اہم اعلان

432 views October 1, 2008 | راہبر
No Gravatar

میرا بلاگ ابن ضیاء ڈاٹ کام پر منتقل ہوگیا ہے۔ اب آپ میرا بلاگ یہاں ملاحظہ کرسکیں گے۔ اگر آپ بلاگر ہیں تو ازراہ کرم اپنا بلاگ رول اپ۔ڈیٹ کرلیں۔ نوازش

اور ہاں، عید مبارک

Hannah Montana

528 views September 24, 2008 | راہبر
No Gravatar

گذشتہ ایک ہفتہ سے میرے روزمرہ کے معمولات میں ایک چیز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ میں رات تراویح پڑھ آنے کے بعد کھانا کھاکر ڈزنی چینل لگاکر بیٹھ جاتا ہوں۔ باقی سب بور ہوتے رہتے ہیں کہ کیا دیکھیں، کیا سمجھیں۔ گیارہ بجے سے دو، تین اچھے سٹ کام آتے ہیں۔ گیارہ بجے Cory in the house جس کی کہانی کوری کے گرد گھومتی ہے۔ اس کا باپ وہائٹ ہاؤس کے باورچی خانے کا نگران ہے۔ اپنے دو دوستوں نیوٹ (جو چیف جسٹس کا بیٹا ہے) اور مینا (جو ایک سفیر کی بیٹی ہے) کے ساتھ مل کر دونوں اچھی تفریح فراہم کرتے ہیں۔

بارہ بجے The Suite Life of Zack & Cody آتا ہے اس کی کہانی زیک اور کوڈی، دو جڑواں بھائیوں کے گرد گھومتی ہے جو اپنی ماں کے ساتھ ایک ہوٹل میں رہتے ہیں۔ یہ سٹ کام بھی کافی دلچسپ ہے پر کبھی کبھی اس میں کچھ ایسا ہوجاتا ہے کہ مجھے چینل بدلنا پڑتا ہے۔۔۔

لیکن میرا سب سے پسندیدہ سٹ کام Hannah Montana ہے۔ یہ ساڑھے گیارہ بجے نشر ہوتا ہے۔ گیارہ اور بارہ بجے والا سٹ کام بھلے چھوڑ دوں، لیکن اسے ضرور دیکھتا ہوں۔

مطلب آج کل میں بچہ بنا ہوا ہوں چھوٹا سا۔۔۔ :P
مزید پڑھیں »

میری میت پر

460 views September 23, 2008 | راہبر
No Gravatar

گیت: میری میت پر
گلوکار: محمد علی تاجی

دبا کے قبر میں سب چل دیے دعا نہ سلام
ذرا سی دیر میں کیا ہوگیا زمانے کو؟

دل نے پہنا ہے جوڑا کفن کا، چادر گُل تو لا کر چڑھا دو
جارہی ہے محبت کی میت، دوستو آؤ کاندھا لگادو

جتنے چاہو ستم ہم پہ ڈھاؤ، اُف کریں گے نہ ہم اے دنیا والو!
دل تو ہم دے چکے ہیں کسی کو، جسم کو خاک میں تم ملادو

دم نکلنے پہ ملنے کو آئے، یہ سدا ہی ستم ہم پہ ڈھائے
میری میت پہ آکر وہ بولے، “کب سے سویا ہے، اس کو جگادو“

پیار کرنا اگر یہ خطا ہے، تو میرا دوستو فیصلہ ہے
پیار میں کیا خطا کی تھی میں نے، تم جو چاہو خطا کی سزا دو

مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت ِ دفن
میری دم بھر محبت کا صلہ دینے لگے
کسی کے منہ سے نہ نکلا یہ میرے دفن کے بعد
کہ ان پہ خاک نہ ڈالو، یہ ہیں نہائے ہوئے

کفن ہٹاؤ نہ للہ میرے چہرے سے
گنہگار کو رہنے دو منہ چھپائے ہوئے
ایسا میرا دل پھٹتا ہے احباب کی اس بے دردی پر
کہ کاندھے پر اٹھانے والے کو مٹی میں ملایا جاتا ہے

اللہ اللہ یہ لگن، باندھ کے سر سے کفن
ایک دیوانہ چلا، ایک مستانہ چلا
اب خزاں سے کہہ دو، راہ سے ہٹ جائے
کوئی مشکل انور، اب نہ آڑے آئے

پیار کرنا اگر یہ خطا ہے، تو میرا دوستو فیصلہ ہے
پیار میں کیا خطا کی تھی میں نے، تم جو چاہو خطا کی سزا دو

بن گئی میری آنکھیں کسوٹی، سینکڑوں میں نے دیکھے ہیں جلوے
دیکھ لو میری آنکھوں میں تم بھی، آئینہ سامنے سے ہٹادو

عوام پر ظلم

510 views September 18, 2008 | راہبر
No Gravatar

اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں اور سفر کے دوران وال چاکنگ پر غور نہیں کرتے تو یقین جانئے، بہت برا کرتے ہیں۔ :razz: بہرحال! وال چاکنگ پر تو میں پھر کبھی لکھوں گا کیونکہ اس پر ٹھیک ٹھاک لکھنے کا ارادہ ہے۔ ابھی پچھلے دنوں میں نے “پاسبان” کی طرف سے کچھ دیواروں پر دو عبارات لکھی دیکھیں۔ “پاسبان” شاید جماعتِ اسلامی کی بغل بچہ تنظیم ہے۔

پہلی عبارت:
فی لیٹر دودھ کی قیمت 12 روپے۔
فروخت 44 روپے۔
فی لیٹر منافع 32 روپے۔ عوام کے ساتھ ظلم ہے۔

دوسری عبارت:
فی مسافر خرچہ 3 روپے
لیکن منی بس کا کرایہ 12 روپے
فی مسافر منافع 9 روپے۔ عوام کے ساتھ ظلم ہے۔

(وضاحت: منی بس کا کرایہ 12 روپے کم سے کم ہے اور زیادہ سے زیادہ 14 روپے۔ بڑی بس کا کم سے کم کرایہ 11 اور زیادہ سے زیادہ 13 روپے۔ کوچز کا کرایہ شاید 17 روپے ہے)

اب میرے تین سوال ہیں۔

1۔ جو کچھ ان دو عبارات میں درج ہے، کیا یہ حقیقت ہے؟ تصدیق کس سے کی جائے؟
2۔ اگر یہ حقیقت ہے تو احتجاج کس سے اور کیسے ہو؟
3۔ کیا یہ ظلم کا سلسلہ ایسے ہی جاری رہے گا یا۔۔۔۔۔؟؟؟

کسی کے پاس ہے ان سوالات کا جواب؟؟

تصحیح: میں نے پاسبان کے بارے میں لکھا تھا کہ شاید جماعتِ اسلامی کی بغل بچہ جماعت ہے لیکن کل ہی راستے میں وال چاکنگ دیکھ رہا تھا تو پتا چلا کہ جماعتِ اسلامی والی جماعت دراصل ’شباب ملی‘ ہے۔ یہ پاسبان کا نہیں پتا۔ ان عبارات کے ساتھ لکھا تھا: “پاسبان، صدر: الطاف شکور‘

خان اور نون غنہ

538 views September 13, 2008 | راہبر
No Gravatar

مجھ سے پچھلے دنوں کئی بار یہ سوال کیا گیا ہے کہ میں اپنے نام میں لفظ “خاں” نون غنہ سے کیوں لکھتا ہوں، “ن” کیوں نہیں لکھتا؟ ایک دوست نے تو کہا کہ ایسے نون گنجا لگتا ہے۔ میرے پاس اس کا جواب صرف یہ تھا کہ لکھا دونوں طرح سے جاتا ہے یعنی نون اور نون غنہ لیکن ہمارے خاندان میں نام کے ساتھ خان میں نون غنہ لگایا جاتا ہے اس لیے میں بھی ایسے ہی لکھتا ہوں۔

ہمارے دفتر میں ایک صاحب ہیں جنہیں ہم ماہر لسانیات کہتے ہیں۔ ان کا مشغلہ مطالعہ کرنا ہے۔ فرصت کے اوقات میں لغات اور قواعد کی کتب چھانتے رہتے ہیں۔ میں نے ان سے یہ ذکر کیا کہ خان میں نون غنہ لکھا جائے یا نون؟ تو انہوں نے جو جواب دیا اس کی منطق سمجھ میں آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گرچہ دونوں طرح سے لکھنا درست ہے لیکن نون غنہ کے ساتھ لکھنے کی وجہ فارسی زبان کا ایک قاعدہ ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب بھی حروف مدہ کے بعد نون ساکن آئے تو نون غنہ لکھا جاتا ہے اگر آگے حروفِ عطف یا حروفِ علت نہ ہو۔

حروف مدہ کیا ہیں؟
1۔ جب الف ساکن سے پہلے والے حرف پر زبر ہو (جو کہ عموما ہوتا ہے) تو وہ الف حروفِ مدہ میں شمار ہوتا ہے۔ مثلا با، سما، شاہ
2۔ جب ی ساکن سے پہلے والے حرف پر زیر ہو تو وہ ی حروفِ مدہ میں شمار ہوتی ہے۔ مثلا بڑی، گھڑی، لگی۔
3۔ جب واؤ ساکن سے پہلے والے حروف پر پیش ہو تو وہ واؤ بھی حروفِ مدہ کہلاتی ہے۔ مثلا روح، صور، نور

اب ان تمام حروف مدہ کے بعد نون غنہ آنے کی مثالیں دیکھیں۔
الف کے ساتھ: شاداں، فرحاں، سماں، حیراں
ی کے ساتھ: شیریں، نوریں، زیریں، داد و تحسیں
و کے ساتھ: آنسوؤں، حوروں

تاہم جب نون کسی لفظ کے ساتھ ملے گا تو نون غنہ نہیں لکھیں گے مثلا خاں صاحب سے خانصاحب، آں حضرت سے آنحضرت وغیرہ۔

تاہم یہ وضاحت ضروری ہے کہ اردو میں اس قاعدہ کی عموما پابندی نہیں کی جاتی اس لیے آپ کو اردو میں حروفِ مدہ کے بعد آنے والے نون میں نقطہ نظر آئے گا۔ سو، خان لکھنا بھی درست ہے اور خاں لکھنا بھی جو کہ فارسی قاعدے کے مطابق ہے۔

رمضان کی سختی

449 views September 13, 2008 | راہبر
No Gravatar

ماہِ رمضان کا پہلا عشرہ گزر چکا۔ آج بارہواں روزہ ہے یعنی دوسرے عشرے کو دوسرا دن۔ اس وقت کراچی والوں کا حال کراچی والے ہی جانتے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ پچھلے سال کے روزے نہایت سخت تھے۔ شدید گرمی، دھوپ اور لو کی وجہ سے برا حال ہوتا تھا۔ اتنے سخت روزے میں نے پہلی بار دیکھے تھے۔ اب کی بار میں سوچ رہا تھا کہ دن چونکہ گرمی کی طرف گئے ہیں اس لیے پچھلی دفعہ سے بھی زیادہ سخت روزے ہوں گے لیکن پہلا عشرہ بہت آرام سے گزر گیا۔ مناسب موسم رہا۔ میں شکر ادا کررہا تھا اللہ کا کہ اب کی بار پہلے جیسا نہیں مگر تین، چار دن سے جو حال ہے، اس کی میرے ہم شہر گواہی دیں گے۔

پرسوں درجہ حرارت 41.5 سینٹی گریڈ تھا، کل 42.2 اور آج 43 ڈگری ہونے کی پیشین گوئی ہے۔ :oops:دھوپ اتنی شدید کہ جسم جلنے لگے اور لو اس قدر کہ سانس لینا مصیبت۔ پنکھا گرم ہوا پھینک رہا ہے اور نہانے جائیں تو پانی بھی گرم۔ جب تک پانی جسم پر انڈیلتے رہیں، سکون سے ہوں لیکن بس باہر نکلتے ہی ایک منٹ میں پہلے کی طرح۔ اوپر سے کئی کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ اور وفاقی وزیر بجلی و پانی راجہ پرویز اشرف فرماتے ہیں کہ ملک سے لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کردیا گیا ہے۔ مبارک ہو! :evil:

آپ جتنی چاہیں کلیاں کریں، جتنا چاہیں نہائیں، فائدہ کچھ نہیں ہونے والا۔ کیا آپ جانتے ہیں، آپ کا اندرونی حال کیسا ہے؟ آئینے کے سامنے کھڑے ہوں، زبان باہر نکالیں اور دیکھیں۔۔۔۔ میری تو ابھی صبح صبح ہی بہت سفید ہورہی ہے۔ :sad:

صدائے احتجاج

446 views September 13, 2008 | راہبر
No Gravatar

کل جمعہ کی نماز پڑھ کر گھر جانے کے لیے بس میں بیٹھا تو ڈرائیور نے صدر ہی کے علاقے میں گاڑی ایک جگہ جاکر کھڑی کردی تو چلنے کا نام نہ لیا۔ پہلے تو سبھی مسافروں نے صبر و برداشت کا مظاہرہ کیا لیکن برداشت بھی کب تک کرتے۔ کوئی دس منٹ ہونے کو تھے۔ پہلے ایک صاحب نے کھڑکیاں بجائیں لیکن ڈرائیور ٹس سے مس نہ ہوا۔ پھر خاموشی چھائی رہی تو میرا پارہ بلند ہونے لگا۔ میں نے کھڑکیاں پیٹنا شروع کیں۔ دیکھا دیکھی اور بھی لوگوں نے یہی عمل دہرایا۔ ڈرائیور کافی دیر تک تو لاتعلق بنا بیٹھا رہا، پھر اس نے پیچھے مڑکر دیکھا تو سب چلائے کہ مسئلہ کیا ہے، گاڑی چلاؤ۔ لیکن اس پر جیسے کچھ اثر نہ ہوا اور وہ بڑبڑا کر خاموش ہوگیا۔ پھر کھڑکیاں پیٹنے کا عمل شروع ہوا۔تو ڈرائیور کہتا ہے کہ جب پچھلی گاڑی آئے گی تبھی چلاؤں گا۔ اب لوگوں کا غصہ بڑھا۔ آپ خود اندازہ کریں، شدید دھوپ اور لو، درجہ حرارت چالیس سینٹی گریڈ سے زیادہ، ایسے موسم میں روزہ داروں کا کیا عالم ہوگا۔ جس شے کو ہاتھ لگاؤ، جل رہی ہو۔
تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی تو میں نے سوچا کہ لوگ تو خاموش ہوگئے اور ڈرائیور بھی یہی سوچے گا کہ دو ٹکے کے جواب کے بعد اب ان کے پاس کچھ کہنے کو نہیں رہا۔ تب میں نے جو کھڑکی پیٹی تو اتنی زور سے اور اتنی دیر تک پیٹی کہ سب مجھے دیکھیں اور پھر ڈرائیور کو۔ آخر ڈرائیور نے بھی پیچھے مڑ کر دیکھا تو میں نے ٹھیک ٹھاک سنائی اور سناتا ہی رہا۔ میں لوگوں کو تو ڈرائیور کی دھنائی پر بھی راضی کررہا تھا پر کسی کا ایسا ارادہ نہیں تھا۔ ؛) آخر کوئی پندرہ منٹ رکے رہنے اور سارے مسافروں کی گالیاں سننے کے بعد اس نے گاڑی چلائی۔

اب جب کنڈیکٹر نے کرایہ لینا شروع کیا تو میرے ذہن میں ایک اور خیال آیا۔ کنڈیکٹر جب میرے پاس پہنچا اور کرایہ مانگا تو میں نے بڑے مزے سے اسے کہا کہ ابھی نہیں دے رہا، بعد میں دوں گا۔ پھر مانگا تو میں بولا کہ کہا نا، دیدوں گا پر ابھی نہیں دوں گا، صبر کرو! مجھے نارتھ کراچی جانا ہے، دیدوں گا آگے چل کر۔ پھر اس نے آس پاس کے مسافروں سے کرایہ لیا تو واپس میرے پاس آیا، میں نے اسے کہا کہ گاڑی چلانے میں تم نے اتنا انتظار کروایا، کرایہ تمہیں فورا سے دیدوں؟ اب تم بھی انتظار کرو۔ جیسے تم نے انتظار کروانے کے بعد گاڑی چلائی ہے اسی طرح میں بھی انتظار کروانے کے بعد دیدوں گا کرایہ۔ اب اس نے میرے برابر والے مسافر کی طرف دیکھا جیسے اس کی رائے پوچھ رہا ہو۔ کوئی لڑکا ہی تھا، کہتا ہے اسے کہ ٹھیک کر رہا ہے بالکل۔ وہ چپ کرکے چلا گیا۔

آگے چل کر مجھے تھوڑا رحم آیا تو میں اسے کرایہ دینے لگا۔ مسکراتے ہوئے کہتا ہے، رہنے دو یار، آگے چل کر ہی دیدینا۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے اور پیسے جیب میں رکھ لیے۔ پھر بعد میں وہ خود ہی آیا تو کرایہ مانگنے لگا۔ تب میں نے دیا اسے اور ساتھ میں کہہ بھی دیا کہ کیوں اپنی حرکتوں سے لوگوں کو غصہ دلاتے ہو۔۔۔ اس نے کچھ کہا نہیں جواب میں اور مسکرا کر چلا گیا۔

اب کوئی مجھ سے پوچھے کہ تمہارے ایسا کرنے سے فائدہ کیا ہوا تو میں کہوں کہ ہر کام میں فائدہ یا نقصان تلاش کرنے والا احمق ہے۔ جیسے آج کل کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چیف جسٹس کے بحال ہونے سے ہمیں کیا فائدہ؟ اس نے کونسا مہنگائی ختم کردینی ہے۔ تو میرے ساتھی! ہر چیز، ہر امر سود و زیاں کے اصول پر نہیں پرکھا جاتا۔ دنیا میں ایک چیز ہوتی ہے حق اور حق تلفی کہلاتی ہے نا انصافی اور ناانصافی کی وجہ سے بلند ہوتی ہے صدائے احتجاج۔ کچھ کام فائدے یا نقصان سے بالاتر ہوتے ہیں۔ وہ صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ آپ سامنے والے کو اس بات کا احساس دلائیں کہ وہ غلط ہے یا اس نے غلط کیا ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ اس نے غلط آپ کے ساتھ کیا ہے یا کسی اور کے ساتھ اور اس کا آپ کو کوئی فائدہ یا نقصان ہے یا نہیں۔ اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیے اور حق نہ ملے تو صدائے احتجاج بلند کیجئے۔ یہی زندہ قوموں کی نشانی ہے۔

صدرِ پاکستان۔ مبارک ہو!

423 views September 8, 2008 | راہبر
No Gravatar

آخرکار جناب آصف علی زرداری صدرِ پاکستان منتخب ہوگئے۔ ان کے چاہنے والوں کو بہت بہت مبارک اور نہ چاہنے والوں کو مشورہ کہ برا بھلا کہنے سے کچھ نہیں ہوگا، کیوں نہ سوچ میں کچھ تبدیلی لائیں۔ بہرحال، ایک فوجی صدر سے عوامی صدر بہتر ہے۔

آصف زرداری پر لاکھ الزامات سہی، لیکن غیر جانبداری سے دیکھئے تو اکثریت سیاسی مقدمات ہی کی نظر آتی ہے۔ رہی بات کرپشن کی تو آپ کو پاکستان کے ابتدائی دور کے قائدین کے علاوہ کون سا ایسا راہنما ملا ہے جس کے ہاتھ بالکل صاف ہوں۔ آصف زرداری کی کردار کشی کی مہم میں ملکی و غیر ملکی میڈیا کا بہت ہاتھ رہا۔ بہرحال! اب وہ چونکہ صدرِ پاکستان کے عہدے پر فائز ہوچکے ہیں تو امید ہے کہ پروپیگنڈے کے تسلسل میں کچھ کمی آئے گی۔

حیرت کی بات ہے کہ اب تک پاکستان کو جو بھی حکمران نصیب ہوئے، ان میں سے اکثر کے آنے پر مٹھائیاں اور جانے پر بھی مٹھائیاں تقسیم ہوئیں، عوام کی کثیر تعداد نے ان کے آنے کی خوشی منائی اور جانے کی بھی لیکن آصف زرداری آئے ہیں تو عوام کی اکثریت اداس اور مایوس ہے۔ خدا کرے کہ جس طرح ان کے آنے پر ردِ عمل خلافِ معمول ہوا ہے اسی طرح ان کے جانے پر بھی عوامی ردِ عمل خلافِ معمول ہو اور جب وہ اپنی صدارت کی مدت پوری کرکے ایوانِ صدر سے رخصت ہوں تو قوم مٹھائیاں باٹنے اور خوشی منانے کے بجائے رنجیدہ ہو اور تمنا کرے کہ اسے آصف زرداری کا دورِ صدارت مزید نصیب ہو۔

اس وقت تمام نظریں پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف لگی ہیں۔ ملک کی تمام تر صورتحال پیپلز پارٹی کے ذمہ ہے۔ ملک کا صدر بھی ان کا ہے اور وزیر اعظم بھی یہاں تک کہ چار میں سے تین صوبوں میں حکومت بھی انہی کی ہے۔ یقینا پیپلز پارٹی کے قائدین کو اس حقیقت کا واضح ادراک ہوگا اور وہ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ کیونکہ اگر اب کے پیپلز پارٹی نے عوام کو ریلیف نہیں دیا تو نہ صرف یہ بڑی جماعت اپنا وقار اور اعتماد کھو بیٹھے گی بلکہ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہوجائے گی۔

سو، تمام تر نیک خواہشات کے ساتھ۔۔۔ جناب آصف علی زرداری صاحب کو صدرِ پاکستان کا عہدہ بہت بہت مبارک ہو۔

اصل بات

357 views September 6, 2008 | راہبر
No Gravatar

ٹھنڈی خوشگوار ہوائیں چلتی ہوئی۔۔۔ ابر آلود موسم۔۔۔ پُر کیف فضا۔۔۔ فضا میں بچوں کے قہقہے گونجتے۔۔۔ ہوا کے جھونکے کانوں میں سرگوشیاں کرتے۔۔۔ ہلکی ہلکی بوندیں ٹپکتی ہوئیں۔۔۔ کتنا رومانوی موسم ہے۔۔۔ کتنا خوبصورت اور پُر فزا منظر ہے۔۔۔ لیکن اس سارے منظر میں ایک شخص ایسا ہے جو اس سین میں کہیں فِٹ نہیں بیٹھتا۔۔۔ جس کے چہرے کے تاثرات اس کے اردگرد کے ماحول کا ساتھ نہیں دیتے۔۔۔ جس کی حرکات و سکنات اپنے آس پاس کے عالم سے لاپرواہ نظر آتی ہیں۔۔۔ اسے باہر کے خوشگوار موسم سے کوئی غرض نہیں۔۔۔ باہر کے پُرکیف جہان سے ذرا سروکار نہیں۔۔۔ کیونکہ اس کے اندر آگ ہے۔۔۔ اس کے دل میں طوفان ہے۔۔۔ اس کے ذہن میں آدھی رات جیسی تاریکی اور اندھیرا ہے۔۔۔ وہ ایک شخص۔۔۔ تنہا۔۔۔ ایسا کہ اگر روئے تو آنسو صاف کرنے والا کوئی نہیں۔۔۔ ایسا کہ لڑکھڑا جائے تو سنبھالنے والا کوئی نہیں۔۔۔ ایسا کہ گر پڑے تو ہاتھ بڑھا کر اٹھانے والا کوئی نہیں۔۔۔ اسے باہر پڑتی پھوار کا احساس نہیں کہ اس کی آنکھوں سے سیلِ رواں جاری ہے۔۔۔

ہنستے مسکراتے لوگوں میں تو سب مگن ہوجاتے ہیں۔۔۔ سب ہی کی توجہ ان کی طرف چلی جاتی ہے۔۔۔ لیکن اس منظر کا مذاق اڑاتا انسان کون دیکھے۔۔۔ اس بکھرتے، ٹوٹتے شخص کی طرف کون ہاتھ بڑھائے۔۔۔ اس تنہا شخص کو کون اپنا ساتھ دے۔۔۔ اس آنسو بہاتے انسان کے آنسو کون صاف کیے۔۔۔ اس پریشان حال آدمی کے چہرے پر مسکراہٹ کون بکھیرے؟ اصل بات یہ ہے!!!

کیا تمہیں یاد ہے؟

395 views September 2, 2008 | راہبر
No Gravatar

سنو۔۔۔! کیا تمہیں یاد ہے۔۔۔۔۔!!!

آج۔۔۔
۔۔۔۔ ہمارے ساتھ کو پورے تین سال
۔۔۔۔ ہماری دوستی کو دو سال
اور
۔۔۔۔ ہماری محبت کو ایک سال
مکمل ہوگیا۔

لیکن۔۔۔!!
یہ سال۔۔۔۔ یہ سال شاید جدائی کا ہے۔۔۔ :chup:
:F :break