No Gravatar

کل مجھے احساس ہوا کہ واقعی خطرہ میرے سر پر آن کھڑا ہے اور میں اب تک اس سے لاپرواہ ہوں۔ صرف ایک ماہ بعد میرے امتحانات کا آغاز ہے۔۔۔ (میں ایس۔ایم آرٹس اینڈ کامرس کالج میں پہلے سال کا طالبعلم ہوں)۔ ادھر ہمارے امتحان تیار ہیں تو ادھر ہم ہیں کہ اب تک کتابوں کو کھول کر نہ دیکھنے والی حالت ہے۔ یہ نہیں کہ ہم کوئی نالائق قسم کے لڑکے ہیں، بلکہ ہماری قابلیت کی دھوم تو پورے خاندان میں مچی ہے لیکن ہماری حرکتیں بس کچھ ایسی ہی ہیں۔ جب تک سر پر نہیں پڑتی، کچھ کرنے کا دل ہی نہیں کرتا۔ بہرحال! اب، گو کہ سنجیدگی سے مطالعہ کی گھڑی ہے لیکن جہاں ہم کام کررہے ہیں وہاں ہمیں ایک نئے مسئلہ کا سامنا ہے۔ کمپیوٹر کے شعبہ میں میرا معاون ملازمت چھوڑ گیا ہے اور اس کے حصہ کا کام بھی مجھ پر پڑا ہے۔ دوسری طرف ادارہ کے صدر کی اہلیہ سخت بیمار ہیں، سو وہ بھی دفتر نہیں آرہے ہیں اور ان کی رہنمائی کے بغیر سب کام میں نے خود سے بروقت کرنا ہے۔ جتنا سوچتا ہوں، ذہن ماؤف ہوتا جاتا ہے کہ یہ سب کس طرح ٹھیک ہوگا؟
اردو محفل پر جاتا ہوں تو اردو کے حوالہ سے اتنا کام کرنے کو نظر آتا ہے کہ ہوس ہوتی ہے کہ کاش میں بالکل فارغ ہوں، فکر معاش بھی نہ ہو، اور بس سارا وقت یہ اردو کی ترویج کے حوالہ سے ہی کام کرتا رہوں۔۔۔ عجیب مخمصے کا شکار ہوں۔
دن بھر دفتری امور نمٹانے کے بعد جب گھر لوٹتا ہوں تو بمشکل چار پانچ گھنٹے بچتے ہیں، اس کے بعد سونے کا وقت ہوتا ہے۔ اب ان چار، پانچ گھنٹوں میں پڑھائی بھی کرنی ہے، نماز اور کھانے کا وقت بھی ہے، کمپیوٹر پر کام بھی کرنا ہے، وغیرہ وغیرہ۔۔۔
اللہ مشکلیں آسان کرنے والا ہے۔۔۔۔۔ آپ سب سے دعا کی درخواست ہے۔۔۔ اللہ مجھے دین و دنیا کے ہر امتحان میں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔