
اگر آپ اپنے اردگرد کے چھوٹے چھوٹے واقعات پر غور کریں تو آپ بخوبی یہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ “بے حسی” جیسے رجحانات کی طرف راغب ہورہا ہے۔ ہم لوگ بے حس ہوتے جارہے ہیں، کسی کا لحاظ کیے بنا صرف اپنا سوچتے ہیں بھلے سے کوئی اور جتنا بھی نقصان اٹھاتا پھرے۔ ہم نے “جیسی کرنی، ویسی بھرنی” کے حقیقی محاورے کو صرف محاورے تک محدود کردیا ہے اور اس کی حقیقت سے لا پرواہ ہوگئے ہیں۔
بے حسی کا یہ رویہ صرف آپ کو ہر سطح پر دیکھنے کو ملے گا، ہر قسم کے لوگوں میں دیکھنے کو ملے گا، چاہے وہ اعتدال پسند ہوں یا شدت پسند۔
ان دنوں کراچی میں شدید گرمی پڑ رہی ہے، گزشتہ جمعہ درجہ حرارت 41 ڈگری تک پہنچ گیا۔ میں جس مسجد میں نماز پڑھنے گیا وہ جمعہ کے وقت کافی بھرجاتی ہے۔ مجھے تو اگرچہ مسجد میں جگہ مل گئی تھی لیکن لوگوں کی ایک بڑی تعداد باہر کھڑی تھی۔ سخت دھوپ اور گرمی میں نماز ادا کرناامتحان کی بات ہے۔ خطبہ و نماز تک تو پھر بھی گزارا تھا، لیکن نماز کے بعد جب امام صاحب نے دعا مانگنا شروع کی تو یوں لگتا تھا کہ ختم ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔ دعا معمول سے زیادہ طویل ہوگئی۔ میں پنکھے کی ہوا میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے بیٹھا تھا لیکن میرا دھیان باہر کڑکتی دھوپ میں بیٹھے بے چارے نمازیوں کی طرف رہا۔ مجھے یہی خیال آتا رہا کہ کیا امام صاحب پنکھوں کی ٹھنڈک میں بیٹھ کر باہر گرمی سے بے حال نمازیوں کو بھلاچکے ہیں۔۔۔؟ وہ نمازی جن میں سے کچھ تو صرف جمعہ کی نماز کے لیے آنے کی زحمت کرتے ہیں، اگر اس جمعہ کے دن بھی ایسا ہو تو پھر۔۔۔۔۔۔
اگر آپ امام صاحب کی حمایت میں کچھ کہنا چاہیں تو میں آپ کو نہیں روکوں گا۔ آپ مجھے کہیں گے تو ہزار باتیں میں بھی امام صاحب کی حمایت میں لکھ سکتا ہوں لیکن میں صرف انسانیت کے جذبہ کو مدنظر رکھتے ہوئے بات کررہا ہوں۔
خیر! یہ تو صرف ایک دن کا قصہ ہے۔ ایسی ہزار واقعات میرے مشاہدے میں آتے ہیں جب لوگ کسی دوسرے کے جذبات کا احساس کیے بنا بولتے چلے جاتے ہیں۔۔۔ آپ بس کسی ایک کو موقع دے کر دیکھیں تو سہی، پھر تماشا دیکھتے رہیے۔
یہ سب لکھتے ہوئے مجھے مشہور دانشور اور ادیب مرحوم اشفاق احمد کی دعا یاد آرہی ہے جو وہ اکثر کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ہمیں آسانیاں عطا فرما اور آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔