجاؤ کسی دن
پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہا لوں
بادل کی طرح جھوم کے گھر آؤ کسی دن
اور آخر میں ایک خاص بات، عدنان سمیع خان نے اپنا وزن 104 کلو کم کرلیا ہے اور اب ان کا وزن 97 کلو ہے جبکہ وہ اسے مزید کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تو جنہوں نے اس البم کی حالیہ پیش کی جانے والی دو ویڈیوز دیکھی ہیں، وہ اس خاص اور اچھی تبدیلی کو نوٹ کرچکے ہوں گے۔ سنا ہے کہ عدنان سمیع کو ایک ہندی فلم میں بھی کام کرنے کی پیشکش ہوئی ہے۔
دیکھتے ہیں آنے والا وقت، ان کی زندگی میں کیا تبدیلیاں لے کر آتا ہے؟
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔