میرا مزاج
مجھے بخوبی احساس ہے کہ میری تحریریں اکثریت کے لیے انتہائی بور ثابت ہوتی ہیں۔ اس حقیقت کو میں کھلے دل سے قبول کرتا ہوں اور یہاں اپنے پہلے بلاگ ہی میں اس کا اعلان برسر عام کردیا تھا۔ میرا ایک نیا دوست ہے فہیم، کچھ دن پہلے وہ مجھے کہنے لگا کہ یار تمہارا بلاگ تو بہت ہی بورنگ ہے۔ یہ سن کر میرا قہقہہ چھوٹ گیا۔ لوگ مجھے وہ بات بتاتے ہیں، جو مجھے پہلے سے معلوم ہے۔ کبھی کبھی مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اس افسوسناک حقیقت پر میرا رد عمل اتنا افسوسناک کیوں نہیں ہوتا؟
میرا مزاج شروع سے کچھ ایسا ہی رہا ہے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بڑی تحمل مزاجی سے مجھے اور میری بکواس کو برداشت کرپاتے ہیں۔۔۔ خدا جانے کیسے؟
مجھے زندگی میں یکسانیت کبھی اچھی نہیں لگتی۔ میں مسلسل تبدیلیاں چاہتا ہوں، بس اس لیے کبھی کبھی میرا مزاج خوشگوار بھی ہوجاتا ہے لیکن لوگوں کو اس تبدیلی کا احساس شاذ و ناذ ہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ ابھی میرے مزاج کچھ اچھے ہیں تو میں نے سوچا کہ سیاست کی اور لوگوں کی باتیں بہت ہوگئیں، اب بلاگ کے ماحول میں ذرا تبدیلی لانے کی کوشش کروں اور خوش مزاجی سے کچھ باتیں کروں۔
ہمارے معاشرے میں غم، دکھ، درد کی بھرمار ہے۔ ہر شخص کو کوئی نہ کوئی غم، پریشانی، مسئلہ ہے اور وہ اپنی پریشانی آگے منتقل کررہا ہے۔۔۔ ایک سے دوسرا، اور پھر دوسرے سے تیسرا۔۔۔۔۔ پریشان کیے جانے کا ایک عمل ہے جو مسلسل بڑھتا چلا جارہا ہے۔ ایسے میں بہت کم لوگ ہیں جو مسکراہٹ اور خوشیاں بکھیرنے کا کام کررہے ہیں۔ اللہ انہیں یہ نیک عمل جاری رکھنے کی توفیق دے۔ آمین
ہمارے رسول اللہ صلی اللہ وسلم بھی لوگوں کو بشارتیں دینے آئے تھے، خوشیوں کی نوید سنانے آئے تھے، اللہ عزوجل نے انہیں ایک نام “مبشر” بھی دیا یعنی بشارت دینے والا۔ جو لوگ اس سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں لوگوں کے غم، دکھ، درد دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کی مشکلات آسان فرمائے۔
اس سے پہلے کہ میرا یہ بلاگ پھر سے سنجیدگی کا روپ دھارے، میں آپ سے اجازت چاہوں گا۔ ان شاء اللہ بہت جلد کسی خوشگوار بلاگ کے ساتھ حاضر ہوں گا۔ البتہ جاتے جاتے مشہور و معروف کالم نگار جناب جاوید چودھری صاحب کے ایک کالم کا ربط فراہم کررہا ہوں، اسے پڑھیں اور لطف اندوز ہوں:
http://express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1100118988&Issue=NP_KHI&Date=20070204
آپ سب اپنا اور اپنے اردگرد کے لوگوں کا خیال رکھئے گا۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
April 14, 2007 بوقت 12:21 am
کوئی بات نہیں ، میرا بلاگ بھی تو بورنگ ہے نا ، بندے کے سر میں بور کر دیتا ہے اور آر پار ہو جاتا ہے
April 16, 2007 بوقت 4:07 am
محترم قدیر صاحب! مجھ ناچیز کے بلاگ پر آپ کا تبصرہ میرے لئے باعث فخر ہے۔
اور آپ کے بلاگ کی تو بات ہی الگ ہے، اس میں بوریت کہاں؟ لوگ تو آپس میں فخر سے آپ کے بلاگ کا تذکرہ کرتے ہیں۔۔۔ ایک دوسرے کو آپ کے بلاگ کا ربط فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ بھی لطف اندوز ہوسکے۔
April 20, 2007 بوقت 6:52 am
ارے تم تو یار سنجیدہ ہوگئے
اب اتنا بھی بورنگ نہیں ہے
بس تم تھوڑا لکھنے کا انداز تبدیل کرلو۔ ایک بات کو کہنے کے 100 طریقے ہوتے ہیں
تم ایسا طریقہ اپناؤ جو سب سے زیادہ دلچسپ ہو