No Gravatar

میں جس معاشرہ میں رہتا ہوں، وہ فی الوقت دوغلہ پن کا شکار ہے۔ نجانے اسے بیماری کہنا چاہیے یا لوگوں کی مجبوری لیکن خواص سے عوام تک، بادشاہ سے رعایا تک، بڑے سے چھوٹے تک، ہر ایک دوغلہ پن کا نمونہ ہے۔
دوغلہ پن کا شکار اس معاشرے کی صورتحال انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ اس دوغلہ معاشرہ میں خود اسلحوں کی انبار لگائے جاتے ہیں اور دوسروں کو منع کیا جاتا ہے۔ اس معاشرے میں اظہار رائے کا حق چھینا جائے تو آہیں بلند ہوتی ہیں مگر جینے کا حق چھینا جائے تو کچھ فرق نہ پڑتا۔ یہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی ہیں اور امیر و غریب کا فرق بھی۔ اس معاشرہ میں اگر کوئی غریب پھٹے، پیوند لگے کپڑے پہنے تو اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن اگر امیر باپ کا بیٹا اپنے کپڑے کو اپنے ہاتھ سے پھاڑ ڈالے تو اس اقدام کو فیشن قرار دے کر بڑی واہ واہ کی جاتی ہے۔ اس معاشرے میں اگر جیک دی رپر بے حیا خواتین کو قتل کرے تو اسے اس کا ذاتی فعل گردانا جاتا ہے، اس پر مذہبی انتہا پسندی کا الزام نہیں لگتا، کوئی نہیں کہتا کہ یہ سب گرجا گھروں کا کارنامہ ہے لیکن اگر ایک سرور نامی شخص اٹھ کر بے حیا خواتین کو قتل کرے تو اس کے نام کے ساتھ مولوی کا اضافہ کر کے سارا الزام مدارس کو دیا جاتا ہے، اس کا سبب مذہبی انتہا پسندی کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس دوغلہ معاشرہ میں کوئی بھی ہزار قتل کرے، ہزار خواتین کی بے حرمتی کرے، جتنے حرام کام کرے اس پر اثر نہیں ہوتا لیکن اس کے سامنے اگر سؤر کا گوشت رکھ دیا جائے تو وہ یہ کہ کر انکار کر دیتا ہے کہ سؤر کا گوشت حرام ہے۔ اس معاشرہ میں اگر ایک دینی شخصیت حدود میں رہتے ہوئے دینی احکام نہ ماننے والوں کو وعید سنائے تو اس پر انتہا پسندی کا الزام عائد ہوتا ہے اور ایک انسان ہر حد سے گزر کر کسی دینی شخصیت کو برا کہے تو اسے اعتدال پسندی، آزادئ اظہار رائے اور روشن خیالی کا نام دیا جاتا ہے۔
ہاں! ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ
اس دوغلہ پن کا شکار معاشرہ میں انسان کو اپنے مرضی کے مطابق زندگی گزارنے، اپنی مرضی کے مطابق لباس پہننے کا حق حاصل ہے لیکن اگر کوئی خاتون حجاب کرے تو اس پر ملامت ہوتی ہے۔ آخر کیوں؟
اس معاشرہ میں ایک یہودی، عیسائی یا سکھ اپنے مذہب کی خاطر داڑھی رکھ سکتا ہے لیکن جب ایک مسلمان یہی کام کرتا ہے تو انتہا پسند کہلاتا ہے۔ آخر کیوں؟
یہاں ایک نن اپنے مذہب کے لئے سر سے پیر تک خود کو مکمل ڈھانپ سکتی ہے لیکن ایک مسلمان عورت با حجاب رہے تو اسے مظلوم کہا جاتا ہے۔ آخر کیوں؟
اس دوغلہ معاشرہ میں کوئی یہودی یا عیسائی قتل کرے تو مذہبی عنصر نہیں دیکھا جاتا لیکن اگر مسلمان قتل کرے تو تفتیش میں مذہب کا عنصر شامل کر دیا جاتا ہے۔ آخر کیوں؟
اس معاشرہ میں کوئی شخص اپنے خاندان یا دوسرے لوگوں کی حفاظت کی خاطر اپنی جان قربان کرے تو وہ عظیم شخصیت اور عوام کا ہیرو کہلاتا ہے لیکن ایک فلسطینی یا کشمیری یا کوئی اور مسلمان اپنے مسلمان بھائی بہنوں کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کردے تو اسے دہشت گرد کہا جاۓ۔ کیوں؟
ایک یہودی یا عیسائی عہدیدار اپنی مذہبی کتاب پر حلف اٹھائے تو وہ سیکولر ہی رہے اور ایک مسلمان اپنی مذہبی کتاب پر حلف لے تو مذہبی انتہا پسند کہلاۓ۔ کیوں؟
یورپ کے ممالک میں ہزاروں خواتین کی حرمت پر ڈاکہ ڈالا جاۓ تو کوئی این۔جی۔او آواز نہ اٹھاۓ لیکن اگر پاکستان میں کسی خاتون کی آبرو ریزی ہو تو آسمان سر پر اٹھالیا جائے۔۔۔ کیوں؟
ہولو کاسٹ کے خلاف کوئی آواز اٹھانا جرم ہے لیکن مسلمانوں کے ہونے والے قتل عام کا کسی کو احساس نہیں۔کیوں؟
آخر کیوں؟؟؟ اس دوغلہ معاشرہ میں اس “کیوں؟” کا جواب کون دے گا؟

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔