شعور کی کمی

1 views March 30, 2007 | راہبر
No Gravatar

پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک کی صورتحال کا اگر جائزہ لیا جاۓ تو پاکستانی عوام کا کردار کچھ خاص نظر نہیں آتا۔ عوامی طاقت کا مظاہرہ چند معاملات میں ہی دیکھنے کو مل سکا لیکن موجودہ حالات میں جس طرح عوام کا رد عمل ہونا چاہیے تھا وہ نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آنے والی حکومت عوام کو پیستی ہی چلی جا رہی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ سوال کل یونہی مجھے تنگ کرتا رہا اور پھر مجھے اس کا ایک مختصر ترین جواب ملا۔۔۔ “شعور کی کمی”۔
جی ہاں! ہماری عوام میں شعور کی کمی ہے۔ سیاسی شعور، سماجی شعور، معاشرتی شعور، انفرادی شعور۔۔۔ ہمیں کسی چیز کا شعور ہی نہیں ہے۔ کسی معاملہ پر ہم ایسا رویہ نہیں اپناتے جس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس پر مستزاد کہ سیاسی جماعتوں نے غیر ضروری مظاہروں اور احتجاجوں میں عوام کی وہ درگت بنا ڈالی ہے کہ اب ضروری احتجاج کے وقت بھی عوام کی اکثریت شرکت نہ کرنے کو ہی ترجیح دیتی ہے۔
متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین نے فکری نشستوں کا آغاز کیا تو روشنی کی کرن لگی لیکن ان کی فکری نشستیں بھی تحریکی ہنگاموں میں الجھی نظر آتی ہیں۔ فکری نشستوں کا خاطر خواہ نتیجہ تو میں تب مانوں جب پڑھے لکھے لوگ بیہودہ انداز میں وال۔چاکنگ سے باز آ جائیں اور میرے پیارے وطن کی دیواریں گندی ہونے سے بچائیں۔ جب سفر کرتا ہوں تو شہر کی دیواروں پر تقریباً ہر سیاسی جماعت کی وال۔چاکنگ پر نظر پڑتی ہے۔ آخر اتنا کیا ضروری ہے؟ یہ خیال کیے بنا کہ یہ دیوار کسی مسجد کی ہے یا گھر کی، اس دیوار کا مالک اسے صاف رکھنے کے لیے بار بار رنگ کرواتا ہوگا۔ اور تو اور، اب تو گاڑیوں اور بسوں پر بھی چاکنگ کی جانے لگی ہے۔ کیا پڑھے لکھے، سمجھ بوجھ رکھنے والے سیاسی قائدین اپنے پیروکاروں کو اس برے فعل سے روک نہیں سکتے؟
اگر ایسی بے شعوری کے نمونے گنوانا شروع کروں تو انبار لگ جاۓ۔ کیا ہمارے سیاسی قائدین نچلے درجے سے تربیت کا آغاز نہیں کرسکتے؟ کیا سیاسی کارکنان کا کام صرف جلسے جلوس کرنا، نعرے لگانا اور گندگی کرنا ہے؟ ان کی تربیت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ شاید اس سوال کا صحیح جواب عام انسان تو دے سکے لیکن مجھے یقین ہے کہ سیاسی قائدین کے حصہ میں صرف خاموشی ہوگی۔۔۔ سیاسی خاموشی۔۔۔! یا پھر دوسرے پر الزام! اس کے سوا ان کے دامن میں اور رکھا ہی کیا ہے؟

جامعہ حفصہ کی طالبات سے چیف جسٹس آف پاکستان تک

1 views March 29, 2007 | راہبر
No Gravatar

وطن عزیز پاکستان کا منظرنامہ جتنی تیز رفتاری سے بدل رہا ہے اس کو دیکھتے ہوۓ کوئی بھی تبصرہ یا تجزیہ عارضی ہی ہوسکتا ہے۔ مہینوں پہلے جامعہ حفصہ کی زمین غیر قانونی ہونے کا مسئلہ کھڑا ہوا، نئے نئے انکشافات ہوۓ اور پھر یہ قصہ کچھ عرصہ کے لئے منظرنامہ سے ہٹ گیا۔ کچھ دنوں پہلے چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار محمد چودھری کی غیر فعالی اور جبری رخصت کا قصہ اچانک سے ابھر کر سامنے آگیا۔ ایک ہنگامہ مچ گیا اور اب تک جاری ہے۔ اس ہنگامے سے فارغ نہ ہوۓ تھے کہ جامعہ حفصہ کی طالبات کا مسئلہ پھر سے ابھر آیا۔ (درمیان میں پاکستانی کرکٹ کے ساتھ جو حیرت انگیز واقعات پیش آۓ، ان کا تو ذکر ہی الگ)۔
جامعہ حفصہ کی طالبات اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے معاملے میں کچھ قدریں مشترک ہیں۔ پہلی بات جو قابل غور ہے، وہ حکومت کا رویہ ہے۔ افہام و تفہیم والی بات کہیں نظر نہیں آتی۔۔۔ خیر! فوجی حکومت کے ہوتے ہوۓ افہام و تفہیم کی توقع رکھنا بھی کچھ لایعنی ہی ہے۔ یہ افہام و تفہیم نہ تو وانا کے قبائلیوں سے معاملات طے کرنے میں نظر آتی ہے، نہ اکبر بگٹی کے مسئلہ میں اور نہ ہی دیگر “غداران وطن” کے سلسلہ میں جن کی تعداد مسلسل بڑھتی ہی جارہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اگر سب کچھ اسی ڈگر پر جاری رہا تو مستقبل قریب میں “محب وطن” ہونے کا سرٹیفیکٹ بہت کم لوگوں کے پاس باقی رہ جاۓ گا۔ دوسرا اہم نکتہ انصاف کی فراہمی ہے۔ چاہے جامعہ حفصہ کا مسئلہ ہو چاہے چیف جسٹس کا، دونوں معاملات کا دائرہ انصاف کے گرد ہی گھومتا ہے۔ ایک طرف منصف ہے کہ جب وہ حکومت اور انتظامیہ کی ناانصافیوں پر “خاص توجہ” کرتا ہے تو اسے انصاف کرنے کے حق سے محروم کرکے جبری رخصت پر بھیج دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف وہ طالبات ہیں جو سمجھتی ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اور اس ناانصافی کو دور کرنے کے لیے وہ طالبات قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہیں۔
میں ہرگز نہیں سمجھتا کہ جامعہ حفصہ کی طالبات کا اقدام درست تھا۔ دین اور دینی مدارس سے حد درجہ لگاؤ رکھنے کے باوجود میں یہی کہوں گا کہ طالبات کا اقدام غلط تھا لیکن جب ریاست لاقانونیت کا شکار ہوجاۓ، انصاف کی فراہمی میں ناکام ہوجاۓ، عوام کو دبایا جانے لگے، عوام کو حقیر اور بے وقوف سمجھا جائے، تو پھر ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔

دوغلہ پن

1 views March 7, 2007 | راہبر
No Gravatar

میں جس معاشرہ میں رہتا ہوں، وہ فی الوقت دوغلہ پن کا شکار ہے۔ نجانے اسے بیماری کہنا چاہیے یا لوگوں کی مجبوری لیکن خواص سے عوام تک، بادشاہ سے رعایا تک، بڑے سے چھوٹے تک، ہر ایک دوغلہ پن کا نمونہ ہے۔
دوغلہ پن کا شکار اس معاشرے کی صورتحال انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ اس دوغلہ معاشرہ میں خود اسلحوں کی انبار لگائے جاتے ہیں اور دوسروں کو منع کیا جاتا ہے۔ اس معاشرے میں اظہار رائے کا حق چھینا جائے تو آہیں بلند ہوتی ہیں مگر جینے کا حق چھینا جائے تو کچھ فرق نہ پڑتا۔ یہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی ہیں اور امیر و غریب کا فرق بھی۔ اس معاشرہ میں اگر کوئی غریب پھٹے، پیوند لگے کپڑے پہنے تو اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن اگر امیر باپ کا بیٹا اپنے کپڑے کو اپنے ہاتھ سے پھاڑ ڈالے تو اس اقدام کو فیشن قرار دے کر بڑی واہ واہ کی جاتی ہے۔ اس معاشرے میں اگر جیک دی رپر بے حیا خواتین کو قتل کرے تو اسے اس کا ذاتی فعل گردانا جاتا ہے، اس پر مذہبی انتہا پسندی کا الزام نہیں لگتا، کوئی نہیں کہتا کہ یہ سب گرجا گھروں کا کارنامہ ہے لیکن اگر ایک سرور نامی شخص اٹھ کر بے حیا خواتین کو قتل کرے تو اس کے نام کے ساتھ مولوی کا اضافہ کر کے سارا الزام مدارس کو دیا جاتا ہے، اس کا سبب مذہبی انتہا پسندی کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس دوغلہ معاشرہ میں کوئی بھی ہزار قتل کرے، ہزار خواتین کی بے حرمتی کرے، جتنے حرام کام کرے اس پر اثر نہیں ہوتا لیکن اس کے سامنے اگر سؤر کا گوشت رکھ دیا جائے تو وہ یہ کہ کر انکار کر دیتا ہے کہ سؤر کا گوشت حرام ہے۔ اس معاشرہ میں اگر ایک دینی شخصیت حدود میں رہتے ہوئے دینی احکام نہ ماننے والوں کو وعید سنائے تو اس پر انتہا پسندی کا الزام عائد ہوتا ہے اور ایک انسان ہر حد سے گزر کر کسی دینی شخصیت کو برا کہے تو اسے اعتدال پسندی، آزادئ اظہار رائے اور روشن خیالی کا نام دیا جاتا ہے۔
ہاں! ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ
اس دوغلہ پن کا شکار معاشرہ میں انسان کو اپنے مرضی کے مطابق زندگی گزارنے، اپنی مرضی کے مطابق لباس پہننے کا حق حاصل ہے لیکن اگر کوئی خاتون حجاب کرے تو اس پر ملامت ہوتی ہے۔ آخر کیوں؟
اس معاشرہ میں ایک یہودی، عیسائی یا سکھ اپنے مذہب کی خاطر داڑھی رکھ سکتا ہے لیکن جب ایک مسلمان یہی کام کرتا ہے تو انتہا پسند کہلاتا ہے۔ آخر کیوں؟
یہاں ایک نن اپنے مذہب کے لئے سر سے پیر تک خود کو مکمل ڈھانپ سکتی ہے لیکن ایک مسلمان عورت با حجاب رہے تو اسے مظلوم کہا جاتا ہے۔ آخر کیوں؟
اس دوغلہ معاشرہ میں کوئی یہودی یا عیسائی قتل کرے تو مذہبی عنصر نہیں دیکھا جاتا لیکن اگر مسلمان قتل کرے تو تفتیش میں مذہب کا عنصر شامل کر دیا جاتا ہے۔ آخر کیوں؟
اس معاشرہ میں کوئی شخص اپنے خاندان یا دوسرے لوگوں کی حفاظت کی خاطر اپنی جان قربان کرے تو وہ عظیم شخصیت اور عوام کا ہیرو کہلاتا ہے لیکن ایک فلسطینی یا کشمیری یا کوئی اور مسلمان اپنے مسلمان بھائی بہنوں کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کردے تو اسے دہشت گرد کہا جاۓ۔ کیوں؟
ایک یہودی یا عیسائی عہدیدار اپنی مذہبی کتاب پر حلف اٹھائے تو وہ سیکولر ہی رہے اور ایک مسلمان اپنی مذہبی کتاب پر حلف لے تو مذہبی انتہا پسند کہلاۓ۔ کیوں؟
یورپ کے ممالک میں ہزاروں خواتین کی حرمت پر ڈاکہ ڈالا جاۓ تو کوئی این۔جی۔او آواز نہ اٹھاۓ لیکن اگر پاکستان میں کسی خاتون کی آبرو ریزی ہو تو آسمان سر پر اٹھالیا جائے۔۔۔ کیوں؟
ہولو کاسٹ کے خلاف کوئی آواز اٹھانا جرم ہے لیکن مسلمانوں کے ہونے والے قتل عام کا کسی کو احساس نہیں۔کیوں؟
آخر کیوں؟؟؟ اس دوغلہ معاشرہ میں اس “کیوں؟” کا جواب کون دے گا؟

میں اور بلاگ

1 views March 7, 2007 | راہبر
No Gravatar

کچھ عرصہ پہلے تک جب انٹرنیٹ کی دنیا سے میری کچھ خاص واقفیت نہ تھی، تب بلاگز کا تذکرہ سنتا تھا تو کچھ پلے نہ پڑتا تھا کہ یہ کیا چیز ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ جب بلاگز کے بارے میں جانا تو ایک جوش اٹھا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد یہ کام کر رہی ہے تو بھلا ہم کیوں پیچھے رہیں؟ ایک مدت سے میرا معمول رہا ہے کہ روزانہ یا ہر ایک سے دو دن بعد یا جیسے جیسے مجھے موقع ملتا ہے، میں روزنامچہ (ڈیلی ڈائری) میں روزمرہ کے واقعات قلم بند کرتا رہتا ہوں۔ ہاں! جوں جوں میری زندگی مصروف ہوتی گئی، روزنامچہ لکھنے میں ناغہ آتا گیا اور گزشتہ ایک ماہ سے تو بالکل لکھنا چھوڑ ڈالا ہے۔
بہر حال! گفتگو تھی بلاگز سے متعلق۔ سو جب اس سے تھوڑی بہت واقفیت ہوئی تو اس کام میں ہاتھ ڈالنے کا عزم مصمم کر لیا۔ میری یہ عادت (چاہیں تو بیماری کہہ لیں) صرف بلاگ لکھنے کی حد تک نہیں۔۔۔ ہر نیا فن، نئی چیز مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے۔ آگے چل کر بھلے اسے نہ اپناؤں لیکن اس کی بنیادی معلومات جاننا اور کچھ چیدہ چیدہ باتوں کا علم رکھنے کا مجھے جنون ہے۔ لہذا بلاگ کو چھوڑ دینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر یہ بھی کہ سیاست، بین الاقوامی اور قومی صورتحال، فن، معاشرہ، سماج وغیرہ وغیرہ، ان سب میں مجھے بے حد دلچسپی ہے، اپنی رائے، اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانا، دوسروں کے خیالات جاننا، مختلف موضوعات پر بحث کرنا، معلومات کا تبادلہ کرنا، یوں سمجھئے کہ میری زندگی کے تمام رنگ اسی سے وابستہ ہیں۔۔۔ اس لئے بلاگز کی طرف کشش اور بھی زیادہ محسوس ہوئی۔
اب جبکہ بلاگ لکھنے بیٹھا تو دو تین موضوعات پر لکھا، کچھ برا نہ لکھا تھا، لیکن نجانے کیوں اسے کچھ دن بعد حذف کردیا۔ سوچا کہ کچھ ایسا لکھنے سے ابتداء کی جائے کہ کسی کو بوریت محسوس نہ ہو۔ کوئی موضوع سوچتے سوچتے یہ سب کچھ لکھ بیٹھا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ جتنے لوگ اسے پڑھیں گے، ان میں سے اکثریت بوریت محسوس کرے گی لیکن اس میں مجھے اپنا قصور نظر نہیں آتا۔۔۔ (شاید میرا قصور ہے بھی نہیں)۔
ایک زمانہ سے میرا معمول یہ ہے کہ اگر محفل میں بیٹھا ہوں تو اکثر کوشش یہی کرتا ہوں کہ از خود کوئی بات شروع نہ کروں، نجانے سامنے والوں کو میرا منتخب کردہ موضوع پسند آئے یا نہیں۔۔۔ کیونکہ میں اگر کوئی بات کروں اور سامنے والے کے چہرے پر بیزاری کا تاثر نظر آئے تو مجھے نہ صرف غصہ آتا ہے بلکہ شرمندگی کے احساس کے ساتھ ساتھ احساس کمتری (یا شاید مناسب ہو اگر میں کہوں کہ احساس محرومی) ہوتا ہے۔۔۔ مجھے یہ چیز بالکل پسند نہیں۔۔۔ میں اسے روح کا زخم کہتا ہوں۔ اس زخم کو سہنے سے بہتر میں یہی سمجھتا ہوں کہ از خود کچھ نہ کہوں۔
لوگوں کے دل کا حال اگر آپ ان کے چہروں سے جاننے لگیں تو یہ ایک حد تک اچھا بھی ہے لیکن کچھ مواقع پر اس کے سبب ہونے والی کوفت کا اندازہ ہر ایرے غیرے کے لئے ممکن نہیں۔۔۔