شعور کی کمی
پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک کی صورتحال کا اگر جائزہ لیا جاۓ تو پاکستانی عوام کا کردار کچھ خاص نظر نہیں آتا۔ عوامی طاقت کا مظاہرہ چند معاملات میں ہی دیکھنے کو مل سکا لیکن موجودہ حالات میں جس طرح عوام کا رد عمل ہونا چاہیے تھا وہ نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آنے والی حکومت عوام کو پیستی ہی چلی جا رہی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ سوال کل یونہی مجھے تنگ کرتا رہا اور پھر مجھے اس کا ایک مختصر ترین جواب ملا۔۔۔ “شعور کی کمی”۔
جی ہاں! ہماری عوام میں شعور کی کمی ہے۔ سیاسی شعور، سماجی شعور، معاشرتی شعور، انفرادی شعور۔۔۔ ہمیں کسی چیز کا شعور ہی نہیں ہے۔ کسی معاملہ پر ہم ایسا رویہ نہیں اپناتے جس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس پر مستزاد کہ سیاسی جماعتوں نے غیر ضروری مظاہروں اور احتجاجوں میں عوام کی وہ درگت بنا ڈالی ہے کہ اب ضروری احتجاج کے وقت بھی عوام کی اکثریت شرکت نہ کرنے کو ہی ترجیح دیتی ہے۔
متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین نے فکری نشستوں کا آغاز کیا تو روشنی کی کرن لگی لیکن ان کی فکری نشستیں بھی تحریکی ہنگاموں میں الجھی نظر آتی ہیں۔ فکری نشستوں کا خاطر خواہ نتیجہ تو میں تب مانوں جب پڑھے لکھے لوگ بیہودہ انداز میں وال۔چاکنگ سے باز آ جائیں اور میرے پیارے وطن کی دیواریں گندی ہونے سے بچائیں۔ جب سفر کرتا ہوں تو شہر کی دیواروں پر تقریباً ہر سیاسی جماعت کی وال۔چاکنگ پر نظر پڑتی ہے۔ آخر اتنا کیا ضروری ہے؟ یہ خیال کیے بنا کہ یہ دیوار کسی مسجد کی ہے یا گھر کی، اس دیوار کا مالک اسے صاف رکھنے کے لیے بار بار رنگ کرواتا ہوگا۔ اور تو اور، اب تو گاڑیوں اور بسوں پر بھی چاکنگ کی جانے لگی ہے۔ کیا پڑھے لکھے، سمجھ بوجھ رکھنے والے سیاسی قائدین اپنے پیروکاروں کو اس برے فعل سے روک نہیں سکتے؟
اگر ایسی بے شعوری کے نمونے گنوانا شروع کروں تو انبار لگ جاۓ۔ کیا ہمارے سیاسی قائدین نچلے درجے سے تربیت کا آغاز نہیں کرسکتے؟ کیا سیاسی کارکنان کا کام صرف جلسے جلوس کرنا، نعرے لگانا اور گندگی کرنا ہے؟ ان کی تربیت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ شاید اس سوال کا صحیح جواب عام انسان تو دے سکے لیکن مجھے یقین ہے کہ سیاسی قائدین کے حصہ میں صرف خاموشی ہوگی۔۔۔ سیاسی خاموشی۔۔۔! یا پھر دوسرے پر الزام! اس کے سوا ان کے دامن میں اور رکھا ہی کیا ہے؟
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
March 30, 2007 بوقت 5:13 am
فکری نشستیں؟ یہ فکری نشستیں کیا ہیں بھئی؟
March 31, 2007 بوقت 2:48 am
میرے بھائی! فکری نشستوں کی بنیاد ایم۔کیو۔ایم کے ابتدائی دور میں ڈالی گئی۔ الطاف صاحب کے لندن جانے کے بعد بھی ان کا سلسلہ جاری رہا اور اب یہ ٹیلیفونک فکری نشستیں بن گئی ہیں۔ بقول شخصے، ان میں کارکنوں کی تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ فکری نشستوں سے کیا جانے والا خطاب اکثر و بیشتر مقامی اخبارات میں بھی شائع ہوتا ہے۔ اس بارے میں مزید کچھ تفصیل آپ کو جاوید چودھری کے کالم سے ملے گی جس کا ربط ذیل میں دے رہا ہوں:
http://express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1100155354&Issue=NP_LHE&Date=20070329
April 2, 2007 بوقت 5:17 am
یہ فکری نشستیں میرے علم میں اب آئی ہیں۔
یہ تو ٹھیک بات ہے کہ ایم کیو ایم واقعی ایک منظم جماعت ہے۔ ویسے جماعت اسلامی کے بارے میں بھی کچھ ایسا ہی خیال کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جماعتیں بھی ایک شخصیت کے گرد گھومتی ہیں۔
کسی بھی سطح پر دیکھ لیں لوگ خدا بنے بیٹھے ہیں اور اپنی رعیت کے ذہن میں یہ بات ٹھونسی ہوئی ہےکہ بس میں ہی ٹھیک کہتا ہوں باقی سب بکواس کرتے ہیں۔ نتیجے میں لوگ انھیں بتوں کی طرح پوجتے ہیں اور ان کے نظریات پر جان چھڑکتے ہیں ایسے میں شعور کیا خاک آئے گا۔
وسلام