No Gravatar

وطن عزیز پاکستان کا منظرنامہ جتنی تیز رفتاری سے بدل رہا ہے اس کو دیکھتے ہوۓ کوئی بھی تبصرہ یا تجزیہ عارضی ہی ہوسکتا ہے۔ مہینوں پہلے جامعہ حفصہ کی زمین غیر قانونی ہونے کا مسئلہ کھڑا ہوا، نئے نئے انکشافات ہوۓ اور پھر یہ قصہ کچھ عرصہ کے لئے منظرنامہ سے ہٹ گیا۔ کچھ دنوں پہلے چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار محمد چودھری کی غیر فعالی اور جبری رخصت کا قصہ اچانک سے ابھر کر سامنے آگیا۔ ایک ہنگامہ مچ گیا اور اب تک جاری ہے۔ اس ہنگامے سے فارغ نہ ہوۓ تھے کہ جامعہ حفصہ کی طالبات کا مسئلہ پھر سے ابھر آیا۔ (درمیان میں پاکستانی کرکٹ کے ساتھ جو حیرت انگیز واقعات پیش آۓ، ان کا تو ذکر ہی الگ)۔
جامعہ حفصہ کی طالبات اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے معاملے میں کچھ قدریں مشترک ہیں۔ پہلی بات جو قابل غور ہے، وہ حکومت کا رویہ ہے۔ افہام و تفہیم والی بات کہیں نظر نہیں آتی۔۔۔ خیر! فوجی حکومت کے ہوتے ہوۓ افہام و تفہیم کی توقع رکھنا بھی کچھ لایعنی ہی ہے۔ یہ افہام و تفہیم نہ تو وانا کے قبائلیوں سے معاملات طے کرنے میں نظر آتی ہے، نہ اکبر بگٹی کے مسئلہ میں اور نہ ہی دیگر “غداران وطن” کے سلسلہ میں جن کی تعداد مسلسل بڑھتی ہی جارہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اگر سب کچھ اسی ڈگر پر جاری رہا تو مستقبل قریب میں “محب وطن” ہونے کا سرٹیفیکٹ بہت کم لوگوں کے پاس باقی رہ جاۓ گا۔ دوسرا اہم نکتہ انصاف کی فراہمی ہے۔ چاہے جامعہ حفصہ کا مسئلہ ہو چاہے چیف جسٹس کا، دونوں معاملات کا دائرہ انصاف کے گرد ہی گھومتا ہے۔ ایک طرف منصف ہے کہ جب وہ حکومت اور انتظامیہ کی ناانصافیوں پر “خاص توجہ” کرتا ہے تو اسے انصاف کرنے کے حق سے محروم کرکے جبری رخصت پر بھیج دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف وہ طالبات ہیں جو سمجھتی ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اور اس ناانصافی کو دور کرنے کے لیے وہ طالبات قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہیں۔
میں ہرگز نہیں سمجھتا کہ جامعہ حفصہ کی طالبات کا اقدام درست تھا۔ دین اور دینی مدارس سے حد درجہ لگاؤ رکھنے کے باوجود میں یہی کہوں گا کہ طالبات کا اقدام غلط تھا لیکن جب ریاست لاقانونیت کا شکار ہوجاۓ، انصاف کی فراہمی میں ناکام ہوجاۓ، عوام کو دبایا جانے لگے، عوام کو حقیر اور بے وقوف سمجھا جائے، تو پھر ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔