نیا تجربہ

1 views April 25, 2007 | راہبر
No Gravatar

ہمارے ایک عزیز دوست ہیں، شاکر بھائی! انہوں نے ورڈ پریس سے متعلق اتنا کچھ بیان کیا کہ ہم للچاگئے اور فیصلہ کیا کہ اپنا الگ بلاگ ترتیب دیں گے اور ایک علیحدہ جگہ پر ورڈ پریس کی تنصیب کا کام اپنے ہاتھوں سے سرانجام دیں گے۔ بالآخر دو دن کی سر توڑ کوشش کے بعد ہم اس میں کامیاب ہوگئے۔ یہ کام بنیادی طور پر صرف چند گھنٹوں کا تھا مگر ہائے ہمارے نخرے! ویب ہوسٹنگ مفت چاہی مگر زبردستی کے اشتہارات ہمیں گوارا نہیں۔۔۔ کتنی ہی ویب سائٹس کھنگالتے رہے۔۔۔ 80 فیصد وقت تو ہم نے اسی میں لگا دیا۔۔۔ لیکن نتیجہ پھر بھی کچھ حوصلہ افزا نہیں رہا۔ سو اب:
ہمارے پرانے بلاگ کا ربط blogs.urduhome.com/raahbar
ہمارے نئے بلاگ کا ربط: raahbar.ifastnet.com
تاہم، ہم نے پرانے بلاگ پر لکھی جانے والی تحریریں بھی نئے بلاگ پر منتقل کردی ہیں اور پرانا والا، اب قریب قریب استعمال کرنا چھوڑ دیں گے۔۔۔
اللہ ہمارے شاکر بھائی کو اجر عطا فرمائے۔ آمین

کسی دن

1 views April 24, 2007 | راہبر
No Gravatar

اور آخرکار، طویل انتظار ختم ہوا۔ میرے پسندیدہ ترین گلوکار عدنان سمیع خاں کا نیا البم آگیا۔ البم کا نام “کسی دن” رکھا گیا ہے۔ ہمیشہ کی طرح ایک بہترین تخلیقات کا مجموعہ ہے۔ عدنان سمیع کی آواز اور موسیقی، دونوں میں جادو ہے۔ وہ ایشیا کے بہترین موسیقاروں میں سے ایک ہیں جنہیں موسیقی کے کئی آلآت بجانے پر عبور حاصل ہے۔ اگر آپ عدنان سمیع کے آغاز سے اب تک کے گیت سنیں تو آپ محسوس کرسکیں گے کہ ہر آنے والے البم میں پہلے سے زیادہ نکھار آتا ہے۔ میں جب اس کے گیت سنتا ہوں تو بس جی کرتا ہے کہ سنتا ہی چلا جاؤں۔
تازہ ترین البم “کسی دن” میں 13 گیت شامل ہیں جن میں سے شاید تین یا چار گیت وہ ہیں جو عدنان سمیع نے اس وقت گائے تھے جب وہ پاکستان میں رہائش پذیر تھے۔ اس زمانے میں ان کی پڑھی ہوئی ایک حمد “اے خدا اے خدا جس نے کی جستجو، مل گیا اس کو تو” جسے مشہور نعت گو شاعر، مظفر وارثی نے لکھا ہے، بہت مقبولیت حاصل کی۔ یہ حمد بھی اس نئے البم میں شامل ہے۔ “کسی دن” بنیادی طور پر ایک غزل ہے جو عدنان سمیع نے مدھم موسیقی پر گائی ہے اور اس غزل کو گانے کا حق صحیح منعوں میں ادا کردیا ہے۔
چہرے پہ میرے زلف کو لہراؤ کسی دن
سر رکھ کے میرے سینے پہ سوجاؤ کسی دن
پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہا لوں
بادل کی طرح جھوم کے گھر آؤ کسی دن

اور آخر میں ایک خاص بات، عدنان سمیع خان نے اپنا وزن 104 کلو کم کرلیا ہے اور اب ان کا وزن 97 کلو ہے جبکہ وہ اسے مزید کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تو جنہوں نے اس البم کی حالیہ پیش کی جانے والی دو ویڈیوز دیکھی ہیں، وہ اس خاص اور اچھی تبدیلی کو نوٹ کرچکے ہوں گے۔ سنا ہے کہ عدنان سمیع کو ایک ہندی فلم میں بھی کام کرنے کی پیشکش ہوئی ہے۔
دیکھتے ہیں آنے والا وقت، ان کی زندگی میں کیا تبدیلیاں لے کر آتا ہے؟

سر پر کھڑی پریشانیاں

1 views April 20, 2007 | راہبر
No Gravatar

کل مجھے احساس ہوا کہ واقعی خطرہ میرے سر پر آن کھڑا ہے اور میں اب تک اس سے لاپرواہ ہوں۔ صرف ایک ماہ بعد میرے امتحانات کا آغاز ہے۔۔۔ (میں ایس۔ایم آرٹس اینڈ کامرس کالج میں پہلے سال کا طالبعلم ہوں)۔ ادھر ہمارے امتحان تیار ہیں تو ادھر ہم ہیں کہ اب تک کتابوں کو کھول کر نہ دیکھنے والی حالت ہے۔ یہ نہیں کہ ہم کوئی نالائق قسم کے لڑکے ہیں، بلکہ ہماری قابلیت کی دھوم تو پورے خاندان میں مچی ہے لیکن ہماری حرکتیں بس کچھ ایسی ہی ہیں۔ جب تک سر پر نہیں پڑتی، کچھ کرنے کا دل ہی نہیں کرتا۔ بہرحال! اب، گو کہ سنجیدگی سے مطالعہ کی گھڑی ہے لیکن جہاں ہم کام کررہے ہیں وہاں ہمیں ایک نئے مسئلہ کا سامنا ہے۔ کمپیوٹر کے شعبہ میں میرا معاون ملازمت چھوڑ گیا ہے اور اس کے حصہ کا کام بھی مجھ پر پڑا ہے۔ دوسری طرف ادارہ کے صدر کی اہلیہ سخت بیمار ہیں، سو وہ بھی دفتر نہیں آرہے ہیں اور ان کی رہنمائی کے بغیر سب کام میں نے خود سے بروقت کرنا ہے۔ جتنا سوچتا ہوں، ذہن ماؤف ہوتا جاتا ہے کہ یہ سب کس طرح ٹھیک ہوگا؟
اردو محفل پر جاتا ہوں تو اردو کے حوالہ سے اتنا کام کرنے کو نظر آتا ہے کہ ہوس ہوتی ہے کہ کاش میں بالکل فارغ ہوں، فکر معاش بھی نہ ہو، اور بس سارا وقت یہ اردو کی ترویج کے حوالہ سے ہی کام کرتا رہوں۔۔۔ عجیب مخمصے کا شکار ہوں۔
دن بھر دفتری امور نمٹانے کے بعد جب گھر لوٹتا ہوں تو بمشکل چار پانچ گھنٹے بچتے ہیں، اس کے بعد سونے کا وقت ہوتا ہے۔ اب ان چار، پانچ گھنٹوں میں پڑھائی بھی کرنی ہے، نماز اور کھانے کا وقت بھی ہے، کمپیوٹر پر کام بھی کرنا ہے، وغیرہ وغیرہ۔۔۔
اللہ مشکلیں آسان کرنے والا ہے۔۔۔۔۔ آپ سب سے دعا کی درخواست ہے۔۔۔ اللہ مجھے دین و دنیا کے ہر امتحان میں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین

میرا مزاج

1 views April 12, 2007 | راہبر
No Gravatar

مجھے بخوبی احساس ہے کہ میری تحریریں اکثریت کے لیے انتہائی بور ثابت ہوتی ہیں۔ اس حقیقت کو میں کھلے دل سے قبول کرتا ہوں اور یہاں اپنے پہلے بلاگ ہی میں اس کا اعلان برسر عام کردیا تھا۔ میرا ایک نیا دوست ہے فہیم، کچھ دن پہلے وہ مجھے کہنے لگا کہ یار تمہارا بلاگ تو بہت ہی بورنگ ہے۔ یہ سن کر میرا قہقہہ چھوٹ گیا۔ لوگ مجھے وہ بات بتاتے ہیں، جو مجھے پہلے سے معلوم ہے۔ کبھی کبھی مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اس افسوسناک حقیقت پر میرا رد عمل اتنا افسوسناک کیوں نہیں ہوتا؟
میرا مزاج شروع سے کچھ ایسا ہی رہا ہے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بڑی تحمل مزاجی سے مجھے اور میری بکواس کو برداشت کرپاتے ہیں۔۔۔ خدا جانے کیسے؟
مجھے زندگی میں یکسانیت کبھی اچھی نہیں لگتی۔ میں مسلسل تبدیلیاں چاہتا ہوں، بس اس لیے کبھی کبھی میرا مزاج خوشگوار بھی ہوجاتا ہے لیکن لوگوں کو اس تبدیلی کا احساس شاذ و ناذ ہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ ابھی میرے مزاج کچھ اچھے ہیں تو میں نے سوچا کہ سیاست کی اور لوگوں کی باتیں بہت ہوگئیں، اب بلاگ کے ماحول میں ذرا تبدیلی لانے کی کوشش کروں اور خوش مزاجی سے کچھ باتیں کروں۔
ہمارے معاشرے میں غم، دکھ، درد کی بھرمار ہے۔ ہر شخص کو کوئی نہ کوئی غم، پریشانی، مسئلہ ہے اور وہ اپنی پریشانی آگے منتقل کررہا ہے۔۔۔ ایک سے دوسرا، اور پھر دوسرے سے تیسرا۔۔۔۔۔ پریشان کیے جانے کا ایک عمل ہے جو مسلسل بڑھتا چلا جارہا ہے۔ ایسے میں بہت کم لوگ ہیں جو مسکراہٹ اور خوشیاں بکھیرنے کا کام کررہے ہیں۔ اللہ انہیں یہ نیک عمل جاری رکھنے کی توفیق دے۔ آمین
ہمارے رسول اللہ صلی اللہ وسلم بھی لوگوں کو بشارتیں دینے آئے تھے، خوشیوں کی نوید سنانے آئے تھے، اللہ عزوجل نے انہیں ایک نام “مبشر” بھی دیا یعنی بشارت دینے والا۔ جو لوگ اس سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں لوگوں کے غم، دکھ، درد دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کی مشکلات آسان فرمائے۔
اس سے پہلے کہ میرا یہ بلاگ پھر سے سنجیدگی کا روپ دھارے، میں آپ سے اجازت چاہوں گا۔ ان شاء اللہ بہت جلد کسی خوشگوار بلاگ کے ساتھ حاضر ہوں گا۔ البتہ جاتے جاتے مشہور و معروف کالم نگار جناب جاوید چودھری صاحب کے ایک کالم کا ربط فراہم کررہا ہوں، اسے پڑھیں اور لطف اندوز ہوں:
http://express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1100118988&Issue=NP_KHI&Date=20070204
آپ سب اپنا اور اپنے اردگرد کے لوگوں کا خیال رکھئے گا۔

بے حسی

1 views April 7, 2007 | راہبر
No Gravatar

اگر آپ اپنے اردگرد کے چھوٹے چھوٹے واقعات پر غور کریں تو آپ بخوبی یہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ “بے حسی” جیسے رجحانات کی طرف راغب ہورہا ہے۔ ہم لوگ بے حس ہوتے جارہے ہیں، کسی کا لحاظ کیے بنا صرف اپنا سوچتے ہیں بھلے سے کوئی اور جتنا بھی نقصان اٹھاتا پھرے۔ ہم نے “جیسی کرنی، ویسی بھرنی” کے حقیقی محاورے کو صرف محاورے تک محدود کردیا ہے اور اس کی حقیقت سے لا پرواہ ہوگئے ہیں۔
بے حسی کا یہ رویہ صرف آپ کو ہر سطح پر دیکھنے کو ملے گا، ہر قسم کے لوگوں میں دیکھنے کو ملے گا، چاہے وہ اعتدال پسند ہوں یا شدت پسند۔
ان دنوں کراچی میں شدید گرمی پڑ رہی ہے، گزشتہ جمعہ درجہ حرارت 41 ڈگری تک پہنچ گیا۔ میں جس مسجد میں نماز پڑھنے گیا وہ جمعہ کے وقت کافی بھرجاتی ہے۔ مجھے تو اگرچہ مسجد میں جگہ مل گئی تھی لیکن لوگوں کی ایک بڑی تعداد باہر کھڑی تھی۔ سخت دھوپ اور گرمی میں نماز ادا کرناامتحان کی بات ہے۔ خطبہ و نماز تک تو پھر بھی گزارا تھا، لیکن نماز کے بعد جب امام صاحب نے دعا مانگنا شروع کی تو یوں لگتا تھا کہ ختم ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔ دعا معمول سے زیادہ طویل ہوگئی۔ میں پنکھے کی ہوا میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے بیٹھا تھا لیکن میرا دھیان باہر کڑکتی دھوپ میں بیٹھے بے چارے نمازیوں کی طرف رہا۔ مجھے یہی خیال آتا رہا کہ کیا امام صاحب پنکھوں کی ٹھنڈک میں بیٹھ کر باہر گرمی سے بے حال نمازیوں کو بھلاچکے ہیں۔۔۔؟ وہ نمازی جن میں سے کچھ تو صرف جمعہ کی نماز کے لیے آنے کی زحمت کرتے ہیں، اگر اس جمعہ کے دن بھی ایسا ہو تو پھر۔۔۔۔۔۔
اگر آپ امام صاحب کی حمایت میں کچھ کہنا چاہیں تو میں آپ کو نہیں روکوں گا۔ آپ مجھے کہیں گے تو ہزار باتیں میں بھی امام صاحب کی حمایت میں لکھ سکتا ہوں لیکن میں صرف انسانیت کے جذبہ کو مدنظر رکھتے ہوئے بات کررہا ہوں۔
خیر! یہ تو صرف ایک دن کا قصہ ہے۔ ایسی ہزار واقعات میرے مشاہدے میں آتے ہیں جب لوگ کسی دوسرے کے جذبات کا احساس کیے بنا بولتے چلے جاتے ہیں۔۔۔ آپ بس کسی ایک کو موقع دے کر دیکھیں تو سہی، پھر تماشا دیکھتے رہیے۔
یہ سب لکھتے ہوئے مجھے مشہور دانشور اور ادیب مرحوم اشفاق احمد کی دعا یاد آرہی ہے جو وہ اکثر کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ہمیں آسانیاں عطا فرما اور آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔